اللہ تعالی کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال - ردِ رافضیت |…

اللہ تعالی کے ارادے کے بارے میں مختلف اقوال

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ یہ مفعول ان مفعولات کے غیر ہیں یعنی اس کے مغایر ہیں پس یقیناً یہ اس کے لیے ملزوم ہے اور اس کے بغیر وہ وجود میں نہیں آتا اور وہ نہیں موجود ہوتا مگر اس کی وجہ سے پس یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں اب اگر مفعولات آپس میں متلازم ہیں توان کے افعال اور ارادے بھی بطریق اولیٰ متلازم ہیں پس قدمائے ثلاثہ یعنی ارادہ معینہ ، اس کا فعل اور اس کے مفعولات یہ تینوں حوادث کے لیے ملزوم بنیں ۔ ایسے کہ اس کے لیے کوئی انتہاء ہی نہیں اور ایسی صورت میں تو اس کی ذات کسی مفعولِ معین کے فعل میں علت تامہ ازلیہ اور موجب بن گئی اور باقی حوادث میں وہ علتِ ازلیہ نہیں جو کہ اس کی فاعلیت کو پیدا کرتی ہے اور دھیرے دھیرے اس کے وجود کو اس کی تمام تک پہنچاتی ہے اور اس کی ذات تو انتہائی درجے کے کمال کے ساتھ موصوف ہے پس اگر اس طرح ہے اگر اس کا کمال اِ س بات میں ہے کہ جو شے اس کے اندر بالقوۃ ہے وہ بالفعل بھی ہو بغیر اس بات کے امکان کے اعتبار کرنے کے اور نہ اس بات کے کہ حوادث کا دوام اس کے بالکل حادث نہ ہونے سے اکمل ہے جس طرح کہ یہ فلاسفہ کہتے ہیں تو یہ بات ضروری ہے کہ اس سے پھر کوئی شے حادث نہ ہو اور وجود میں بھی کوئی شے حادث نہ ہو ۔

اگر اس کا کمال اس میں ہے کہ وہ کسی شے کو بھی پیدا نہ کرے دوسری شے کے بعد اس لیے کہ یہ اس بات سے اکمل ہے کہ اس کے لیے اشیاء کا یکے بعد دیگرے احداث ممکن نہ رہے اس لیے کہ فعل صفت کمال ہے اور فعل تو صرف اسی طریقے پر معقول ہے یعنی دھیرے دھیرے وجود میں آتا ہے اس لیے کہ حوادث کا حدوث تو دائما وہ اکمل ہوتا ہے اس بات سے کہ وہ حادث نہ ہوں اور دوسری بات یہ ہے کہ بے شک جو شے بالقوۃ ہے وہ جنسِ فعل ہے اور یہ تو دائماًبالفعل ہے اور رہا تمام مفعولات کا یا مفعولات میں سے کسی شے معین کا ازلی ہونا تو بالقوۃ نہیں پس یہ بات بھی ممتنع ہوا کہ وہ بالفعل ہو۔ پس کسی مفعولِ معین کا اس کی ذات کے ساتھ مقارنت اور اتصال میں کوئی کمال نہ ٹھہرا خواہ وہ ممتنع ہو یا وہ ایسا نقص سمجھا جائے جو اس کی اس کمال کے منافی ہو جو اس کے ساتھ واجب ہے خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ یہ بات معلوم ہے کہ مفعولات میں سے کسی نوع کا دھیرے دھیرے پیدا ہونا اس بات سے زیادہ اکمل ہے کہ وہ فاعل کے ساتھ ازل سے ملی ہوئی ہو۔ پس دونوں صورتوں میں اس کی ذات سے اس کی نفی واجب ٹھہری پس اس کی ذات کے ساتھ کوئی بھی مفعول مقارن ثابت نہ ہوا لہٰذا عالم میں کوئی بھی شے قدیم ثابت نہیں ہوئی اور یہی تو مطلوب ہے ۔

