فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد - ردِ…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

: تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو رب تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ۔ ایک بردباری اور دوسرے وقار۔ اس نے عرض کیا کہ: کیا ان دونوں خصلتوں کو میں نے اپنایا ہے یا میں ان پر پیدا کیا گیا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں تمہاری اس پر جبلت ہے۔ تو اس نے عرض کیا: سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے ایسی خصلتوں پر پیدا کیا ہو اسے محبوب ہیں ۔‘‘[صحیح مسلم: ۱؍ ۴۸ ۔ ۴۹۔ کتاب الایمان، باب الامر بالایمان باللّٰہ تعالی۔]

سو لفظ جبر سے نفس وہ فعل مراد ہو گا جو وہ چاہے اگرچہ اس نے بندے کا اختیار بھی پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ جبار وہ ہے جو بندے کو اس پر مجبور کرے جو اس نے ارادہ کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ماثور ایک دعا کے یہ الفاظ ہیں :

’’اے اللہ! اے پھیلی چیزوں کو پھیلانے والے، اے بلند چیزوں کو بلند کرنے والے! دلوں کو اپنی فطرت پر سعادت والی یا شقاوت والی فطرت پر مجبور کرنے والے!‘‘

اگر تو جبر سے یہ مراد ہو تو یہ حق ہے اور اگر پہلا معنی مراد ہو تو وہ باطل ہے۔ لیکن مطلق طور پر بولتے وقت پہلا معنی مفہوم ہوتا ہے۔ جبکہ یہ اطلاق جائز نہیں ہے۔

جب سائل یہ کہے کہ میں نے جبر سے اس کا دوسرا معنی مراد لیا ہے؛ یعنی رب تعالیٰ کا بندے کو نفس فاعل قادر بنانا یہ جبر کو مستلزم ہے، اور داعی اور قدرت کا نفس ہونا یہ فعل کے وجود کو مستلزم ہے کہ یہ جبر ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معنی حق ہے جس کے ابطال کی کوئی دلیل نہیں اور ابو الحسین بصری جیسے سمجھ دار معتزلہ اس معنی کو تسلیم کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ نفس داعی اور قدرت کے وجود کے ساتھ فعل کا وجود واجب ہے۔اس کتاب والے نے یہی طریق اختیار کیا ہے، اسے جبر کی اس تفسیر سے انکار ممکن نہیں ۔ اسی لیے ان امور میں ابو الحسین کی طرف تناقض کو منسوب کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب وہ دوسرے سمجھ دار معتزلہ اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ داعی اور قدرت کے ساتھ فعل کاوجود واجب ہے اور مانتے ہیں کہ داعی اور قدرت کا خالق اللہ ہے تو لازم آیا کہ بندوں کے افعال کا خالق اللہ ہو۔

ان ماہرین علمائے معتزلہ نے ان دو نوں مقدمات کو تو تسلیم کیاہے؛ لیکن اس کا نتیجہ ماننے سے انکاری ہیں ؛اور طوسی جسے یہ امامی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس نے ’’تلخیص المحصل‘‘ میں رازی کی دلیل کو ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

’’مرجح تام کے وجود کے وقت فعل کا وجود واجب ہے اور اس کے عدم کے وقت ممتنع ہے۔ تو معتزلہ کا قول بالکلیہ باطل ہو گیا۔ یعنی جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ جواز کے طور پر فعل کترا ہے جیسا کہ ان کا مشہور مذہب یہی ہے تو طوسی اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ بات بارہا ذکر کی جا چکی ہے کہ مختار ممکن کی دو طرفوں میں بسے ایک کو دوسری پر ترجیح دے سکتا ہے۔ بلا مرجح کے۔ یہاں یہ حکم محال ہے۔پھر موثر کی احتیاج اور اثر کے حصول کے عدم کے امتناع کی تقدیر پر کہتا ہے: معتزلہ کا قول بالکلیہ باطل ہو گیا۔‘‘

