ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک - ردِ رافضیت |…

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اس کی ذات وجود اور عدم دونوں کو قبول کرتی ہے تو یہ (قائل)ایک ایسی بات کہنے والا ہے جو معقول نہیں اور یہ ایک ایسا مقام ہے جس کو اہل نظر میں سے عقل مند اورہوشیار لوگوں نے بھانپ لیا ہے پس ان لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں ابن سینا اور اس کے اتباع (پیروکار )پر نکیر کی ہے جس طرح کہ ابن رشد نے اس کا انکار کیا ہے اور ان میں سے وہ بھی ہیں جس نے ان سوالات کو ممکن پر وارد کر دیا ہے جس طرح کہ امام رازی اور اس کے متبعین نے کیا ہے اور انھوں نے کوئی صحیح جواب نہیں دیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اس بات کے جائز قرار دینے میں ابن سینا کی اتباع کی ہے یعنی یہ کہ ایک شے ممکن بنفسہ ہواور اس کے باوجود واجب بغیرہ ، دائم ،ازلی اور ابدی ہو بھی ۔بلکہ یہ تو باطل ہے جس طرح کہ اہل ملل اور فلاسفہ اور تمام جمہور اس پر قائم ہیں اور مسلمان اہل نظر کی بھی رائے ہے اور فلاسفہ کے آئمہ یعنی ارسطو اوراس کے اتباع بھی اس پر قائم ہیں کہ ممکن اُن کے نزدیک صرف وہی ہوتا ہے جو کبھی معدوم اور کبھی موجود ہوتا ہے یعنی یکے بعد دیگرے دونوں الگ الگ حالتوں میں پایا جاتا ہے پس امکان اور عدم یہ دونوں لازم وملزوم ہیں اور جب اللہ کے ماسوا کوئی بھی شے موجود بنفسہ نہیں بلکہ وہ ممکن ہے اور اس کے حق میں یہ امرواجب اور ضروری ہے کہ وہ بعض احوال میں معدوم ہو۔

یہ اس لئے ضروری ہے کہ اس کا امکان کے ساتھ موصوف ہونا درست اور صحیح ہو اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے ماسوا تمام کے تمام موجودات کے حادث ہونے اور موجود بعد العدم ہونے کے بارے میں یہ ایک مستقل برہان ہے اور اور بے شک حق سبحانہ وتعالیٰ ہر شے کووجود دیا بعد اس کے کہ کوئی شے بھی موجود نہیں تھا پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی صفتِ بقا اور قدم کے ساتھ متفرد اور یکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ماسوا تمام موجودات کے ساتھ عدم کے بعد حدوث لازم قرار دیا ہے ۔ اس کی توضیح یوں ہے یا تو یہ کہ یہ کہا جائے گا کہ خارج میں ہر شے کا وجود اس کی عینِ ماہیت ہے جس طرح کہ اہلِ سنت میں سے اُن اہلِ نظر کا یہ قول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ معدوم خارج میں اصلاً کوئی شے ہی نہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ خارج میں موجودات کے لیے ماہیات ثابت نہیں ہیں سوائے اس کے کہ جو خارج میں موجود ہوں یعنی سوائے موجودِ خارجی کے پس یہ لوگ ان لوگوں کے مخالف ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ معدوم بھی کوئی شے ہے ۔یہ معتزلہ اور دیگر کا قول ہے ۔

وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہر شے کا وجود جو کہ خارج میں ثابت ہے وہ اس کی ماہیت اور اس کی حقیقتِ ثابتہ فی الخارج کے مغایر ہوتی ہے جس طرح فلاسفہ میں سے بعض کا قول ہے یا یہ کہ یہ کہا جائے گا کہ خارج میں کسی شے کا وجود اس کی ماہیت کے پر زائد اور اس کے علاوہ ہے ۔

پس اگر پہلاقول اختیار کیا جائے پھر خارج میں عالم کے لیے کوئی ذات ثابت نہیں ہوگا سوائے اس کے وجودِ خارجی کے تاکہ یہ کہا جائے کہ وہ وجود اور عدم دونوں کو قبول کرتا ہے ۔

