ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک - ردِ رافضیت |…

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

اگر کہا جائے کہ نفس میں جس شے کا تصور ہوتا ہے وہ تو وجود اور عدم دونوں کو خارج میں بھی قبول کرتا ہے تو جواب میں کہا جائے گا کہ یہ امرممتنع ہے ساتھ اس کے کہ خارج میں اس کے لیے ایک ایسے وجود کو تسلیم کیا جائے جو واجب بھی ہو اور دائم بھی ہو بلکہ یہ تو اُن اشیاء میں معقول ہے جو کبھی معدوم ہوتے ہیں اور کبھی موجود ۔

پس جب یہ بات مسلم ہے کہ اللہ کے ماسوا تمام موجودات ممکن اور محتاج ہیں تویہ بھی لازم آیا کہ وہ کبھی موجود ہو اور کبھی معدوم ہوں اور یہ دلیل لوگوں کی فطرتوں میں جاگزین ہو چکی ہے پس ہر وہ شخص جو اشیاء میں کسی شے کا تصور کرتا ہے اس حال میں کہ وہ اللہ کی طرف محتاج اور فقر ہو اور وہ موجود بنفسہ نہ ہو بلکہ اس کا وجود اللہ کی وجہ سے ہو تو اسے اس بات کا تصور بھی آتا ہے کہ وہ مخلوق ہے اور موجود ہوا بعد اس کے کہ وہ معدو م تھا ۔

رہا یہ کہ یہ کہا جائے کہ وہ محتاج ہے وہ مصنوع ہے اور وہ دائم ہے اس کی ذات کے ساتھ اور وہ کسی عدم سے حادث نہیں ہوا تو یہ بات بھی معقول نہیں اور اس کا تصور تو صرف اور صرف ممتنعات جیسا ہو سکتا یعنی ذہن میں ایک ایسی بات فرض کر لی جائے جس کا خارج میں کوئی تحقق نہ ہو اس لیے کہ خارج میں تو اس کا تصور ممتنع ہے اور اس وجہ سے اگر یہ کہا جائے کہ مؤثر کی طرف تام بنانے والاوہ صفت امکان ہے اور صفتِ حدوث ہے تو ان دونوں قولین میں کوئی منافات نہیں رہے گا اس لے کہ ہر ممکن حادث ہے اور ہر حادث ممکن ہے پس یہ دونوں آپس میں متلازم ہے اسی وجہ سے تو دونوں قولوں کو اس شخص نے جمع کر دیا جس نے یہ کہا کہ مؤثر کی طرف محتاج بنانے والا امکان اور حدوث دونوں ہیں پس تینوں اقوال نفس الامر میں صحیح ہیں ،اختلاف تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی اس امرکاگمان کرے کہ کوئی شے غیر حادث کے ہونے کے باجود ممکن بھی ہو سکتا ہے ۔

یہ تفصیل جو کہ عالم کے قدم کے امتناع کے بارے میں اور اس کی ذات کے علتِ قدیمہ ازلیہ ہونے کے امتناع کے بارے میں بیان کی گئی تو یہ بالکل صحیح ہے خواہ یہ کہا جائے کہ وہ ایک ارادہ ازلیہ کے ساتھ ارادہ کرنے والے ہیں جو کہ اپنی مراد کے اتصال کو مستلزم ہے یا یہ کہا جائے کہ وہ بالکل اصلاً ارادہ ہی کرنے والا نہیں خواہ یہ کہا جائے کہ وہ فلک کے لیے بشمول اس کی حرکت کے علت ہے یا وہ بغیر حرکت کے صرف فلک کے لیے علت ہے اور اسی طرح کاقول ہر اس شے میں ہے کہ جو اللہ کی ذات کے ساتھ قدیم فرض کر لی جائے اس لیے کہ یہ بات ضروری ہے کہ وہ حوادث میں سے کسی شے کے ساتھ مقارن ہو یا ممکن ہو اور دونوں تقدیروں پر یہ بات ممتنع ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ قدیم بنے اس لیے کہ قدیم تو صرف ایک ایسے موجب (بکسر الجیم)تام ذات سے حاصل ہو سکتا ہے جو اپنے موجب (بفتح الجیم ) کو مستلزم ہو اور ازل میں اس کا ثبوت اس امرکا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے کوئی بھی شے حادث نہ ہو اور حوادث تو صرف اسی ذات صادر ہوتے پس وہ موجب ازلی نہیں الا یہ کہ اس سے کوئی شے حادث اور پیدا ہو جائے لیکن عالم کے فاعل کے بارے میں یہ امرممتنع ہے کہ اس سے کوئی بھی شے حادث نہ ہو لہٰذایہ بات بھی ممتنع ہوئی کہ وہ ازل میں موجب بالذات ہو ۔



صفحہ 6 از 6