ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک - ردِ رافضیت |…

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

اس لیے کہ جب ان کے سامنے ان کے بھائیوں کے قول کا فساد بیان کیا جائے؛ اور ان پر یہ واضح ہو جائے کہ فاعل کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے ساتھ ایسے احوال قائم ہوں جن کی بنیاد پر وہ فاعل بنتا ہے تو (اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے )یہ ممتنع ہے کہ اس کا مفعولِ معین اس کے ساتھ مقارن ہو ازلاً و ابداً اس لیے کہ یہ تو اس کو مفعولیت سے نکالنے کے مترادف ہوا ۔

چھٹی وجہ :.... ان دونوں فریقین سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات پر تم قائم ہو اس کی بنیاد کیا ہے ؟وجود کی طرف رجوع کرنا ہے؟ اور فلسفہ تو اس کے موجودہ حال پر وجود کی معرفت ہے۔حقیقی فلسفہ میں تو امورِ وجودیہ ہیں جن کی وجہ سے وجود کو پہچانا جاتا ہے۔ اور تم تو اکثر و بیشتر قیاس کے بغیر کسی شے کو نہیں ثابت کرتے؛ خواہ وہ قیاسی شمولی ہو یا عام ہو یا تمثیلی ہو۔ کیا تمہارے علم میں کوئی ایسافاعل ہے جس کا مفعول وقت میں اس کے ساتھ لازم یا مقارن ہو اور وہ دھیرے دھیرے حادث نہ ہوتا ہو خواہ وہ فاعل بالارادہ ہو یا بالتبع۔

کیا تم نے کسی ایسے فاعل کو پایا ہے جو ازل سے اپنے مفعول کے لئے موجب ہواور ابد تک ہو ؟اور ازل سے اس کا مفعول خود اس کا معلول بنے یہ ایک ایسی شے ہے جو تمہارے اور تمہارے غیر دوسری جماعتوں کے عقل میں بھی نہیں آتی پس تم کیسے ایسی چیز ثابت کرتے ہو جو بالکل معقول ہی نہیں چہ جائے کہ وہ مطلقا تمام اشیاء اور حوادث کے بارے میں معقول بنے۔ اور مطلق تو مقید کی شرح ہے پس جب ایک موجود معین معقول نہیں بنے گا تو مطلق کیسے معقول بن سکتا ہے؟ لیکن ذہن کے اندرتو صرف اس کا ایک فرض اور تقدیر ہو سکتی ہے جس طرح کہ دوسرے ممتنعات کا بھی فرض اور تقدیر ہو سکتی ہے۔ اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ کسی شے کا خارج میں ممکن ہونے کا علم اس کے وجود کا علم ہوتا ہے یا اس شے کا وجود ہوتا ہے جس کی بہ نسبت یہ وجود سے زیادہ اولویت اور زیادہ مناسبت رکھتا ہے جس طرح کہ اللہ نے اپنی کتاب میں معاد اور بعث بعد الموت کے امکان کے بحث میں فرمایا ہے لہٰذا ارشاد ہے:

﴿ لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ

(غافر: ۵۷)

’’یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اورلیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿ وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہُ وَہُوَ أَہْوَنُ عَلَیْہِ ﴾ (روم :۲۷)

’’اور وہی جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اس پر زیادہ آسان ہے‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿ أَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّن مَّنِیٍّ یُمْنَی o ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوَّی oفَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی oأَلَیْْسَ ذَلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَن یُحْیِیَ الْمَوْتَی ﴾( قیامۃ۳۷ تا ۴۰)

’’کیا انسان گمان کرتا کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔ پھر وہ جما ہوا خون بنا، پھر اس نے پیدا کیا، پس درست بنا دیا۔پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں ۔کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کردے؟۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿ أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللَّہَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی بَلَی إِنَّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْئٍ قَدِیْرٌ ﴾(احقاف:۳۳ )

’’اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں ! یقیناً وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔‘‘

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَہُ قَالَ مَنْ یُحْیِیْ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ (78) قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ أَنشَأَہَا أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ (79) الَّذِیْ جَعَلَ لَکُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَاراً فَإِذَا أَنتُم مِّنْہُ تُوقِدُونَ(80) أَوَلَیْْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یَخْلُقَ مِثْلَہُم بَلَی وَہُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ ﴾ ( یس :۷۸۔۸۰)

’’اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ کہہ دے انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جاننے والا ہے۔ وہ جس نے تمھارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی، پھر یکایک تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ اور کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پید اکیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے اور پیدا کر دے؟ کیوں نہیں اور وہی سب کچھ پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

صفحہ 2 از 6