فلاسفہ کاعقیدہ : ذات واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے…

فلاسفہ کاعقیدہ : ذات واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

رہے قدر کے وہ مثبتین جو اس اصل میں اِن کے مخالف ہیں تو ان میں سے ایک گروہ جب مسائلِ قدر میں اور بندوں کے افعال کے خلق میں کلام کرتا ہے تو وہ یہ کہتے ہی کہ قادر اپنے دو مقدورین میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتا لیکن جب وہ اللہ کے افعال اور عالم کے حدوث میں اور موجب اور مختار ذات کے درمیان فرق کرنے میں اور دہریہ کے مناظرہ میں کلام کرتے ہیں تو تو ان میں سے بہت سوں کو توپائے گا کہ وہ ان لوگوں کی طرح ان کے ساتھ مناظرہ کرتے ہیں جو کہ قدریہ اور جہمیہ مجبرہ (یعنی جبر کے قائلین )میں سے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ فاعلِ مختار دو مقدورین میں سے ایک کو بغیر مرجح کے ترجیح دیتا ہے (یعنی مناظرہ کرتے وقت اس بات کے قائل ہو جاتے ہیں )اور اسی کے ذریعے ان بڑے بڑے اصولی مسائل میں ان کا اضطراب ظاہر ہو جاتا ہے جن میں وہ قدریہ کے اصول اور جبریہ کے اصول کے درمیان دائر (متردد اور حیران )رہتے ہیں جو کہ تعطیل کے قائل ہیں اور حقیقتِ امر اور حقیقت ِ نہی کی تعطیل کے قائل ہیں ۔ اسی طرح وعد اور وعید اور اللہ تعالیٰ کے صفتِ خلق اور امر میں تعطیل کے قائل ہیں اور اسی طرح یہ لوگ فلاسفہ اور دہریہ کے اصول میں بھی حیران (متردد)اور مضطرب رہتے ہیں ۔


صفحہ 3 از 3