ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک - ردِ رافضیت |…

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

﴿ یَا زَکَرِیَّا إِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ اسْمُہُ یَحْیَی لَمْ نَجْعَل لَّہُ مِن قَبْلُ سَمِیّاً(7) قَالَ رَبِّ أَنَّی یَکُونُ لِیْ غُلَامٌ وَکَانَتِ امْرَأَتِیْ عَاقِراً وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیّاً(8) قَالَ کَذَلِکَ قَالَ رَبُّکَ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُکَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْْئاً﴾(مریم:۷،۹)

’’اے زکریا! بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں ، جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔کہا اے میرے رب! میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی شروع سے بانجھ ہے اور میں تو بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ گیا ہوں ۔کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور یقیناً میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿وَیَقُولُ الْإِنسَانُ أَئِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَیّاً(66) أَوَلَا یَذْکُرُ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن قَبْلُ وَلَمْ یَکُ شَیْْئاً﴾ (مریم:۶۶،۶۷)

’’اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مرگیا تو کیا واقعی عنقریب مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا؟اور کیا انسان یاد نہیں کرتا کہ بے شک ہم نے ہی اسے اس سے پہلے پیدا کیا، جب کہ وہ کوئی چیز نہ تھا۔‘‘

پس انسان کو اللہ نے ایک ایسی بات کے ساتھ ذکر فرمایا ہے جس کو وہ جانتا ہے یعنی اس نے اس کو پیدا فرمایا اور وہ کچھ بھی نہ تھا تاکہ وہ اس کے ذریعے اللہ کی اس کے مثل کے تخلیق پر قدرت اور استدلال کرے اوران اشیاء کے تخلیق کے قدرت پر جو اس سے زیادہ اھو ن اور آسان ہیں ۔

۷) ساتواں یہ کہ بے شک یہ لوگ جو ایک علت قدیمہ سے قدمِ عالم کے قائل ہیں اس کے باوجود یہ اس کے بھی قائل ہیں کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن ہے اور اس کے لیے کوئی فی نفسہ وجود ثا بت نہیں اور اس کا وجود ایک مبدع(ازسر ون پیدا کرنے والا ) ذات کی طرف سے ہے پس انہوں نے اُس موجود کو جو ازل سے موجود تھا اور واجب بغیرہٖ تھا اس کو اس امرسے موصوف کیا کہ وہ ممکن الوجود ہے انہوں نے اس کے ذریعے اسلاف کے طریقے کی مخالفت کی اور اس طریقے کی مخالفت جس کے تمام کے تمام اولادِآدم قائل ہیں یعنی یہ کہ ممکن صرف اور صرف معدوم ہی ہوتا ہے اور جس چیز کا وجود وعدم دونوں ممکن ہوں وہ معدوم ہی ہوگا اور یہ ارسطو اور قدمائے فلاسفہ کا قول ہے لیکن ابن سینا اور اس کے متبعین اس کے مخالف ہیں اور ابن رشد اور اس کے علاوہ دیگر نے اس بات میں ان کا تعاقب کیا ہے اور انھوں نے فرمایا ہے کہ ممکن تو صرف وہی چیز ہو سکتی ہے جس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہوں پس یہ امر جائز ہے کہ وہ موجود ہو اور یہ بھی کہ وہ معدوم ہو یعنی وہ مستمر العدم ہو اس وجہ سے تو انہوں نے کہا کہ ممکن کے لیے کسی محل کا ہونا ضروری ہے جس طرح کہ یہ کہا کہ یہ امر ممکن ہے کہ عورت کو حمل ٹھہر جائے اور زمین کسی شے کو اگائے اور یہ بات کہ بچہ علم حاصل کرے یعنی سیکھے پس ان مثالوں میں امکان کامحل رحم ہے ،زمین ہے ،اور دل ہے لہٰذایہ ممکن ہے کہ ان تمام محلوں میں یعنی ان تمام مواقع میں وہی شے حادث (پیدا)ہو جائے جس کی ان میں قابلیت ہے یعنی کہ حرث ہے ،اسی طرح نسل ہے اور اسی طرح علم ہے ۔

رہا وہ شے جو ازل سے ہے اور ابد(مستقبل میں غیر متناہی حد)تک رہے گا خواہ بذاتِ خود ہو یا غیر کی وجہ سے ہو توکہ اس کے بارے میں کیسے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے حق وجود اور عدم دونوں ممکن ہیں اور اگر کہا جائے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے دونوں امرین کو قبول نہیں کرتا یعنی وجود خارجی اس لیے کہ وجود جو واجب بغیرہی ہو وہ عدم کو قبول ہی نہیں کرتا الا یہ کہ وہ یہ مراد لیں کہ وہ وجود کے بعد عدم کو قبول کرتا ہے اور ایسی صورت میں تو وہ واجب بغیرہی نہیں رہے گا صفت دوام کے ساتھ پس جب بھی اس نے مستقبل میں عدم کو قبول کر لیا یا وہ معدوم تھا تو اب وہ صفت دوام کے ساتھ ازلی ،ابدی اور واجب بغیرہ نہ رہا جس طرح کہ یہ لوگ عالم کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر حالتِ واحدہ میں وجود اور عدم دونوں کو قبول کرنا مراد ہے تو یہ بات ممتنع ہے اور اگردو الگ الگ حالتوں میں ان کو قبول کرنا مراد ہے یعنی وہ کبھی تو وجود کو قبول کرتا ہے اور دوسری حالت میں وہ عدم کو قبول کرتا ہے تو یہ بات ممتنع ہے کہ وہ ازلی اور ابدی بنے بوجہ اس کے کہ اس پر وجود اور عدم متعاقب ہیں یعنی یہ دونوں حالتیں یکے بعد دیگرے اس پر آتے ہیں ۔

اگر یہ مراد لیا جائے کہ اس کی وہ ذات جو وجود اور عدم کو قبول کرتی ہے وہ ایک ایسی شے ہے جو وجودِ خارجی کے غیر ہے تو وہ اس کی ذات نہیں اور اگر کہا جائے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نفس جس چیز کا تصور کرتا ہے اس کے بارے میں یہ بات ممکن ہے کہ وہ خارج میں موجود اور معدوم دونوں ہوں جس طرح کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں بہت سے امورِ متضادہ کا تصور کر سکتا ہے ۔

تو جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات بھی تو اس کو واضح کرتی ہے کہ امکان عدم کو مستلزم ہے اس لیے کہ جو بات تم نے ذکر کی ہے وہ ایک ایسی شے کے بارے میں ہے جس کا فاعل اپنی نفس میں تصور کرتا ہے اور اس کے بارے میں یہ بات ممکن ہوتی ہے کہ وہ خارج میں موجود ہو اور یہ بھی کہ وہ معدوم رہے اور یہ ان امور میں معقول ہے جن پر وجود اور عدم دونوں حالتیں آسکتی ہیں لیکن رہی وہ ذات جو ازل سے موجود ہے اور واجب بغیرہ ہے تو اس کے حق میں ان دونوں امور کا امکان بالکل معقول ہی نہیں ۔

صفحہ 4 از 6