فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد - ردِ…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

﴿وَ ہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ حَتّٰٓی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ﴾ (الاعراف: ۵۷)

’’اور وہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں ، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں ۔‘‘

اور بتلایا کہ یہ ہوا ہر شے کو تباہ بھی کرتی ہے اور بتلایا کہ پانی چڑھ آیا کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

﴿اِِنَّا لَمَّا طَغٰی الْمَآئُ حَمَلْنٰکُمْ فِی الْجَارِیَۃِo﴾ (الحاقۃ: ۱۱)

’’بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمھیں کشتی میں سوار کیا۔‘‘

بلکہ رب تعالیٰ نے ان چیزوں کی بابت ان سے بھی زیادہ بلیغ باتوں کی خبر دی ہے، وہ ان اشیاء کا تسبیح و سجدہ کرنا ہے: چنانچہ ارشاد ہے:

﴿اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ القمر وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَ کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَ کَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ﴾ (الحج: ۱۸)

’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا۔‘‘

یہ تفصیل اس بات سے مانع ہے کہ اسے اس بات پر محمول کیا جائے کہ مراد ان کا مخلوق ہونا اور اپنے خالق پر دلالت کرنے والا ہونا ہے اور یہ کہ مراد ان کا زبانِ حال سے اس کی شہادت دینا ہے کہ یہ تو سب انسانوں میں عام ہے۔ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ وَ اَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَo﴾ (سبا: ۱۰)

’’اے پہاڑو! اس کے ساتھ تسبیح کو دہراؤ اور پرندے بھی اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِِشْرَاقِo وَالطَّیْرَ مَحْشُورَۃً کُلٌّ لَہٗ اَوَّابٌo﴾ (صٓ: ۱۸۔۱۹)

’’بے شک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کردیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیحکرتے تھے۔ اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہو تے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔‘‘

رب تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ رب کے آگے رجوع رہتے تھے اور اس نے انہیں تسبیح کرنے پر لگا دیا ہوا ہے اور فرمایا:

﴿اَلَمْ تَرَی اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِیحَہٗ﴾ (الاسراء: ۳۳)

’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقیناً اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ لِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْہًا﴾ (الرعد: ۱۵)

’’اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ ہی کوسجدہ کر رہا ہے، خوشی اور ناخوشی سے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُ وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ﴾ (البقرۃ: ۷۳)

’’پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں ، یا سختی میں (ان سے بھی) بڑھ کر ہیں اور بے شک پتھروں میں سے کچھ یقیناً وہ ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بے شک ان سے کچھ یقیناً وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں ، پس ان سے پانی نکلتا ہے اور بے شک ان سے کچھ یقیناً وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں ۔‘‘

ان اشیاء کے سجود و تسبیح کرنے پر ایک دوسرے مقام میں مفصل کلام ذکر کیا جا چکا ہے۔

یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ سب اشیاء بالاتفاق رب تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔ باوجودیکہ اس نے ان اشیاء کے لیے فعل کو پیدا کیا ہے جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے۔ سو معلوم ہوا کہ یہ امر رب تعالیٰ کے خالق کل شیء ہونے میں مانع نہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ تمھارا یہ قول کہ جب ہم اللہ کو فاعل ٹھہراتے ہیں تو اس فعل کا وجود واجب ہوا اور خلق فعل اس کے وجود کو مستلزم ہے۔ وغیرہ دیگر اقوال کہ یہ تو جبر کو مستلزم اور مقتضی ہیں اور وہ باطل قول ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ جبر کتاب و سنت میں کہیں بھی وارد نہیں ۔ نا اس کی نفی ہے نااثبات۔ لفظ کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب وہ معصوم سے ثابت ہو اور وہ نصوص کے الفاظ ہیں ان کے معانی کی اتباع ہم پر واجب ہے۔ رہے نو ایجاد الفاظ جیسے جبر تو یہ جہت اور حیز وغیرہ نو ایجاد الفاظ جیسا ہے۔ اسی لیے اوزاعی ثوری اور احمد بن حنبل جیسے ائمہ اہل سنت سے یہ مروی ہے کہ اس لفظ کی نہ مطلق نفی کی جائے اور نہ مطلق اثبات کیا جائے۔ کیونکہ یہ لفظ مجمل ہے۔علماء اسلاف میں سے زبیدی نے اس کی مطلق نفی کی ہے۔ یہ لغت کے مشہور معنی کے اعتبار سے ہے کیونکہ جبر و اجبار کا لغوی اطلاق مجبور کے بلا ارادہ فعل پر ہوتا ہے جس میں ناگواری کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ جیسے باپ اپنی بیٹی کو نکاح پر مجبور کرے اور یہ معنی رب تعالیٰ کے حق میں منتفی ہے، کیونکہ وہ بندے کے فعل اختیاری کو اس کے اختیار کے بغیر پیدا نہیں کرتا۔ بلکہ اسی نے تو بندے کو مرید مختار بنایا ہے اور اس بات پر سوائے اللہ کے کسی کو قدرت نہیں ۔ اسی لیے اسلاف میں سے کسی کا قول ہے کہ اللہ جبر کرنے سے بلند و برتر ہے۔ دوسرے کو تو وہی مجبور کرتا ہے جس نے اسے مختار نہ بنایا ہو۔ اللہ نے بندے کو مختار بنایا ہے، اس لیے اسے جبر کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اسی لیے اوزاعی اور زبیدی وغیرہ کا قول ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس نے جبلت بنائی اور یہ نہیں کہتے کہ اس نے مجبور کیا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اشج عبدالقیس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :

صفحہ 4 از 6