حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 3 از 4
ترجمہ: حسن بیان کرتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے وصیت فرمائی کہ انہیں غسل ان کی زوجہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ دیں گی۔
6: أَخْبَرَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍؓ غَسَّلَتْهُ أسماء بنتِ عميسؓ۔
ترجمہ: امُ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو غسل سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے دیا۔
(كتاب الطبقات الكبرىٰ ط العلمية: جلد، 8 صفحہ، 221)
(كتاب الطبقات الكبرىٰ ط العلمية: جلد، 3 صفحہ، 152)
امام ابنِ الجوزیؒ م597ھ موضوع حدیث کے قرائن بیان فرماتے ہیں:
إذا رأيت الحديث يباين المعقول أو يخالف المنقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع۔
ترجمہ: جب تم کسی حدیث کو دیکھو کہ وہ معقول سے ٹکراتی ہو یا منقول کے خلاف ہو یا اصول سے مناقص ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔
امام ابنِ الجوزی کے اس بیانیہ کو محدثین نے قبول فرمایا لیکن فی الوقت ہمارا تعلق امام ابنِ الجوزیؒ کے بیان کردہ دوسرے قرینہ سے ہے منقول کے خلاف ہو۔
یعنی اس باب میں وارد شدہ حسن صحیح احادیث کے خلاف ہو۔
(كتاب الموضوعات لابنِ الجوزی: جلد، 1 صفحہ، 106)
(كتاب تدريب الراوی فی شرح تقريب النواوی: جلد، 1 صفحہ، 327)
یہی اصول امام احمد رضا خان بریلویؒ بھی بیان فرماتے ہیں:
موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون (1) قرآنِ عظیم (2) سنتِ متواترہ (3) یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ (4) یا عقل صریح (5) یا حسن صحیح (6) یا تاریخ یقینی کے ایسا مخالف ہوکہ احتمالِ تاویل و تطبیق نہ رہے۔
( فتاوی رضویہ: جلد، 5 صفحہ، 462)
امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ نے اس اصول کا استعمال بھی کیا چنانچہ فرماتے ہیں:
رہا معاملہ حدیث فقر میرا فخر ہے اور اس پر میں فخر کرتا ہوں کا تو یہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے کیونکہ آپ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے جیسے کہ مالداری کے فتنہ سے پناہ مانگتے۔
( فتاوی رضویہ: جلد، 14 صفحہ، 632)
صحیح حدیث میں وارد ہوا کہ نبیﷺ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ 
(صحیح بخاری: حدیث، 6377) 
جب کہ موضوع روایت میں فقر کو نبیﷺ کا فخر بتایا جا رہا ہے تو امام احمد رضا خانؒ نے اس روایت کو صحیح روایت کے مخالف ہونے کی وجہ سے موضوع قرار دیا جو کہ اصول پر بلکل درست ہے۔
بعض شبہات کا ازالہ:*ل
کچھ جہلاء اس روایت کے موضوع ہونے پر اتنے اظہر من الشمس دلائل دیکھنے کے باوجود بھی حد درجہ کمزور بنیادوں پر قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
1: اس روایت کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی کتاب الخصائص الكبرى میں نقل کیا اور امام سیوطیؒ نے شرط لگائی ہے کہ ان کی یہ کتاب موضوع احادیث سے پاک ہے۔
2: اس روایت کا ایک شاہد سیدہ عائشہؓ سے خطیب بغدادیؒ کے حوالے سے امام سیوطیؒ نے نقل کیا۔
الجواب وباللہ التوفیق:
