فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد - ردِ…

فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت عقلی اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

’’اور ہم نے برباد کر دیا جو کچھ فرعون اور اس کے لوگ بناتے تھے اور جو عمارتیں وہ بلند کرتے تھے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ﴾ (الاسراء: ۹)

’’بلاشبہ یہ قرآن اس (راستے) کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے سیدھا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿یَہْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾ (المائدۃ: ۱۶)

’’ اس سے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیچھے چلیں ، سلامتی کے راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ القصص بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْاٰن﴾ (یوسف: ۳)

’’ہم تجھے بہترین بیان سناتے ہیں ، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَo﴾ (النمل ۲۷)

’’بے شک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ یَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآئِ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّ وَ مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ﴾ (النساء: ۱۲۷)

’’اور وہ تجھ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں ، کہہ دے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے۔‘‘

یعنی جو کتاب میں تمھیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ تمھیں عورتوں کے بارے میں بتلاتا ہے۔اور فرمایا:

﴿فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآئَ اہْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَم نْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ﴾(الحج: ۵)

’’پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔‘‘

رب تعالیٰ نے یہاں اگنے کی نسبت زمین کی طرف کی ہے۔

اور فرمایا:

﴿وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَ اَ نْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ مَّوْزُوْنٍo﴾ (الحجر: ۱۹)

’’اور زمین، ہم نے اسے پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ رکھے اور اس میں ہر نپی تلی چیز اگائی۔‘‘

اور فرمایا:

﴿ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً لَّکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّ مِنْہُ شَجَرٌ فِیْہِ تُسِیْمُوْنَo یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ﴾ (النحل:۱۱)

’’وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، تمھارے لیے اسی سے پینا ہے اور اسی سے پودے ہیں جن میں تم چراتے ہو۔ وہ تمھارے لیے اس کے ساتھ کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿حَتّٰٓی اِذَآ َخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَہْلُہَآ اَنَّہُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْہَآ لا اَتٰہَآ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْنَہَارًا﴾ (یونس: ۲۳)

’’حتی کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور مزین ہوگئی اور اس کے باشندوں نے یقین کر لیا کہ بیشک وہ اس پر قادر ہیں تو رات یا دن کو اس پر ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اسے کٹی ہوئی کر دیا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا﴾ (الکہف: ۷)

’’بے شک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اس کے لیے زینت بنایا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿اِِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃٍ نِ الْکَوَاکِبِ﴾ (الصافات: ۶)

’’بے شک ہم نے ہی آسمان دنیا کو ایک انوکھی زینت کے ساتھ آراستہ کیا، جو ستارے ہیں ۔‘‘

اور فرمایا:

﴿یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا﴾ (الحدید: ۳)

’’وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ﴾ (النحل: ۲)

’’وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُo﴾ (الشعراء: ۱۹۳)

’’جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ﴾ (الاسراء: ۱۰۵)

’’اور ہم نے اسے حق ہی کے ساتھ نازل کیا اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَقَالُوْا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا اَنطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ

’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیداکیا۔‘‘(فصلت: ۲۱)

اور جناب سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:

﴿یٰٓاََیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ﴾ (النمل: ۱۶)

’’اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہمیں ہرچیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَo﴾ (الذاریات: ۲۳)

’’سو آسمان و زمین کے رب کی قسم ہے !بلاشبہ یہ (بات) یقیناً حق ہے اس (بات) کی طرح کہ بلا شبہ تم بولتے ہو۔‘‘

سو وہ بولے اور انہیں اللہ نے بلوایا اور وہی ہر شے کو زبان دیتا ہے۔

سو جب باری تعالیٰ نے جمادات میں ایسے قویٰ رکھے ہیں جو فعل کترے ہیں اور اس نے اس فعل کو ان جمادات کی طرف منسوب کیا ہے اور یہ بات رب تعالیٰ کے خالق افعال ہونے کو مانع نہیں ، تو حیوان کے فعل کی اس کی طرف اضافت بدرجہ اولیٰ مانع نہ ہو گی۔ اگرچہ ان افعال کا خالق اللہ ہی ہے۔

ان قدریہ کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ رب تعالیٰ ان جمادات کے قویٰ اور حرکات کا خالق ہے۔ اللہ نے خبر دی ہے کہ زمین اگاتی ہے۔ بادل پانی لادے پھرتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاo﴾ (الذاریات: ۲)

’’پھر ایک بڑے بوجھ (بادل ) کو اٹھانے والی ہیں ۔‘‘

اور ہوا بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری منتقل کرتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

صفحہ 3 از 6