ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک - ردِ رافضیت |…

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

اس کے امثال دیگر وہ آیات جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے پیدا کرنے کی بہ نسبت اولیٰ بالامکان ہے اور صغیر کو پیدا کرنا بڑی جسامت کے پیدا کرنے کی بہ نسبت اولیٰ بالامکان ہے اور رہا وہ شے جس کے بارے میں یہ بات معلوم نہ ہو کہ وہ ممکن ہے تو جب اسے عقل پر پیش کیا جائے اور اس کی امتناع معلوم نہ ہو تو اس کا صرف امکانِ ذہنی ہوتا ہے اس معنی پر کہ امتناع کا علم نہیں ا ور اس کا امکان خارجی نہیں ہوتا خارج میں علم بالامکان کے معنی پر ،اسی وجہ سے تو اہل نظر میں سے ایک گروہ اس بات کو ذکر کرتی ہے جیسے علامہ آمدی اور اس کے علاوہ دیگر یعنی کہ جب وہ اس بات کا ارادہ کرے کہ کسی شے کے امکان کو اس طور پر پکا کر دے کہ جب اس کے وجود کو فرض کر لیا جائے تو اس سے محال لازم نہ آئے ،یہ ایک محض دعویٰ ہے اور اس کی منتہیٰ(آخری حد) اس پر ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہم اس بات کو نہیں جانتے کہ اس سے محال لازم آتا ہے اور عدمِ علم تو علم بالعدم نہیں اور یہ جب ان لوگوں نے اس بات کا ارادہ کیا کہ وہ مفعول کا اپنے فاعل کے ساتھ لزوم کے امکان کو ثابت کریں تو ضروری ہے کہ وہ اس بات کو جان لیں کہ وہ خارج اس شے کا ثبوت ہے جو اس کی بہ نسبت اولیٰ بالامکان ہے اور یہ دونوں باتیں منتفی ہیں پس صرف اور صرف وہی فاعل معلوم اور موجود قرار پائے گا جو اپنے فعل یا مفعول کو وجود دے اور جس کا مفعول معین اس کے ساتھ مقارن اور لازم نہیں ہوتا بلکہ یہ تو فاعل قادر ہونے کی بہ نسبت اس کے فاعلیت کی نفی اور لازم کی نفی سے عجز کی طرف زیادہ اقرب ہے۔

پس بتحقیق انہوں نے اللہ کے لیے ایک بری مثال پیش کی ہے اور یہ انتہائی درجے کی باطل بات ہے اور ادلِہ الٰہیہ میں تو واجب یہ ہے کہ اس بات کو جانا جائے کہ ہر وہ کمال جو مخلوق کے لیے ثابت ہے تو خالق ذات اس کا زیادہ احق ہے اس لیے کہ مخلوق کا کمال خالق کے کمال سے ہی مستفاد ہے اور ان کی اصطلاح کے مطابق تو معلول کا کمال علت کے کمال سے مستفاد ہے اس لیے کہ واجب تعالیٰ ممکن کی بہ نسبت زیادہ اکمل ہے پس وہ ہر اُس کمال کے ساتھ ممکن سے زیادہ احق ہے جس میں کوئی نقص نہ ہو ۔

یہ بات بھی معلوم ہے کہ ہر وہ نقص جس سے مخلوق منزہ اور پاک ہو تو خالق اس نقص سے پاکی کے ساتھ زیادہ احق ہے اس لیے کہ نقص کمال کے مناقض اور ضد ہے پس جب وہ کمال کے ثبوت کے ساتھ زیادہ احق ہے تو وہ نقص کی نفی کے ساتھ بھی زیادہ احق ہوگا اور یہی قضیہ برہانیہ ہے جو کہ بالکل یقینی اور قطعی ہے اور وہ اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ فعل (احداث )صفتِ کمال ہے اور اہل کلام میں سے ان لوگوں پر رد کرتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ صفتِ کمال نہیں اور نقص ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ اَفَمَنْ یَّخْلُقُ کَمَنْ لَّا یَخْلُقُ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ﴾( نحل: ۱۷) 

