فلاسفہ کاعقیدہ : ذات واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے…

فلاسفہ کاعقیدہ : ذات واحدہ سے صرف ایک ہی چیز صادر ہوسکتی ہے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

وہ جس ارادے اور فعل کو پیدا کرتا ہے وہ اپنی قدرتِ محضہ سے پیدا کرتا ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک قادر ذات (وجود اور عدم میں سے ایک کو )بلا مرجح کے ترجیح دیتا ہے پھر ان لوگوں میں سے قدریہ کہتے ہیں :کہ وہ ایسے اشیاء کا ارداہ کرتا ہے جو وجود میں نہیں آتے اور ایسے اشیاء وجود میں آسکھتے ہیں جن کا وہ پیدا ہونے کا ارادہ نہیں کرتا اور بسا اوقات اس کی مشیئت ایسی اشیا ء کیساتھ متعلق ہوتی ہے جو موجود نہیں ہوتے اور بسا اوقات ایسے اشیاء وجود میں آجاتے ہیں جن (وجود ) کیساتھ اس کی مشیئت متعلق نہیں ہوتی ۔(بخلاف ان لوگوں کے جو مجبرہ ہیں قدریہ میں سے )۔

اہل سنت والجماعت اور وہ لوگ جو قدر اور دیگر صفات کا اثبات کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ فاعل بالاختیار ہے اور جب بھی کسی چیز (کے وجود )کو چاہتے ہیں تو (موجود )ہو جاتا ہے اور اس کا ارادہ اور اس کی قدرت اس کے لوازِم ذات میں سے ہیں خواہ اسے ایک قدیم ارادہ کہا جائے یا کئی پے در پے وجود میں آنے والے متعددارادے یا ایک ایسا قدیم ارادہ جو دوسرے ارادوں کے پیدا ہونے کو مستلزم ہو پس ان تین اقوال میں سے ہر قول پران کے نزدیک اس کی مراد کا موجود ہونا ضروری ہے اور جب ’’موجب بالذات ‘‘کو اس معنی کیساتھ تعبیر کیا جائے تو نزاع لفظی رہ جاتا ہے کیونکہ وہ دلیل جو انہوں نے ذکر کی ہے وہ ’’موجب بالذات‘‘ کی صورت میں بھی متصور ہے اور لفظ ’’علت ومعلول ‘‘،مؤثر اور اثر اور فاعل مختار کی شکل میں بھی متصور ہے اور وہ ان تما م عبارات کیساتھ عالم میں سے کسی بھی چیز کے قدم کے امتناع اور ماسوی اللہ تما م اشیاء کے حدوث کو ثابت کرتا ہے۔

یہاں ایک اور بات بھی ہے اور وہ یہ کہ لوگوں میں فاعل مختار کے بارے میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا اس کا ارادہ فعل سے پہلے پایا جانا ضروری ہے اور اس کے ارادے کا فعل کیساتھ مقارنت ممتنع ہے ؟یا اس کا اراد جو قصد سے عبارت ہے فعل کیساتھ مقارن ہونا ضروری ہے اور فعل سے پہلے جو پایا جاتا ہے وہ عزم ہے قصد نہیں ؟یا پھر یہ دونوں امر ممکن ہیں ؟گویا تین قول ہوئے ۔اور ہم نے ان تینوں اقوال کے اعتبار سے تما م ماسوی اللہ کے حدوث کا وجوب بیان کردیا ہے یعنی ان کے قول پر جو ارادے کا فعل کیساتھ مقارنت کو واجب کہتے ہیں اور ان کا قول جو مقارنت کو ممتنع کہتے ہیں اور ان کاقول جو دونوں امور کو جائز سمجھتے ہیں ۔

ایسے ہی ان کا قدرت میں بھی اختلاف ہے کہ کیا اس کا مقدور کیساتھ مقارنت ضروری ہے یا مقدور پر تقدم ضروری ہے اور مقارنے ممتنع ہے یادونون امر ممکن ہیں؟