اگر دووسرا قول اختیار کیا جائے تو اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ وہ ازل سے موجود تھا تو پھر اس کی ذات کے لیے کوئی ایسا حال ثابت نہیں ہوگا جو وجود اور عدم دونوں کو قبول کرتا ہو بلکہ وہ تو ازل سے متصف بالوجود تھا پس کسی قائل کا یہ کہنا کہ ممکن ہی وہ شے ہے جو وجود اور عدم دونو ں کو قبول کرتا ہو اس کے ساتھ وہ اس کابھی قائل ہے کہ وہ ازل سے موجود ہے تو وہ دو منتاقضین کے درمیان جمع کرنے کا مرتکب ہے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے تو ممکن ہے تو تب بھی یہ قول تناقض پر مشتمل ہے خواہ وہ اس کی ذات سے وجودِ خارجی مراد لے یا کوئی ایسی شے مراد جو خارج میں وجو دقبول کرتی ہو اس لیے کہ جب وہ ازل ہی سے موجود ہے اور ا سکا وجود واجب ہے تو وہ اصلاً عدم کو قبول کرنے والا ہی نہیں اور اس کا عدم بالکل ممکن ہی نہیں رہا اور کسی قائل کا یہ کہنا کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے غیر موجود ہے اس کے ساتھ وہ اس کا بھی قائل ہے کہ وہ ازل سے بھی موجود ہے تو اس کا معنی یہ ہوا کہ اس کی ذات تو ازل سے موجود ہے ،واجب بالغیر ہے اور اس کا عدم ممتنع ہے اور وہ اپنی ذات کے اعتبار سے وجود اور عدم دونوں کو قبول کرتا ہے اور اسمیں یہ دونوں باتیں ممکن ہیں اور ممکن پر کلام کے مقام پراس امرکو پوری تفصیل کے ساتھ تفصیلاً بیان کیا گیا ہے جس طرح کہ انھوں نے بھی اس کو اپنی جگہ تفصیلاً بیان کیا ہے ۔

اس بات کی وضاحت یوں ہے کہ ممکن وہی شے ہوتی ہے جو کہ محتاج ہو اور وہ بذاتِ خود موجود نہ ہو بلکہ کوئی غیر ہی اس کو وجود دیتا ہو پس یہ ضروری ہے کہ وہاں کوئی ایسا شے ہو جس کو فقر یعنی احتیاج اور امکان کے ساتھ موصوف کیا جا سکے اس طرح عدم کی قبولیت کے ساتھ اور اس کے بعد پھر اس کو غنا یعنی بے نیازی اور وجود کے ساتھ موصوف کیا جاسکے ۔رہی وہ ذات جو ازل ہی سے موجود بھی ہے اور غنی یعنی بے نیاز بھی ہے تو اس کو فقر یعنی احتیاج اور امکان کے ساتھ کیسے موصوف کیا جا سکتاہے اس لیے کہ یقیناً اگر اس پراحتیاج اور فقر کا حکم لگایا جائے اور ایک موجود غنی پر عدم کی قبولیت کا حکم لگایا جائے تو یہ اس کی ذات پرممتنع ہو گا جس طرح ماقبل میں گزرا جب کہ وہ عدم کو بالکل قبول ہی نہیں کرتا ۔

اگر فقر اور امکان کا حکم لگایا جائے اور ساتھ ساتھ وجود ذہنی کے اعتبار سے عدم کی قبولیت کا بھی حکم لگایا جائے اس معنی پر کہ وجود خارجی میں تو فاعل کی طرف محتاج ہے تو یہ ہمارے قول کے مغایر ہے یعنی یہ ضروری ہے کہ وہ معدوم ہو اور اس کے بعد وہ موجود بنے اور اگر یہ کہا جائے کہ اس کا فاعل فی نفسہ اس کا تصور کرتا ہے ساتھ اس کے فعل کے دوام کے اور ممکن تو وہی ہے جس کانفس میں تصور ہو سکتا ہے تو کہا جائے گا کہ نفس میں جس شے کا تصور ہوتا ہے وہ تو اس کی وجہ سے واجب ہے اور عدم کو قبول نہیں کرتا اور جو شے خارج میں ہے تو وہ خارج کی وجہ سے واجب ہے اور وہ عدم کو قبول نہیں کرتا پس وجود اور عدم دونوں کوقبول کرنے والا کہاں گیا ۔

صفحہ 5 از 6