حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 4 از 4
2: پھر یہ کہنا کہ امام جلال الدین سیوطیؒ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے حوالے سے خطیب بغدادی سے اس روایت کا ایک شاہد نقل کیا محذ علم تخریج اور علم حدیث سے نہ واقفیت کے سوا کچھ نہیں۔
سیدہ عائشہؒ کے حوالے سے اس روایت کا شاہد ذکر کرنا امام سیوطیؒ کا وہم ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ امام سیوطیؒ کی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنے والے حضرات پر یہ بات عیاں ہے کہ امام سیوطیؒ سے ایسے اوہام واقع ہوتے رہتے ہیں۔
امام سیوطیؒ کے وہم پر دلیل یہ ہے کہ یہ روایت نا تو امام خطیب بغدادیؒ کی کسی کتاب میں موجود ہے اور نہ ہی کسی دوسرے محدث کی کسی کتاب میں موجود ہے اور نہ ہی کسی دوسرے محدث نے اس روایت کو ان الفاظ کے ساتھ سیدہ عائشہؓ سے بیان کیا ہے امام سیوطیؒ سے پہلے کسی شخص نے اس روایت کا سیدہ عائشہؓ سے ذکر نہیں کیا اور نہ ہی یہ کسی کتاب میں مذکور ہے۔
امام سیوطیؒ کے اوہام پر مثالیں:
1: ایک مشہور روایت: الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الأُمَّهَاتِ۔
ترجمہ: یعنی کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔ 
کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی کتاب میں نقل کیا اور پھر اس کو صحیح مسلم کی طرف منسوب کر دیا ملاحظہ ہو:
حديث الجنة تحت أقدام الأمهات مسلم من حديث أنسؓ۔
(كتاب الدرر المنتثرة فی الأحاديث المشتهرة: صفحہ 102)
حالانکہ اس روایت کا وجود صحیح مسلم تو کیا پوری کتب ستہ میں نہیں ہے۔
علامہ عبدالرؤف مناوی شافعیؒ م1031ھ نے امام سیوطیؒ کے اس کلام پر تعجب کا اظہار کیا:
وأعجب من ذلك أن المصنف فی الدرر عزاه إلى مسلم باللفظ المذكور من حديث النعمان بن بشيرؓ فيا له من ذهول ما أبشعه۔
اور اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ مصنف نے كتاب الدرر المنتثرة میں اس حدیث کو مسلم کی طرف مذکورہ لفظ کے ساتھ سیدنا نعمان بن بشیرؓ کی حدیث سے منسوب کیا ہے یہ ان کی بہت بھیانک چوک ہے۔
(كتاب فيض القدير: جلد، 3 صفحہ، 361)
2: ایک اور روایت: سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ۔
یعنی عوام کا حکمران ان کا خادم ہے اس روایت کو امام جلال الدین سیوطیؒ سنن ابنِ ماجہ کی طرف منسوب کیا ملاحظہ ہو:
حديث سيد القوم خادمهم ابنِ ماجه عن أبی قتادةؓ۔
(كتاب الدرر المنتثرة فی الأحاديث المشتهرة: صفحہ، 131)
حالانکہ اس روایت کا وجود بھی سنن ابنِ ماجہ میں تو کیا پوری کتب ستہ میں نہیں ہے بلکہ مصنف نے خود اپنی دوسری کتاب میں اس کو خطیب بغدادیؒ کی تاریخ بغداد کی طرف منسوب کیا جو کہ درست ہے یہ روایت تاریخِ بغداد میں ہے اور کچھ دیگر کتب میں لیکن سنن ابنِ ماجہ یا کتب ستہ میں سے کسی کتاب میں نہیں۔
(كتاب الجامع الصغير وزيادته: حدیث، 7066)
3: اسی طرح امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:
وَقَدْ صَحَّحَ الْحَاكِمُ فِی مُسْتَدْرَكِهِ حَدِيثَ النَّهْی عَنْ تَعْلِيمِ النِّسَاءِ سُورَةَ يُوسُفَ۔
امام حاکمؒ نے اپنی مستدرک میں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم نہ دینے کے متعلق حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
(كتاب الإتقان فی علوم القرآن: جلد، 3 صفحہ، 231)
جب کہ اس روایت کا وجود مستدرک للحاکم میں تو کیا پورے ذخیرہ احادیث میں نہیں حدیث کی کسی کتاب میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں جس میں سورہ یوسف کی خواتین کو تعلیم دینے کی نفی ہو۔
امام شمس الدین ذہبیؒ نے مستدرک للحاکم کی تلخیص لکھی اگر ایسی کوئی روایت مستدرک میں ہوتی تو وہ ذکر کرتے لیکن انہوں نے ایسی کسی روایت کا ذکر نہیں کیا امام ابن ملقنؒ٬ امام عراقیؒ٬ علامہ عبدالرؤف مناویؒ ان میں سے کسی امام نے مستدرک للحاکم کے حوالے سے اس روایت کا تذکرہ نہیں کیا اور ذخیرہ احادیث میں اس کا وجود نہیں۔
امام جلال الدین سیوطیؒ:  رفع الله درجتك فی أعلى عليين کے اوہام پر ایسے درجنوں دلائل موجود ہیں لیکن تحریر کی مزید طوالت کے ڈر سے تین پر ہی اکتفاء کیا انہی اوہام کی طرح ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے خطیب بغدادیؒ کے حوالے سے اس روایت کا شاہد ذکر کرنا بھی امام جلال الدین سیوطیؒ کا وہم ہے کیونکہ ام المؤمنینؓ سے اس روایت کا ذکر نہ ہی امام خطیب بغدادیؒ کی کسی کتاب میں ہے اور نہ ہی ذخیرہ احادیث میں کہیں اور نہ ہی کسی محدث نے امام جلال الدین سیوطیؒ سے پہلے اس کو ام المؤمنینؓ سے نقل کیا۔
خلاصہ کلام:
پوری تحقیق کا حاصل کلام یہ ہوا کہ زیرِ بحث اثر سنداً متناً موضوع من گھڑت ہے اس کی سند میں کذاب راوی ہے جس کی وجہ سے یہ موضوع ہے جب کہ متن بھی صحیح آثار کے مخالف ہونے کی بناء پر موضوع ہے اور جو بعض جہلاء اس روایت کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے بے بنیاد دلائل دیتے ہیں ان کا بھی تشفی بخش جواب دلائل کی روشنی میں اوپر عرض کیا لہٰذا اس روایت کو نبیﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا حرام ہے۔
فقـط واللہ ورسولہٗ اعلم بالصواب۔
خادم الحدیث النبویﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی:
(مؤرخہ 2 محرم الحرام 1444ھ)

صفحہ 4 از 4