روافض کا غلو - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کا غلو

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

یہ بات یقینی طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ ان درگاہوں او ردرباروں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بھی ایسا حکم نہیں دیا جیسا کہ ان لوگوں نے اپنی طرف سے خود ساختہ کہانیاں گھڑلی ہیں ۔اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء اور صالحین کی قبروں کے پاس عبادت کرنے کے طریقے مقرر کئے ہیں ۔بلکہ یہ تو مشرکین کا دین ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ آلِہَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَلَا یَغُوثَ وَیَعُوقَ وَنَسْرًا

[نوح۲۳]

’’اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں : ’’ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بزرگ تھے۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو لوگ ان کی قبروں پر بیٹھ گئے ۔ جب ایک لمبا زمانہ گزر گیا تو انہوں نے ان کی مورتیاں بنالیں ‘ او رپھر ان کی بندگی کرنے لگے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ تم قبروں پر نہ بیٹھنا اور نہ ہی ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا۔ ‘‘ [مسلم ۳؍۶۶۸۔ِکتاب الجنائِزِ، باب النہیِ عنِ الجلوسِ علی القبرِ والصلاِۃ علیہِ ؛ سننِ أبِی داود 3؍294 ِ کتاب الجنائِزِ، باب فِی کراہِیۃِ القعودِ علی القبرِ ؛ سننِ التِرمِذِیِ 2؍257؛ ِکتاب الجنائِزِ، باب ما جاء فِی کراہِیۃِ الوطئِ علی القبورِ والجلوسِ علیہا؛ سننِ النسائِیِ 2؍53؛ ِکتاب القِبلۃِ، باب النہیِ عنِ الصلاِۃ إِلی القبرِ) ؛ المسندِ (ط. الحلبِیِ4؍135.۔ ]

حضرت ابوہیاج اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مجھ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ کیا میں تجھے اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کام کے لئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا تھا کہ تو کسی صورت کو مٹائے بغیر نہ چھوڑنا اور نہ کسی بلند قبر کو برابر کئے بغیرچھوڑنا۔‘‘[صحیح مسلم: کتاب جنازوں کا بیان ؛باب قبر کو برابر کرنے کے حکم کے بیان میں ؛ ح۲۲۳۶]

یہاں پر مورتیوں کو مٹانے اور قبروں کو برابر کرنے کا ایک ہی حکم بیان ہوا ہے۔اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں شرک پھیلانے کا ذریعہ ہیں ۔ جیسا کہ صحیحین میں حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے‘ انہوں نے ایک گرجا ارض حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں خوبصورت تصویریں تھیں ۔جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرد مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہوں گے۔‘‘[رواہ البخاري ۱؍۸۹؛ مسلم ۱؍۳۷۵۔]

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں مسجدوں کو آباد کرنے کا حکم دیاہے۔یہاں پر درگاہوں کا کہیں ذکر تک نہیں ۔ رافضہ نے اللہ کے دین کو ہی بدل ڈالا ۔ انہوں نے مسلمانوں کی مخالفت میں مشرکین کے دو بدو چلتے ہوئے درگاہیں آباد کیں ‘ اور مساجد کو ویران کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ﴾ [الأعراف۲۹]

’’ فرما دیجیے کہ ’’میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے اور اس بات کا کہ ہر مسجد کے پاس اپنی توجہ ٹھیک اسی کی طرف رکھو۔‘‘

یہاں پر ہر درگاہ نہیں فرمایا ‘ بلکہ مسجد کا نام لیا ہے۔ نیز فرمان الٰہی ہے :

﴿مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ وَ فِی النَّارِہُمْ خٰلِدُوْنَ٭اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ ﴾ [التوبۃ ۱۷۔۱۸]

’’لائق نہیں تھاکہ مشرک اللہ تعالی کی مسجدوں کو آباد کریں ۔ درآں حالیکہ وہ خود اپنے کفر کے آپ ہی گواہ ہیں ؛ ان کے اعمال غارت و اکارت ہیں اور وہ دائمی طور پر جہنمی ہیں ۔اللہ کی مسجدوں کی آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں ، نمازوں کے پابند ہوں ، زکوٰۃ دیتے ہوں ، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں ، بیشک یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں ۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے درگاہوں کا ذکر نہیں کیا ‘ بلکہ یہ حقیقت ہے کہ درگاہوں کو آباد کرنے والے غیر اللہ سے ڈرتے ہیں ‘ اور ان سے اپنی امیدیں وابستہ کیے رہتے ہیں ۔ جب کہ اللہ کا حکم ہے :

﴿وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلَّہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾ [الجن ۱۸]

’’اور بیشک مسجدیں صرف اللہ کے لیے ہیں پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔‘‘

یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ درگاہیں بھی اللہ کے لیے ہوتی ہیں ۔ بلکہ مساجد کا فرمایا۔ نیزمساجد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا﴾ [الحج۴۰]

’’ وہ مسجدیں ہیں جہاں اللہ کا نام باکثرت لیا جاتا ہے۔‘‘

یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے درگاہوں کا نام تک نہیں لیا ۔ نیز فرمان الٰہی ہے :

﴿فِیْ بُیُوتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ﴾ [النور ۳۶]

’’ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔‘‘

دین اسلام میں یہ بات اضطراری طور پر تواتر کے ساتھ سب کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے نمازوں ‘ باجماعت نمازوں ‘ جمعہ اور جماعت اور عیدین قائم کرکے اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنے کو مشروع ٹھہرایاتھا۔ آپ نے اپنی امت کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی کہ وہ کسی نیک انسان یا نبی کی قبر پر مسجد بنائیں ‘ یا وہاں پر درگاہیں قائم کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں کسی نبی یا کسی نیک انسان کی قبر پر ہر گز نہ ہی کوئی مقبرہ ہوتا تھااورنہ ہی کچھ؛ نہ ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر پر ؛ نہ ہی کسی دوسرے نبی کی قبر پر۔

صفحہ 2 از 3