یہ ایک مستقل برہان ہے جو اس قاعدے سے لیا گیا ہے جس کی بنیاد اس پر ہے کہ اللہ کی ذات کے لیے صفتِ کمال واجب ہے اور صفتِ نقص اور عیب سے اللہ کا تنزہ اور تقدیس بھی واجب ہے اور اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ یہ امربداہۃً معلوم ہے کہ ایک مفعول کو دوسرے مفعول کے بعد پیدا کرنا جب کہ یہ سلسلہ غیر متناہی حد تک جاری رہے ،اِس کی بہ نسبت زیادہ اکمل ہے کہ وہ کسی ایسے مفعول کو وجود دے جو اس کی ذات کے ساتھ لازم ہو بشرطیکہ اس کو ممکن فرض کر لیا جائے اور جب یہ بات اکمل ٹھہری تو پس وہ ممکن ہی ٹھہرا کیونکہ مفروض تویہ ہے کہ اس کی ذات کے لیے یہ بات ممکن ہے کہ وہ دھیرے دھیرے افعال کو وجود دے بلکہ یہ اس کی ذات کے لیے واجب ہے اور جب یہ ممکن ہے بلکہ اس کے لیے واجب ہے تو اس کا اس کے ساتھ اتصال واجب ہوا نہ کہ اس کے اس نقیض کا جو اس سے زیادہ انقص ہے ۔

اس میں کسی فعل سے یعنی احداث سے تعطیل ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ تو اکمل طریقے پرفعل کے ساتھ اتصال ہے اور اس کا بیان یہ ہے کہ فعلِ معین اور مفعولِ معین جو اس کی ذات کے ساتھ ازلاً و ابداً مقارن ہے ،وہ دوحال سے خالی نہیں (۱)یا تو وہ ممکن ہوگا (۲)یا وہ ممتنع ہوگا

اگر وہ ممتنع ہے تو پھر تو عالم میں سے کسی بھی شے کا قدم ممتنع ہوا اور یہی ہمارا مطلوب ہے اور اگر اسے ممکن فرض کر لیا جائے تو وہ پھر دو حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ وہ اکمل ہوگا یا نہیں ہوگا اگر وہی اکمل ہے تو یہ بات ضروری ہوئی کہ کوئی بھی شے حادث نہ ہو اور ایسے وقت میں اس کا احداث اکمل سے عدول ہوگا اور یہ محال ہے اور اگر وہ اکمل نہیں ہے تو پھر اس کی نقیض اکمل ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک شے کو دوسرے شے کے بعد پیدا کرنا پس افعال میں سے کوئی شے بھی قدیم نہیں ٹھہرے گی ۔

اس پر صرف ایک ایسا سوال وارد ہوتا ہے جو کہ معلوم الفساد ہے اور وہ یہ کہ فلک کے بارے میں تویہ بات ممکن نہیں کہ اس کا وجود متاخر ہو اور نہ حوادث کے بارے میں یہ بات ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی شے قدیم ٹھہرے ،اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے ممتنع ہے تو یہ تو مکابرہ ہے اس لیے کہ حال یہ ہے کہ اگر فلک سے پہلے کوئی اور فلک فرض کر لیا جائے اور اس سے پہلے بھی کوئی اورفلک فرض کر لیا جائے تو اس کا امتناع فلک کے دوام کے امتناع سے زیادہ بڑا نہیں بلکہ جب نوع میں کوئی فردِ واحد کا دوام ممکن ہوتا ہے تونوع کا بطریقِ اولیٰ ممکن ہوتا ہے اسی وجہ سے یہ بات معقول نہیں کہ بشر میں سے کوئی ایک فرد تو قدیمِ ازلی ہو؛ ساتھ اس نوع کے قدم کے ۔

اگر تم نے یہ بات فرض کر لی ہے کہ یہ ایک ایسے امر کی وجہ سے ممتنع ہے جو اس کی ذات کے علاوہ کسی غیر کی طرف راجع ہے اس وجہ سے کہ اس کا ضد اور اس کا مناقض پایا جاتا ہے یا یہ کہ فاعل کی حکمت کے انتفاء کی وجہ سے یا اس کے مثل کوئی اور وجہ تو ہر ایسا امر جو مفعول کے نوع کے قدم کے منافی ہو وہ اس کے عین کے قدم کے بطریقِ اشد اور اولیٰ منافی ہے اور جب اس کے عین کا قدم جائز اور ممکن ہے تو افرادکے حدوث کی بہ نسبت نوع کا قدم نسبتاً زیادہ ممکن ہے ۔

صفحہ 2 از 3