1: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امام سیوطیؒ کی شرط کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ آپ نے اپنی اس کتاب میں ان روایات کو بھی شامل کر دیا جن کو آپ نے اپنی دوسری کتاب ذيل اللآلئی المصنوعة میں موضوع قرار دیا ہے محققین کی اس پر تصریحات موجود ہیں:
وفی الخصائص الكبرى أحاديث واهية وموضوعة نبه على بعضها فی ذيل اللآلئى فالسيوطیؒ أخل بشرطه فی الخصائص الكبرى جزما۔
ترجمہ: اور خصائص کبریٰ میں واہی اور موضوع روایات ہیں جن میں سے بعض ذيل اللآلئی المصنوعة
میں مذکور ہیں امام سیوطیؒ نے واضح طور پر خصائص کبریٰ میں اپنی شرط کی خلاف ورزی کی ہے۔
(تنزيه الشريعة المرفوعة: جلد، 1 صفحہ، 326 حاشيہ)
خصائص الکبریٰ کی طرح امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی آخری کتاب الجامع الصغیر میں بھی یہی شرط لگائی تھی کہ اس کتاب میں موضوع احادیث نقل نہیں کریں گے مگر اس میں بھی سینکڑوں موضوع احادیث نقل کی علامہ ابوالحسنات عبدالحئی لکھنوی حنفیؒ م1304ھ فرماتے ہیں:
والأحاديث الموضوعة التی وقعت للحافظ السيوطیؒ فی الجامع الصغير كثيرة غير قليلة كما سيأتی بيان عددها وبعضها قد حكم السيوطیؒ نفسه بوضعه فی كتابه: ذيل اللآلئی۔
ترجمہ: حافظ سیوطیؒ سے جامع صغیر میں چند نہیں بلکہ کثیر موضوع احادیث وارد ہوئی ہیں جیسا کہ تعداد میں بیان کیا جائے گا اور ان میں سے بعض تو ایسی ہیں جن کو خود امام سیوطی نے اپنی کتاب ذيل اللآلئی میں منگھڑت قرار دیا۔
(الأجوبة الفاضلة للأسئلة العشرة الكاملة: صفحہ، 126)
علامہ احمد بن صدیق الغماری المالکیؒ م1320ھ نے پوری کتاب لکھی بنام المغير على الأحاديث الموضوعة فی الجامع الصغير۔
جس میں انہوں نے امام سیوطیؒ کی کتاب جامع صغیر سے 456 موضوع روایات نقل کیں۔
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ امام سیوطیؒ کی شرط کا کوئی اعتبار نہیں آپ نے اپنی مشروط کتب میں بھی سینکڑوں موضوع احادیث شامل کیں رفع الله درجتك فی أعلىٰ عليین۔
دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ اگر محدثین کی شرائط پر ہی احادیث کی صحت اور ضعف کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر یہ لازم آئے گا کہ مانا جائے۔
صحیح ابنِ حبان
صحیح ابنِ خزیمہ
مستدرک للحاکم
اور ان جیسی وہ تمام کتب جن کے مصنفین نے اپنی کتابوں میں صحیح احادیث لانے کی شرط لگائی ان کتب میں تمام کی تمام احادیث صحیح ہیں حالانکہ کہ اہلِ علم جانتے ہیں کہ ان کتب میں ضعیف٬ ضعیف جداً٬ موضوع ہر قسم کی روایات موجود ہیں۔
صرف امام شمس الدین الذہبیؒ ہی کی مستدرک للحاکم پر تلخیص پڑھ کر دیکھ لیں وہ درجنوں احادیث جن کو امام حاکمؒ نے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کی شرط پر صحیح قرار دیا امام ذہبیؒ نے ان کو موضوع من گھڑت قرار دیا۔
لہٰذا محدث کا حکم اور اس کی شرط تب ہی فائدہ دے گی جب روایت کے سند و متن میں علت قادحہ واقع نہ ہو . جب کہ ہم اوپر تمام دلائل کے ساتھ ثابت کر آئے کہ زیربحث روایت سنداً متناً اصول محدثین پر موضوع ہے لہٰذا امام سیوطیؒ کا اس کو خصائص الکبریٰ میں نقل کرنا انکا تسامح ہے اگر وہ اس پر صحت کا بھی حکم لگا دیتے تب بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ روایت اصول محدثین پر موضوع ہے۔
صفحہ 3 از 4