فیصلہ کن بات اس میں یہ ہے قدرت تامہ کیساتھ ارادۂ جازمہ فعل کے وجود اور اس کیساتھ اس کی مقارنت کو مستلزم ہے پس کوئی فعل ایسی قدرت محضہ سے وجود میں نہیں آتا جو فعل کیساتھ مقارن نہ ہو اور نہ ایسے ارادے سے وجود میں آتا ہے جو فعل مقارن نہ ہو بلکہ اثر کا جود میں آنے کیلئے مؤثر تام کا پایا جانا ضروری ہے اور کوئی فعل ایسے فاعل کے ذریعے وجود میں نہیں آتا جو فعل کے موجود ہوتے وقت معدوم ہو اور نہ ایسی قدرت سے (وجود میں آتا ہے )جو فعل کے وجود میں آتے وقت معدوم ہو اور نہ ایسے ارداے سے جو فعل کے وجود میں آتے وقت معدوم ہو اور فعل سے پہلے ارادۂ جازمہ (عزم )اور قدرت تامہ جمع نہیں ہو سکتے ۔اس لئے کہ وہی تو فعل کو مستلزم ہے ۔پس وہ موجود نہیں ہو تا مگر فعل کیساتھ لیکن بسا اوقات فعل موجود ہونے سے پہلے قدرت پائی جاتی ہے جس کیساتھ ارادہ نہیں ہوتا اور بسا اوقات ارادۂ پایا جاتا ہے جبکہ قدرت موجود نہیں ہوتا جس طرح کہ بسا اوقات کوئی کسی فعل کے کرنے کا عزم کرتا ہے اور جب اس کے کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ عزم قصد میں بدل جاتا ہے پس فعل کے موجود ہوتے وقت ارادہ اس سے پہلے کی بہ نسبت اقوی ہوتا ہے اسی طرح قدرت بھی فعل کے وجود کے وقت پہلے کی بہ نسبت اقوی ہوتی ہے ۔اور اسی لئے تو بندہ فعل سے پہلے وہ قدرت رکھتا ہے جو شرعاً اس کے قادر ہونے اور غیر عاجز ہونے میں مشروط ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

﴿ فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُم﴾(تغابن :۱۶)

’’سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

﴿وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا﴾(آل عمران :۹۷)

’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

﴿،فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِیْنًا﴾ (مجادلہ:۴)

’’ پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘

بے شک یہ استطاعت اگر صرف فعل کسیاتھ مقارن اور متصل پائی جاتی تو حج اس شخص پر واجب نہ ہوتا جس نے حج نہ کیا ہو اور نہ اس پر تقویٰ واجب ہوتی جو اللہ سے نہ ڈرتا اور جس نے دو مہینے مسلسل روزے نہ رکھے ہوں وہ روزوں کی استطاعت نہ رکھتا اور یہ تما م (نتائج اور امور )نصوص اور مسلمانوں کی اجماع کے خلاف ہیں پس قدر کے جن مثبتین نے اس قدرت کی نفی کی ہے اور اس کا عقیدہ ہے کہ استطاعت تو فعل کے وجود سے پہلے موجود ہوتی ہے ۔

توبے شک یہ لوگ غلطی میں پڑ گئے کیونکہ انھو ں نے اس بات کا گمان کیا اور کہا کہ وہ تمام امور جن پر بندے کو قدرت حاصل ہوتی ہے یعنی ایمان اور طاعت پر تحقیق اللہ نے اس کے اندر مومن اور کافر دونوں کے درمیان برابری کر دی ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان ان تمام امور میں برابری کر دی ہے جن کے ذریعے بندے کے لیے ایمان اور اطاعت ممکن ہو جاتا ہے اور یہ قول تو قطعاً فاسد ہے اس لیے کہ اگر یہ فعل کے تمام اسباب میں دونوں متساوی اور برابر ہوتے تو ان میں سے کسی ایک کا دوسرے کو چھوڑ کر فعل کے ساتھ اختصاص ،دو متماثلین میں سے ایک کا دوسرے پر بغیر مرجح کے ترجیح ہوتا اور یہی تو قدریہ کی اصل اور بنیاد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فاعلِ قادر مقدور کے دو طرفین میں سے ایک کو دوسرے پر بغیر مرجح کے ترجیح دیتا ہے اور یہ باطل ہے اگرچہ اس امر میں ان کے ساتھ بعض ان لوگوں نے موافقت کی ہے جو قدر کے مثبتین ہیں ۔

صفحہ 2 از 3