فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد - ردِ…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

میں کہتا ہوں کہ یہ جمہور اہل سنت اور ان کے ائمہ کا قول ہے اور اس کے قریب قریب ابوالمعالی جوینی اور قاضی ابوخازم بن قاضی ابویعلی کا اور کرامیہ کا قول ہے اور یہ اس قول کی حقیقت ہے کہ اللہ بندے کے فعل کا خالق ہے اور اسباب کو ثابت کرنے والے جمہور اہل سنت کا بھی یہی قول ہے، جو کہتے ہیں کہ بندے کی قدرت کو فعل میں تاثیر ہے اور جو اس تاثیر کو نہیں مانتا جیسے اشعری تو جب وہ وجوب کی تفسیر وجوبِ عادی سے کترا ہے تو یہ ممتنع نہیں اور جب اس کی تفسیر وجوب عقلی سے کرتا ہے تو ممتنع ہوا۔

رہا لفظ جبر تو اس میں نزاع لفظی ہے جیسا کہ گزرا اور اس کا ظاہری لغوی معنی یہ نہیں ۔ اسی لیے اسلاف نے اس کے اطلاق پر انکار کیا ہے۔ پس جب قدریہ کہتے ہیں کہ یہ بندے کے مختار ہونے کے منافی ہے۔ کیونکہ مختار کا معنی تب ہی ہے جب وہ فعل اور ترک دونوں پر قادر ہو اور جب چاہے یہ کر لے اور جب چاہے وہ کر لے۔

ان کو یہ جواب دیا جائے گا کہ یہ مسلّم ہے، لیکن یہ کہا جائے گا کہ بندہ یا تو فعل اور ترک پر علی سبیل البدل قادر ہے یا علی سبیل الجمع؟ دوسرا قول باطل ہے، کیونکہ فاعل ہونے کی حالت میں وہ تارک نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ فعل اور ترک دونوں ضدین ہیں ، ان کا اجتماع ممتنع ہے اور قدرت ممتنع پر نہیں وہا کرتی۔

پس معلوم ہوا کہ ہمارا قول کہ وہ فعل اور ترک پر قادر ہے اس کا یہ معنی ہے کہ وہ عدمِ ترک کے حال میں فعل پر اور عدمِ فعل کے حال میں ترک پر قادر ہے۔ اسی طرح یہ قولِ قائل ہے کہ قادر چاہے تو فعل کرے اور چاہے تو نہ کرے کہ یہ قول علی سبیل البدل پر محمول ہے کہ بندہ فعل اور ترک دونوں پر بیک وقت قادر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ فعل کی مشیئت کے حال میں ترک کا مرید اور ترک کی مشیئت کے حال میں فعل کا مرید نہیں ہو سکتا۔

جب یہ بات ہے تو وہ قادر جو چاہے تو فعل کرے اور چاہے تو ترک کرے کہ جب وہ فعل کو چاہتا ہے اور قدرتِ تامہ بھی ہوتی ہے تو اس حال میں فعل کا وجود واجب ہوتا ہے اور فعل کے وجود کے حال میں اس کا ترک کا مرید ہونا ممتنع ہے اور وہ فعل کے ساتھ ترک کے وجود پر قادر ہے۔ بلکہ اس کی فعل پر قدرت بایں معنی ہے کہ وہ فعل کے بعد اس کا تارک ہو گا۔ لہٰذا وہ فعل کے وجود کے دوسرے زمانہ میں ترک پر قادر ہو گا نہ کہ فعل کے وجود کے حال میں ۔

جب قائل یہ کہتا ہے کہ یہ اس بات کو مقتضی ہے کہ فعل واجب ہو نہ کہ ممکن۔ سو اگر تو اس کی مراد یہ ہے کہ وہ فعل فی نفسہ ممکن ہونے کے بعد غیر کے ذریے واجب ہوا تو یہ بات برحق ہے۔ جیسا کہ وہ عدم کے بعد وجود میں آیا اور اس کا وجود کے حال میں معدوم ہونا ممتنع ہے۔سو اللہ نے جو بھی پیدا کیا ہے، وہ اسی طرح پر ہے کہ جو اس نے چاہا وہ ہوا اور رب تعالیٰ کی مشیئت و قدرت سے اس کا وجود واجب ہوا اور جو اس نے نہ چاہا وہ نہ ہوا اور رب تعالیٰ کی عدمِ مشیئت کی وجہ سے اس کا وجود ممتنع ہوا۔ ساتھ یہ کہ اس نے جو چاہا، وہ اس کی مخلوق، محدث اور مفعول ہے اور اس کے پیدا کرنے سے پہلے اس کا وجود اور عدم دونوں ممکن تھے۔ لیکن جب وہ اللہ کی قدرت و مشئیت سے موجود ہو گیا تو اب اس کا معدوم ہونا ممتنع ٹھہرا۔ البتہ موجود ہونے کے بعد اس کا معدوم ہونا ممکن ہے۔ ایسی کوئی شے نہیں کہ ایک ہی وقت میں اس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہوں ۔ بلکہ عدم کے بدلے وجود اور وجود کے بدلے عدم ممکن ہے۔ سو جب وہ موجود ہے تو اس کا وجود جب تک وہ موجود ہے واجب بغیرہ ہے۔