’’تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا؟ پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‘‘

جب حال یہ ہے تو یہ بات عقلی ہے کہ وہ فاعل جو اپنی قدرت اور مشیت سے فعل کرتا ہے وہ اس کی بہ نسبت اکمل ہے جس کا کوئی قدرت اور اراد ہ نہیں ہوتا۔ اور فاعل قادرِ مختار جو کہ کسی شے کوآہستہ آہستہ وجود دیتا ہے۔ یہ اس کی بہ نسبت اکمل ہے جس کے ساتھ اس کا مفعول لازم ہوتا ہے۔ اور وہ کسی شے کے احداث پر قادر ہوتا ہے اور وہ کسی شے کے احداث پر قادر نہیں ہوتا اور نہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف تغییر پر، اس لیے کہ وہ ذات جو اس بات پر قادر ہو کہ وہ مفعولات ِ متعددہ کو پیدا کرے اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں تبدیل کرنے پر قادر ہووہ اس ذات کی بہ نسبت زیادہ اکمل ہے جو ان صفات کے ساتھ متصف نہ ہو پس وہ کیسے واجب الوجود ذات کوفعلِ ناقص کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور انہوں نے جو بات ذکر کی ہے وہ ایک بالکل ممتنع بات ہے اور ایسے طریقے پر کوئی فاعل معقول نہیں جیسے انہوں نے ذکر کیا ہے بلکہ جس نے بھی اپنے اُس لازم کے لیے کسی شے کو فاعل فرض کیا ہے جو اس سے بالکل کسی بھی حال میں جدا نہیں ہوتا تو یہ لوگوں کے نزدیک صریح معقول کے مخالف ہے اور اس کو یہ کہا جائے گا کہ یہ اس کے لیے ایک صفت ہے یا اس کے ساتھ مشارکِ ہے اس کا مفعول نہیں ۔

اگر جمہورعقلاء جو فطرت سلیمہ رکھتے ہیں ان سے یہ کہا جائے کہ اللہ نے آسمانو ں اور زمینیوں کو پیدا فرمایا اور اس کے باوجود ازل سے اس کے ساتھ ہیں تو وہ جواب میں کہیں گے کہ یہ تو پھر اللہ تعالیٰ کا ان کی تخلیق کے منافی ہوا پس اللہ تعالیٰ کا ان کو پیدا کرنا معقول نہیں ہے مگر صرف اس صورت میں کہ وہ ان کو پیدا کرے بعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھے ۔

رہا یہ کہ اگر کہا جائے کہ ازل سے وہ دونوں موجود تھے تو یہ قول باوجود یکہ ان کا مبتدع اور اپنی طرف سے نکالا ہوا قول ہے تو یہ جمع بین النقیضین بھی ہے یعنی مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا ازلی ہونا تو یہ لوگوں کی اُن فطرتوں اور عقلوں میں جمع بین المتناقضین ہے جو اپنی اصل فطرت سے متغیر اور تبدیل نہیں ہوئے اسی وجہ سے تو پیغمبروں کا محض یہ خبر دینا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمینوں اور ان کے امثال کو پیدا کر دیا یہ ان کے حدوث کی خبر دینے کے طور پر کافی ہے اور اس کے ان کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ اللہ نے ان کو پیدا کیا عدم کے بعد بلکہ انہوں نے تو ان کے تخلیق کے زمانے کی خبر دے دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ﴾( یونس :۳ )

’’ آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔‘‘

انسان جب کہ اس بات کو جانتا ہے کہ وہ پیدا کردیا گیا بعد اس کے کہ وہ معدوم تھا تو اس کے ذریعے اس کو یہ بات سمجھا دی گئی کہ وہ استدلال کرے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر عدد کے تغییر پر اور اسی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ نے یحیٰ علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں فرمایا :

صفحہ 3 از 6