اللہ تعالی کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال - ردِ رافضیت |…

اللہ تعالی کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

اگر یہ دوسرا ممتنع ہے تو پہلا امتناع کے اعتبار سے زیادہ اشد اور اولیٰ ہے اور ہر ایسی شے جو مفعولات کے بعض ایسے افراد کے حدوث کو ثا بت کرے جن کا قدم ممکن ہے تو وہ بھی اس کے نظیر کے حدوث کے لیے موجب ہے اور فرض کر لیں کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ حرکت اپنی ذات کے اعتبار سے بقا ء کو قبول نہیں کرتی لیکن حوادث تو بہت سے جواہرِکثیرہ ہیں جو دھیرے دھیرے وجود میں آنے والے ہیں پس عناصرِ اربعہ کے بارے میں اگر یہ بات ممکن ہے کہ وہ اعیان اپنی ذات کے اعتبار سے قدیم ہوں تو پھر ان کی صورت کو قدیم ماننا بھی ممکن ہوا پس اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف بدلنا بھی جائز نہیں ٹھہرے گا حالانکہ یہ مشاہدہ کے خلاف ہے یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ اعیان (اجسام )ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتے جیسے بچے کی صورت شیخ (بوڑھے) کی صورت کے خلاف ہوتی ہے اور اگر ان کے اعیان کا قدم ممکن نہیں تو پھر مطلوب حاصل ہوا ۔

اگر یہ کہا جائے کہ ان کے استحالہ کا یعنی ایک شکل سے دوسرے شکل کی طرف تبدیل ہونے کی طرف موجب تو افلا ک کی حرکت ہے تو جوا ب میں کہا جائے گا کہ یہ بات تو اضطراری اور بدیہی طور پر معلوم ہے کہ افلاک کے تحرک کا امکان عناصر کا ایک شکل کا دوسرے شکل کی طرف تبدیل ہونے سے کم درجے کا ہے جس طرح کہ فلک ِ اعلیٰ کا تحرک نسبتا زیادہ ممکن ہے دوسرے کے استحالہ کی بہ نسبت اور فلکِ ثانی کے استحالے کو فرض کرنا اور ثالث کے استحالے کو فرض کرنا اور ان دونوں کے بقا کو فرض کرنا عناصر کے ایک شکل سے دوسرے شکل کی طرف استحالہ اور ان کے بقا ء کو فرض کرنے کی طرح ہے ۔

یہ ممکن نہیں کہ یہ کہا جائے کہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن ہے نہ کہ دوسرا، پس معلوم ہو گیا کہ یہ ایک ایسے امر خارج کی طرف راجع ہے جو ان مفعولات کے ساتھ متعلق ہیں جو فاعل کی مشیت اور حکمت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں اس لیے کہ یقیناً ہم اس بات میں کوئی نزاع اور اختلاف نہیں کرتے کہ کسی شے کا فعل اس کے لوازم کے فعل کو ثابت کرتا ہے اور اس کے اضداد کے وجود کے منافی ہوتا ہے اور یہ بات بھی کہ کسی شے کے فعل سے حکمت مطلوبہ کئی امور ہو سکتے ہیں :کبھی اس کے دواعی اورکبھی اس کے موانع ہوتے ہیں ،کبھی اس کے کچھ شروط ہوتے ہیں پس وہ خالق ذات جس کی حکمت نے حیوانات اور نباتات اور معادن کے انواع کے احداث کا تقاضا اور ارادہ کیا تو اس نے اس بات کا بھی ارادہ کیا کہ ان کے مواد کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منقل کیا جائے لیکن مقصود تو یہ ہے کہ دونوں جسموں میں سے کسی ایک جسم کے لیے بھی ایسی حقیقت ثابت نہیں جو اپنی ذات کے اعتبا رسے قدم کے ساتھ اس کے اختصاص کا تقاضا کرے( دو سرے کو چھوڑ کر یعنی اس پر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں )

خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ خارج میں تو صرف کسی موجودِ ثابت کی حقیقت مسلّم ہوتی پس اس کی حقیقت کی وجود سے پہلے اس کی حقیقت (وجود نفس الامری )کے لیے کوئی داعی اور موجب ثابت نہ ہوا لیکن باری تعالیٰ تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان امور کوجن کے فعل کا وہ ارادہ کرتے ہیں پس اس کا فعل اور اس کا ارادہ وہی امر ہے جو اختصاص کو ثابت کرتا ہے پس بتحقیق یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ جب فاعل کے ساتھ کسی مفعولِ معین کی مقارنت ازلاً یا ابداً ممتنع ٹھہرے یا یہ نقص ٹھہرا پس عالم میں سے کسی شے کا قدم بھی ممتنع ہوا ،لہٰذاکیا حال ہوگا جب ان دونوں میں سے ہر ایک ثابت ہو حالانکہ وہ ممتنع ہو اور اس کے امکان کے فرض کرنے کی صورت میں اس کے ذات میں نقص لازم آتا ہے ؟ ،اس لیے کہ اس کی نوع کا قدم اس کے عین کے قدم سے زیادہ اکمل ہے اور وہ امکان کا زیادہ احتمال رکھتا ہے یعنی امکان کے ساتھ اس کی زیادہ اولویت اور اختصاص ہے پس جب صفت امکان کے ساتھ اولیٰ چیز جو کہ اکمل ہے اس کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے کہ اس کی نقیض ممکن بنے اور جب یہ بات ممتنع ہوئی تو عالم میں سے کسی شے کا قدم بھی ممتنع ٹھہرا اور اس تقدیر پر وہ تما م امور جو وہ ذکر کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی فاعلیت کا دوام ان کے اوپر حجت ہیں اس لیے کہ نوع کی فاعلیت شخص کی فاعلیت سے نسبتاً زیادہ اکمل ہے اور یہ وہی بات ہے جو حس اور مشاہدہ کے ذریعے قطعیت کے ساتھ ثابت ہے اس لیے کہ ہم آہستہ آہستہ نوع کی فاعلیت کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ پس جب فاعلیت کا دوام ممکن ہوا تو یہ ممکن ہوا اس کے وجود کی وجہ سے اور ہم توکسی شے معین کے فاعلیت کے دوام کو نہیں جانتے (یعنی اگر کسی معین کیلئے فاعلیت کا دوام ثابت ہوتا تو ہمیں معلوم ہوتا لیکن ایسا موجودنہیں ہے )پس فاعلیت کے دوام پر ہمارے علم سے کسی شے معین کا دوام لازم نہیں آتا ۔

نوع کا دوام اس کے افراد کے حدوث کا تقاضا کرتا ہے پس جو بھی اللہ کی ذات کے علاوہ ہے وہ سب کے سب حادث ہیں بعداس کے کہ موجود نہیں تھے اور یہی ہمارا مطلوب ہے پس یہ بات اچھے طریقے سے واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ اس کی مقارنت کا قول اصل میں ممتنع ہے اور یہ اس کی ذات سے حوادث کے صدور کے لیے بھی مانع ہے اور اس میں اس بات کی کوئی حاجت نہیں کی کہ یہ کہا جائے کہ ارادہ حادثہ کے ساتھ اس کا مراد مقارن نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یوں کہا جائے کہ ارادہ حادثہ کے ساتھ اس کی مراد مقارن ہوتی ہے جس طرح کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ قدرتِ حادثہ کے ساتھ اس کا مقدور مقارن ہوتا ہے اگرچہ لوگوں میں سے بعض وہ بھی ہیں جو اس میں اختلاف رکھتے ہیں ۔


صفحہ 3 از 3