جب اسے بایں معنی ممکن کہا گیا کہ یہ مخلوق، محدث اور مفعول ہے تو یہ صحیح ہے۔ نہ کہ یہ معنی ہو کہ اس کے وجود کے وقت اس کا عدم اس کے وجود کے ہوتے ہوئے ممکن ہے۔ کیونکہ جب یہ مراد لیا جائے گا کہ وجود کے وقت اس کاعدم وجود کے ہوتے ہوئے ممکن ہے تو یہ قول باطل ہے کہ یہ نقیضین کو جمع کرنا ہے۔

اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اس کا عدم اس وجود کے بعد ممکن ہے تو یہ صحیح ہے لیکن یہ اس بات کا مناقض نہیں ہے کہ اس کے وجود کا وجوب بغیرہ اس وقت تک ہے جب تک وہ موجود ہے اور یہ قادر کے ذریعے موجود ہے ناکہ بنفسہٖ موجود ہے اور وہ اس حال میں بایں معنی ممکن ہے کہ وہ محدث، مخلوق اور رب کا محتاج ہے۔ نہ کہ بایں معنی کہ اس کا وجود کے حال میں معدوم ہونا ممکن ہے۔سو جس نے یہ بات سمجھ لی اس پر سے بے شمار وہ اشکال ات کافور ہو جائیں گے جو لوگوں کو قدر کے باب میں پیش آتے ہیں ۔ بلکہ رب تعالیٰ کے قادر مختار ہونے میں بھی اشکال ات جاتے رہیں گے کہ جو اس نے چاہا وہ ہوا اور جو نہ چاہا وہ نہ ہوا۔

اسی لیے اشعری وغیرہ نے رب تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت ادر علی الاختراع ہونے کی بیان کی ہے پھر یہ کہ قائل کا قول کہ قادر وہ ہے کہ جو جب چاہے فعل کرے اور جب چاہے ترک کرے، اس معنی میں ہے کہ فعل اور ترک سے قبل دوسرے زمانے میں اگر اس نے اس میں فعل کے وجود کو چاہا یا اس کے ترک کو چاہا تو اس کو دونوں میں اختیار ہو گا۔ تب پھر فعل کے وجوب کے حال میں فعل واجب ہو گا اور تخییر کے زمانے میں کہ جب فعل اور ترک دونوں میں تخییر ہو، واجب نہ ہو گا، اور فعل کے وجوب کے وقت وہ مخیر نہ ہو گا۔

جی ہاں ! کبھی فعل کے حال میں وہ فعل کے بعد ترک کو چاہنے والا ہوتا ہے اور یہ دوسرا ترک ہے اور یہ فعل کے وجود کے حال میں اس کا ترک نہیں ۔ سو قادر کبھی بھی دو چیزوں کے درمیان ان میں سے ایک کے وجود کے حال میں مخیر نہیں ہوتا۔ مگر دوسرے زمانے میں تخییر کے معنی میں ۔ وگرنہ دونوں میں سے ایک کے وجود کے حال میں وہ عدم اور وجود کے درمیان مخیر نہیں ہوتا۔ لہٰذا جب تک ایک فاعل فاعل ہے، وہ تارک نہیں ہے اور نہ اسے ترک پر مقدور ہے، کیونکہ ممتنع مقدور نہیں ہوا کرتا اور ضدین پر قدرت یہ دونوں پر علی سبیل البدل ہو گی نہ کہ دونوں کے جمع پر اور یہ اس کہنے کی طرح ہے وہ کپڑے کو سفید اور سیاہ کرنے پر اور مشرق اور مغرب میں سفر کرنے پر، دائیں بائیں جانے پر اور دونوں بہنوں کو بیک وقت نکاح میں لانے پر قادر ہے، جو کہ ممتنع ہے۔


صفحہ 6 از 6