خلافت صدیقی سے متعلق ابن حزم رحمہ اللہ کا زاویہ نگاہ - ردِ…

خلافت صدیقی سے متعلق ابن حزم رحمہ اللہ کا زاویہ نگاہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

’’میں نے ارادہ کیا تھا کہ تمہارے والد اور بھائی کو بلا کر ایک عہد نامہ لکھ دوں مبادا کوئی کہنے والا یہ کہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حقدار ہوں یا کوئی آرزو کرنے والا(خلافت کی) تمنا کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘[صحیح بخاری۔ کتاب المرضی۔ باب ما رخص للمریض ان یقول انی وجع (حدیث: ۵۶۶۶)۔]

’’ایک روایت میں ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اور انبیاء کرام ابو بکر کے علاوہ کسی کو خلیفہ نہیں مانتے ۔‘‘

ابو حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس امت پر خلیفہ مقرر کئے جانے میں نص جلی ہے ۔‘‘

[[شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے یہ مستفاد نہیں ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرما دیا تھا۔ البتہ اس حدیث کے پیش نظر آپ جانتے تھے کہ امت آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کرے گی اور آپ نے اس پر اظہار پسندیدگی فرمایا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نص جلی سے سکوت اختیار کرکے صرف امت کے اجتماع پر اکتفاء فرمایا تھا۔‘‘]]

قائلین عدم استخلاف کے دلائل:

امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ جن لوگوں کی رائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درج ذیل قول پیش کرتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:’’اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کردوں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو مجھ سے افضل تھے ایسا ہی کیا تھا اور اگر مقرر نہ کروں تو جو مجھ سے بہتر ہستی تھے ‘ انہوں نے بھی کسی کو خلیفہ مقررنہیں کیا۔‘‘[یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ میرے پیش نظر ہے]۔‘‘ [صحیح بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف (حدیث: ۷۲۱۸) صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ، باب الاستخلاف و ترکہ (حدیث :۱۸۲۳)۔]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ: ’’اگر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو خلیفہ بنانے والے ہوتے تو کسے یہ منصب تفویض فرماتے؟‘‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواباً فرمایا:’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۵)۔ حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا اور ان سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنی حیات طیبہ میں کسی کو خلیفہ بناتے تو کس کو بناتے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد کس کو؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کس کو بناتے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو، پھر اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں ۔]

محدث ابن حزم رحمہ اللہ کا قول ہے:

’’یہ محال ہے کہ حضرت عمر وعائشہ رضی اللہ عنہما کا قول اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم دونوں مرفوع احادیث کے خلاف ہوں ۔اور اس کے مقابلہ میں حضرت عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماسے ایسی موقوف روایات پیش کی جائیں جن سے کوئی واضح اور ظاہری حجت نہ حاصل ہوتی ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اس روایت سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ مقرر کیے جانے کا حکم مخفی رہا۔جیسے دیگر کئی ایک احکام شرعی آپ مخفی رہے ‘جیسے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کرنے کا حکم؛ وغیرہ ۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں کوئی تحریری دستاویز تحریر نہیں کی تھی۔‘‘ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کے خلیفہ بنائے جانے کے لیے کوئی تحریری دستاویز موجود نہ تھی؛مگر اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت موجود تھی۔

کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ : حجت تو ان دونوں صحابہ کی روایت میں ہے ‘ ان کے قول میں نہیں ؟

[[امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس ضمن میں فرماتے ہیں :]]

’’حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ مقرر کئے جانے پر اثبات میں کلام دیگر کئی مواقع پر بڑی تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں پر مقصود آپ کی خلافت کے بارے میں لوگوں کی آراء کا بیان کرنا ہے ۔ کیا اس بارے میں کوئی نص خفی یا جلی وارد ہوئی ہے ؟ اور اس سے خلافت ثابت ہوتی ہے؟یا پھر اہل حل و عقد کے اختیار و انتخاب سے خلیفہ مقرر کئے گئے ؟

یہ بات بہت واضح کی جاچکی ہے کہ بہت سارے سلف و خلف نے نص جلی یا خفی کا کہا ہے ۔ توپھر اس طرح رافضی کی اہل سنت و الجماعت پر قدح باطل ہوگئی۔رافضی کا کہنا کہ[ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ]: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو امام مقرر نہیں کیا تھا اور آپ بلا وصیت فوت ہو گئے۔‘‘[مطلق طور پر یہ بات کہنا غلط ہے]

اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہ قول تمام لوگوں کا نہیں ۔اگریہ حق ہے تو بعض لوگوں نے کہا ہے ۔ اور اگر حق اس کے خلاف ہے تو بعض نے اس طرح بھی کہا ہے۔ پس دونوں طرح سے حق اہل سنت والجماعت کے عقیدہ سے باہر نہیں ہے۔


صفحہ 2 از 2