فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع - ردِ رافضیت |…

فصل: ....بعض فقہی مسائل پر شیعہ کی تشنیع

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 9

ایسے ہی لواطت کا مسئلہ بھی ہے؛ اکثر ائمہ لواطت کنندہ کے مطلق قتل کے قائل ہیں ۔اگرچہ وہ شادی شدہ نہ بھی ہو۔ بعض کے نزدیک اس پرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع منعقد ہوچکا ہے۔اہل مدینہ جیسے: امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ امام احمد و شافعی رحمہما اللہ سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے۔اس کے مطابق اگر لواطت کرنے والا بالغ ہو تو اسے قتل کیاجائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ لواطت کی حد وہی ہے جو زنا کی ہے،یہ امام ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا قول ہے؛اور امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لواطت کرنے والا زانی کی طرح ہے۔ اوریہ بھی کہا گیا ہے :مفعول بہ کو مطلق طور پر قتل کیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیاہے : اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاعل کے اعتبار سے اس میں فرق کیا جائے گا۔ حد شرعی کے اسقاط میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ منفرد ہیں [اور اس مسئلہ میں دوسرا کوئی امام آپ کا ہم خیال نہیں ]۔

اسی طرح مشرق میں سکونت رکھنے والی عورت کے بچے کامغربی آدمی کے ساتھ الحاق بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا انفرادی مسلک ہے اور دوسرے ائمہ اس کی تائید نہیں کرتے۔ دراصل امام صاحب کا نقطہ نظریہ ہے کہ نسب کا اثبات صرف میراث حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے،اس مقصود کے مطابق وراثت تقسیم کی جائے گی ۔ جیسا کہ جب دوعورتیں ایک بچے کی وراثت کادعوی کریں تو وہ وراثت ان دونوں کے درمیان تقسیم کی جائے گی؛ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ اندونوں عورتوں سے پیدا ہوا ہے۔

ایسے ہی جب کوئی انسان اپنی بیوی کو وطی سے پہلے طلاق دیدے؛ توبچے کو اس کی طرف منسوب کیا جائے گا؛اس سے مراد یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ بچہ اس کے پانی سے پیدا ہوا ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ کے مذہب کی حقیقت یہ ہے کہ آپ نسب کے ثبوت کے لیے حقیقی ولادت کو شرط نہیں مانتے ۔ بلکہ آپ کے نزدیک بیٹا خاوند کا ہوگا۔ جو کہ اصل میں صاحب فراش ہے ۔حالانکہ اسے قطعی یقین ہے کہ یہ عورت اس سے حاملہ نہیں ہوئی ۔[اصل میں امام صاحب اس حدیث کے مطابق فیصلہ دے رہے ہیں جوحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے: بچہ چارپائی والے کا ہوگا؛ اورزنا کارکے لیے پتھر ہوں گے۔‘‘ مختصر الطحاوی۔]

یہ بالکل ویسے ہی ہے جب کوئی انسان اپنی دو بیویوں میں سے کسی ایک کو طلاق دے ‘اور خود مرجائے ؛ یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے کونسی بیوی کو طلاق دی ہے ؟ تو اس کی وراثت دونوں بیوں میں تقسیم کی جائے گی۔جبکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : دونوں بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالاجائے گا۔اورامام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں توقف کیا ہے ‘ ان کے نزدیک کوئی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک معاملہ واضح نہ ہوجائے یا پھر دونوں آپس میں صلح کرلیں ۔جبکہ جمہور علماء کرام رحمہم اللہ [اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی] مخالفت کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے جب یہ ثابت ہوجائے کہ بچہ اس کا نہیں ہے تو پھر نہ ہی اس سے نسب ثابت ہوگا اورنہ ہی کوئی دوسرا حکم ۔ جب کہ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بچے کی نفی کے باوجود بعض احکام ثابت ہوتے ہیں ۔

یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کا صلبی بچہ ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ فقہی مسائل غلط ہیں تو اس میں شبہ نہیں کہ جمہور ائمہ ان کے خلاف ہیں اور اگر درست ہیں تو اقوال اہل سنت سے خارج نہ ہوں گے۔

جیسا کہ امام صاحب رحمہ اللہ نے یہ بھی کہاہے کہ : اگر کوئی انسان اپنے سے بڑی عمر کے غلام سے اگر یہ کہے کہ تم میرے بیٹے ہو۔ تواسے اس غلام کے آزاد کرنے سے کنایہ سمجھا جائے گا؛ اس سے نسب ثابت نہیں ہوگا۔ جبکہ جمہور علماء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ ایسا اقرار ہے جس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہے ۔ اس کی بنا پر کوئی بھی حکم ثابت نہیں ہوگا۔پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جو الزام لگایا جارہا ہے ‘اگر وہ حق ہے تو جمہور اہل سنت آپ کی موافقت کرتے ہیں ۔اوراگر جھوٹ و باطل ہے تو اس سے باقی لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔حالانکہ الزام لگانے والا اس خیال سے الزام لگاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں کہ : یہ اولاد اسی آدمی کے پانی سے ہے ؛ اگرچہ اس کا اپنی بیوی سے اجتماع نہ بھی ہوا ہو۔ایسی بات تو انتہائی درجہ کا بیوقوف انسان بھی نہیں کہہ سکتا۔توپھر ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق اس قسم کے الزام کو کیوں سچ سمجھا جاسکتا ہے ۔ مگر آپ کایہ خیال ضرور ہے کہ آپ ولادت کا نہیں ؛ بلکہ نسب کا حکم لگاتے ہیں ۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں آپ منفرد ہیں ؛ جمہور نے آپ کی مخالفت کی ہے ‘ اور اس قول کو مبنی بر خطاء کہا ہے ۔ بعض علماء کرام رحمہم اللہ نے شوہر کے لیے وطی ممکن ہونےکی صورت میں نسب ثابت ہونے کا حکم لگایا ہے؛جیسے امام شافعی اور امام احمد کے بہت سارے ساتھی یہی کہتے ہیں ۔ رحمہم اللہ ۔ان میں سے بعض یہ بھی کہتے ہیں : نسب اس وقت تک ثابت نہیں مانا جائے گا جب تک ان دونوں کے مابین خلوت [دخول] حاصل نہ ہوجائے۔یہ امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کی رائے اور امام احمد رحمہ اللہ کا دوسرا قول ہے ۔

[نبیذ کا مسئلہ اوراہل سنت پر الزام کا جواب:]

ایسے ہی نبیذ کو حلال کہنے کا مسئلہ بھی ہے ۔جمہور اہل سنت و الجماعت اسے حرام قرار دیتے ہیں ۔ اور اس میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں ؛ یہاں تک کہ جو انسان تاویل کی وجہ سے بھی اسے پی لے تو اس پر شراب پینے والے کی حد لگاتے ہیں ۔نبیذ پینے والے کے فاسق ہونے کے بارے میں دو قول ہیں :

۱۔ ایسا انسان فاسق ہے؛یہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے ‘اورامام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے۔

۲۔ اس کو فاسق نہیں کہا جائے گا ؛ یہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں یہ منقول ہے ۔

محمد بن الحسن رحمہ اللہ نبیذ کو حرام کہتے ہیں ۔یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے اہل انصاف کے ہاں مختار قول ہے؛ جیسے ابو اللیث سمرقندی رحمہ اللہ وغیرہ۔

صفحہ 3 از 9