حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 2 از 4
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِج، إِجَازَةً، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَتِيقِی، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزَّيَّاتِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسىٰ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ، حَدَّثَنِی أَبُو طَاهِرٍ الْمَقْدِسِی عَنْ عَبْدِ الْجَلِيلِ الْمُرِّی، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِی، عَنْ علیؓ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بکرؓ الْوَفَاةُ أَقْعَدَنِی عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ لِی: يَا علیؓ إِذَا أَنَا مُتُّ فَغَسِّلْنِي بِالْكَفِّ الَّذِي غَسَّلْتَ بِهِ رَسُولَ اللہﷺ وَاذْهَبُوا ابی إِلَى الْبَيْتِ الَّذِی فِيهِ رَسُولُ اللہﷺ فَاسْتَأْذِنُوا، فَإِنْ رَأَيْتُمُ الْبَابَ قَدْ فُتِحَ فَحُطُّونِی وَإِلا فَرُدُّونِی إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ قَالَ علیؓ فَغُسِّلَ وَكُفِّنَ، وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ بَادَرَ إِلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِﷺ‎ هَذَا أَبُو بکرؓ يَسْتَأْذِنُ، فَرَأَيْتُ الْبَابَ قَدِ انْفَتَحَ فَسَمِعْتُ قَائِلا يَقُولُ: أَدْخِلُوا الْحَبِيبَ إِلَى حَبِيبِهِ فَإِنَّ الْحَبِيبَ إِلَى الْحَبِيبِ مُشْتَاقٌ۔
(أحاديث منتخبة من مشيخة ابنِ كليب: رقم 18)
اس سند میں بھی وہی ابو طاہر المقدسی کذاب راوی موجود ہے ہماری تحقیق میں اس کی دو ہی اسناد تھیں دونوں میں کذاب راوی موجود ہے لہٰذا عند التحقیق باتصریح ابنِ حجر عسقلانیؒ یہ روایت باطل اور موضوع ہے اس کو نبیﷺ کی طرف ہرگز منسوب نہ کیا جائے۔
 کذاب راوی کی روایت موضوع ہوتی ہے۔
امیر المؤمنین فی الحدیث حجۃ اللہ فی الارضین حافظ الدنیا شیخ الاسلام ابنِ حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
فالقسمُ الأوَّلُ، وهُو الطَّعْنُ بكَذِبِ الرَّاوی فی الحَديثِ النبوی هو المَوضوعُ۔
ترجمہ: پس قسمِ اول وہ طعن ہے جو حدیثِ نبویﷺ میں راوی کے جھوٹ بولنے کے بارے میں ہے ایسے طعن والے راوی کی روایت موضوع ہے۔
(كتاب نزهة النظر فی توضيح نخبة الفكر عتر: صفحہ، 89)
امام تقی الدین محمد آفندی برکوئ حنفیؒ م981ھ فرماتے ہیں:
أما كذب الراوی: فهو أن يكون ثابت الكذب عمداً فی الحديث النبوی فإذا ثبت كذبه فی حديث من الأحاديث فهو مطعون بالكذب، وحديث الراوی المطعون بالكذب سواء كان كذبه فه أو فی حديث آخر يسمىٰ موضوعاً ومختلقاً وليس فی الحديث الموضوع شرط: أن یكون الكذب والوضع فيه بعينه، والراوی المتعمد بالكذب فی الحديث النبوی، وإن وقع الكذب منه فی مدة عمره مرة واحدة فی واحد لم يقبل حديثه وإن تـاب وأحسن حاله۔
ترجمہ: جہاں تک راوی کے جھوٹ کا تعلق ہے تو وہ یہ کہ اس کا حدیثِ نبویﷺ میں قصداً جھوٹ بولنا ثابت ہو جائے اگر اس کی بیان کردہ احادیث میں سے کسی ایک حدیث میں بھی اس کا جھوٹ بولنا ثابت ہو جائے تو وہ راوی کذاب قرار دیا جائے گا اور کذاب راوی کی حدیث کو موضوع بناوٹی قرار دیا جائے گا خواہ اس کا جھوٹ بولنا جس حدیث میں ثابت ہے وہ روایت ہو یا کوئی دوسری روایت ہو۔
اور موضوع حدیث کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ موضوع اسی روایت کو کہا جائے گا جس میں راوی کا بعینہ جھوٹ بولنا یا روایت کو گھڑنا ثابت ہو جائے وہ راوی جو جان بوجھ کر حدیث نبویﷺ میں جھوٹ بولے اگر اس نے زندگی میں ایک بار بھی حدیث نبویﷺ میں جھوٹ بولا تو اس کی کوئی بھی حدیث قبول نہیں کی جائے گی اگرچہ وہ توبہ کرلے اور اس کی حالت سنور جائے۔
(مقدمة فی أصول الحديث للبركوی: صفحہ، 61)
اس روایت کا متن بھی منکر باطل ہے۔
صحیح آثار سے ثابت ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کو غسل آپؓ کی زوجہ محترمہ سیدہ أسماء بنتِ عميسؓ نے دیا تھا ملاحظہ ہو:
وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِی بَكْرٍؓ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍؓ غَسَّلَتْ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَؓ حِينَ تُوُفِّی، ثُمَّ خَرَجَتْ فَسَأَلَتْ مَنْ حَضَرَهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ. فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ وَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ شَدِيدُ الْبَرْدِ، فَهَلْ عَلَیؓ مِنْ غُسْلٍ؟ فَقَالُوا: لَا۔
ترجمہ: سیدہ اسماء بنتِ عميسؓ نے اپنے شوہر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو غسل دیا جب ان کی وفات ہوئی پھر وہ باہر نکلیں اور موجودہ مہاجرین سے پوچھا کہ میں روزے سے ہوں اور آج سخت سردی ہے تو کیا میرے لئے غسل کرنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ نہیں۔
(كتاب موطأ مالك رواية يحيیٰ: رقم، 3 حسن)
(كتاب موطأ مالك رواية أبی مصعب الزهری: رقم، 1006)
(كتاب موطأ مالك رواية محمد بن الحسن الشيبانی: رقم، 304)
مزید شواہد ملاحظہ ہوں۔
1: أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَوْصَى أَنْ تُغَسِّلَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُؓ
ترجمہ: سعد بن ابراہیم بیان کرتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے وصیت فرمائی کہ ان کو غسل ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ دیں گی۔
2: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَيْكَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍؓ أَوْصَى أَنْ تَغْسِلَهُ أَسْمَاءُؓ۔
ترجمہ: ابنِ ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے وصیت فرمائی کہ ان کو غسل سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ دیں گی۔
3: أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَالْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍؓ غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُؓ۔
ترجمہ: ابراہیم بیان کرتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو غسل آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے دیا۔
4: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلابِی حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَؓ غَسَّلَتْهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍؓ۔
ترجمہ: قتادہ بیان کرتے ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو غسل آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ نے دیا۔
5: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍؓ أَوْصَى أَنْ تُغَسِّلَّهُ أَسْمَاءُؓ۔
صفحہ 2 از 4