روافض کا غلو - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کا غلو

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

بلکہ مسلمانوں نے کتنی ہی باربلاد ِ شام کا سفر کیا ۔حضرت عمر ؛ حضرت عثمان ‘ حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کئی بار شام گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتح بیت المقدس کے موقع پر شام گئے ‘ تاکہ آپ اہل ذمہ کے ساتھ معاہدہ کرکے بیت اللہ کی چابیاں وصول کرلیں ۔ پھر آپ وہاں سے سرغ کے علاقہ میں بھی گئے۔ان تمام چکروں میں کبھی کسی ایک نے بھی حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی قبرکی زیارت کے لیے کوئی سفر نہیں کیا ۔ اور نہ ہی وہاں پر کوئی مقبرہ یا درگاہ موجود تھے۔ بلکہ وہاں پر ایک عمارت ہوا کرتی تھی جو ایسے گول اور بغیر دروازہ کے تھی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر پر حجرہ شریف۔بنوامیہ اور بنو عباس کے دور میں یہ سلسلہ ایسے ہی رہا ۔ یہاں تک کہ پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب ان علاقوں پر عیسائی غالب آگئے تو انہوں نے وہاں پر ایک گرجا بنالیا ۔ اور اس پرانی عمارت میں سوراخ کرکے ایک دروازہ بنالیا ۔ اس لیے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ دروازہ بنایا نہیں گیا ‘ بلکہ وہاں پر نقب لگائی گئی ہے ۔

پھر جب مسلمانوں نے یہ علاقے عیسائیوں سے واپس حاصل کر لیے تو بعض لوگوں نے وہاں پر مساجد بنالیں ۔ [ایسا صحابہ کے دور میں نہیں تھا ‘ بلکہ بعد میں ہوا ہے] اس لیے کہ صحابہ کرام جب کسی کو دیکھتے کہ وہ قبر پر مسجد بنا رہا ہے تو اسے منع فرمایا کرتے تھے۔

جب شہر تستر میں حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر ظاہر ہوئی توحضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط لکھا ؛ تو آپ نے جواب دیا کہ : دن کے وقت تیرہ قبریں کھودی جائیں ؛ اور رات کے وقت ان تیرہ میں سے کسی ایک میں دفن کردیا جائے ‘ تاکہ لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ہوں ۔اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ لوگ کسی ایسی جگہ کو متبرک سمجھ کر نماز پڑھ رہے ہیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو‘ تو آپ اس سے منع فرمایا کرتے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے :

’’ تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء کے نشانات و مقامات کوسجدہ گاہ بنالیا کرتے تھے۔جو انسان وہاں پر نماز کا وقت پالے ؛ اسے چاہیے کہ نماز پڑھ لے ‘ ورنہ وہاں سے گزر جائے ۔‘‘[تاریخ الطبری ؍سترھویں سال کے واقعات ]

یہ مسئلہ اور اس جیسے دوسرے مسائل جن سے توحید ثابت ہوتی ہو‘جو کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے مرسلین کاپیغام ہے ۔ان میں سنن مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں ۔ اسلام دو بنیادوں پر قائم ہے :

۱۔ یہ کہ ہم اللہ معبود برحق کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کریں ۔

۲۔ اور ہم اللہ تعالی کی بندگی اس طریقہ کے مطابق کریں جو اس نے مشروع ٹھہرایا ہو؛ بدعات کیساتھ اللہ کی بندگی نہ کریں ۔

نصاری ان دونوں اصولوں سے نکل چکے ہیں ۔یہی حال اس امت کے اہل بدعت اور روافض کا ہے۔نیز عیسائی یہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی اتباع کرنے والے حواری ابراہیم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کرام ومرسلین سے افضل ہیں ۔ان لوگوں کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حواریین سے بالمشافہ خطاب کیا تھا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہے ۔ نیز یہ بھی کہتے ہیں : حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ۔ یہی حال رافضیوں کا ہے۔ وہ اپنے بارہ ائمہ کو سابقین اولین مہاجرین و انصار سے افضل قرار دیتے ہیں ۔ ان کے غالی فرقہ کے لوگ کہتے ہیں : ائمہ انبیاء کرام سے بھی افضل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ لوگ ائمہ کے متعلق ویسے ہی الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں جیسے عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں ۔

عیسائی کہتے ہیں :امور دین پادریوں اور درویشوں کے سپرد ہیں ؛ وہ جس چیز کوحلال کردیں وہ حلال ہے ‘ اور جس چیز کوحرام قرار دیدیں وہ حرام ہے ۔ اور دین وہی چیز ہے جس کو وہ شریعت مقرر کردیں ۔

رافضی بھی یہی کہتے ہیں : دین کے تمام امور ائمہ کے سپرد ہیں ‘ حلال وہی ہے جسے وہ حلال قرار دیں ‘ اور حرام وہی ہے جسے وہ حرام قرار دیں ۔ اور دین وہی چیز ہے جس کو وہ شریعت مقرر کردیں ۔

رہے وہ لوگ جو شیعہ غلو کا شکار ہوئے‘ جیسے اسماعیلیہ ؛ جو کہتے ہیں کہ حاکم ہی الہ ہوتا ہے ؛ اور اس کے ساتھ ہی اپنے ائمہ کی الوہیت کے بھی قائل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ: محمد بن اسماعیل محمد بن عبد اللہ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کی شریعت کا رہبر و شیخ ہے۔ان کے علاوہ بھی ان کے کچھ ایسے عقائد ہیں جو غالیہ اور رافضہ سے لیے گئے ہیں ۔ان میں سے اکثر لوگ یہود ونصاری اور مشرکین کے علاوہ دوسرے کفار سے بھی بدتر ہیں ‘اور اپنے آپ کو شیعیت کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ اور اپنے مذاہب کااظہار بھی کرتے ہیں ۔


صفحہ 3 از 3