وہ کہتا ہے: یہ اعتراض وارد نہیں ۔ کیونکہ وہ لکھتا ہے کہ ابو الحسین معتزلہ میں سے ہے؛ اور ایک دوسری جگہ پر ذکر کیا ہے کہ معتزلہ میں سے ایک آدمی کا یہ عقیدہ ہے۔اور یہاں یہ کہتا ہے کہ وہ اس طرف گیا ہے کہ قدرت اور ارادہ مقدور کے وجود کو واجب کرتے ہیں تو پھر ان کا قول بالکلیہ کیونکر باطل ٹھہرا؟

اس کا بیان یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں : اختیار کا معنی صرف قدرت کی نسبت کے اعتبار سے دونوں اطراف کی برابری ہے اور ارادہ کے اعتبار سے دونوں میں سے کسی ایک کے وقوع کا وجوب ہے۔ پس جب مرجح تام پایا جائے گا اور یہ ارادہ ہے تو فعل واجب ہو گا اور جب وہ حاصل نہ ہو گا تو فعل ممتنع ہو گا اور یہ صرف قدرت پر قیاس کرتے ہوئے طرفین کے استواء کے منافی نہیں ۔ تب پھر وہ لزوم جو اس نے ذکر کیا ہے، وہ ان کے قول کے ابطال میں قطعی نہیں ۔

میں کہتا ہوں : وہ قول جس کے بطلان کو رازی نے قطعی کہا ہے، وہ ان کا مشہور قول ہے۔ وہ یہ کہ فعل داعی پر موقوف نہیں بلکہ قادر دو میں سے ایک طرف کو دوسری پر بلامرجح کے راجح کرتا ہے۔ پھر اس کا داعی فعل کو حادث کرتا ہے جیسے ارادہ اور یہ صرف اس کے قادر ہونے کے ذریعے ہے۔ جبکہ اس کے وجود اور عدم کی طرف نسبت کے اعتبار سے قدرت کی برابر ساتھ ہو۔اب کبھی تو داعی کی تفسیر علم، یا اعتقاد یا ظن سے کر دی جاتی ہے اور کبھی ارادہ سے اور کبھی ان سب سے، اور کبھی اس سے جس پر مراد مشتمل ہو، جو اس کے ارادہ کو مقتضی ہو۔

رازی کہتے ہیں : ابو الحسین کے قول میں تناقض ہے۔ کیونکہ رازی نے اقوال میں ان لوگوں کا قول بھی نقل کیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فعل داعی پر موقوف ہے۔ لہٰذا جب قدرت حاصل ہو گئی اور اس کے ساتھ داعی بھی مل گیا تو دونوں مل کر فعل کے وجود کی علت بن گئے۔

رازی کہتے ہیں : یہ جمہور فلاسفہ کا قول ہے اور ابو الحسین بصری اوردیگر معتزلہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اگرچہ ابوالحسین ایک غالی معتزلیہ ہے حتیٰ کہ اس نے اس بات تک کا دعویٰ کر دیا ہے کہ اس بات کا علم ضروری ہے کہ بندہ اپنے افعال کا موجد ہے البتہ پھر بھی اس کا یہ مذہب تھا کہ فعل داعی پر موقوف ہے۔ تو جب استواء کے وقت فعل کا وقوع ممتنع ہواتو مرجوحیت کے حال میں بدرجہ اولیٰ ممتنع ہو گا۔ تو جب مرجوح ممتنع ہوا تو راجح واجب ہوا۔ کیونکہ نقیضین سے خروج نہیں ہوتا اور یہ بعینہٖ جبر کا قول ہے۔ کیونکہ مرجح کے حصول کے وقت فعل کا وجود واجب ہے اور مرجح کے عدم کے وقت اس کا وجود ممتنع ہے۔ سو ثابت ہوا کہ جبر کے معاملہ میں ابو الحسین زبردست غالی معتزلی ہے۔ گو کہ بظاہر وہ خود کو عظیم غالی معتزلی ہے (نہ کہ جبری)۔

صفحہ 5 از 6