ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک - ردِ رافضیت |…

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

ارسطو اور اس کے پیروکاروں کی گمراہی اور شرک

لیکن وہ بات جس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ یہ کہ اس قسم کی تعلیمات کے اصحاب جیسے ارسطواور اس کے متبعین مشرکین تھے اور مخلوقات کی عبادت کرتے تھے اور وہ نبوتوں اور معاد بدنی (جسمانی طور پر قیامت میں اٹھا یا جانا )کو بالکل نہیں مانتے تھے اور یہ کہ یقیناً یہود و نصاریٰ و الٰہیات اور نبوت اور معاد اور بعث بعد الموت کے مسئلے میں ان سے بدرجہا بہتر تھے اور جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ ان کا فلسفہ اُن پر اس بات کو لازم کرتا ہے کہ وہ عالم میں سے کسی شے معین کے قدم کے قائل نہ ہوں تو یہ بات معلوم ہو گئی کہ وہ صریحِ معقول کے بھی خلاف ہیں جس طرح وہ صریح منقول کے خلاف ہیں اور یہ کہ وہ قواعدِ صریحہ میں تحریف کرنے میں یہود و نصاریٰ کے مشابہ ہیں جیسے انہوں نے پیغمبروں کی لائی ہوئی تعلیمات میں تحریف کردی یہی تو اس باب میں مقصود ہے ۔

پھر اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ ان کے ہاں معقول میں سے کوئی ایسی شے نہیں جس کے ذریعے وہ احد الطرفین کو پہچان لیں پس اس معاملے میں آسمان و زمین کی تخلیق کے بارے میں اور حدوث عالم کے بارے میں ان کے باتفاق پیغمبروں کا خبر دینا ہی کافی ہے اور فلسفہ صحیحہ تو معقولات محضہ پر مبنی ہے جو ان پران امور میں پیغمبروں کی تصدیق کو واجب کرتا ہے جس کی پیغمبروں نے ان کو خبر دی ہے اور ان کے لیے اس بات کو واضح کرتا ہے کہ انہوں نے اس کو ایک ایسے طریقے سے جانا ہے جس سے وہ عاجز ہیں اور یقیناً وہ امور ِ الٰہیہ اور معاد پر زیادہ اعلم ہیں اور ان امور پر جو نفوس اور انسانوں کو سعید اور شقی (نیک بخت اور بدبخت )بناتے ہیں اور ان کو یہ بات بتلاتے ہیں کہ جس نے رسولوں کی اتباع کی وہ آخرت میں سعید اور نیک بخت ہے اور جس نے ان کی تکذیب کی اور ان کو جھٹلایا وہ آخرت میں شقی اور بد بخت ہے۔نیز بھی کہ اگر انسان طبیعات اور ریاضیات کو جان لے تو قریب نہیں کہ وہ پیغمبروں کے دین سے نکل جائے یعنی کہ وہ (یعنی یہ علوم )اس کو پیغمبروں کے دین سے نکلنے پر آمادنہ نہیں کرے گابلکہ پیغمبروں کے ا دیان تو اس کے موافق ہیں اور یقیناً اس بات کو بھی کہ جس نے اپنی طاقت اور اپنی وسعت کے بقدراللہ اور رسول کی اطاعت کی وہ آخرت میں سعید اور نیک بخت ہوگا اگرچہ طبعیات اور ریاضیات میں سے اس نے کسی شے کو بھی جانا نہ ہو اور اس کی معرفت حاصل نہ کی ہو۔

لیکن ان کے سلف نے ریاضیات اور طعیات میں کثر ت سے کلام کیا کیوں کہ ان کے ہاں تو پیغمبروں کے وہ آثار اور وہ منقولی علوم نہیں تھے جن کے ذریعے وہ اللہ کی توحید کی طرف راستہ پائیں ۔ اور اس کی عبادت کی طرف اور وہ امور جان لیں جو آخرت میں ان کے لیے نافع ہیں اور ان کے سحر اور شیطانی افعال کے سبب ،شرک نے ان کے اوپر تسلط جمایا ہوا تھا اور کواکب کے ترصد اور ان کے حسابات معلوم کرنے میں انہوں نے اپنی عمریں صرف کر دی تھیں تاکہ وہ سحر اور شرک سے مدد حاصل کریں اور یہی حال امورِ طبعیہ کا ہے اور ان کی عقل کی منتہیٰ چند ایسے امور عقلیہ ہیں جو کلی ہیں جیسے کہ وجودِ مطلق کا علم اوروجود کا علت و معلول اور جوہر و عرض کا طرف انقسام کا علم اور جواہر کی تقسیم اور پھر اعراض کی تقسیم اور یہی ان کے ہاں حکمتِ اوّلی اور فلفسہ اولیٰ ہے اور اس کی منتہیٰ(آخری حد) اس وجودِ مطلق کا علم ہے جس کا وجودِ ذہنی کے سوا کوئی وجود ہی نہیں ۔

اسی سبب سے کچھ لوگ ان کی مسلک میں داخل ہو گئے یعنی وہ متصوفہ جو فلاسفہ تھے جیسے ابن عربی اور ابن سبعین اور تلمسانی اور ان کے امثال پس ان کے معرفت کی منتہیٰ وجودِ مطلق تھی ۔اور ان میں سے بعضو ں نے تو یہ گمان کیا کہ یہی وجودِ واجب ہے اور اس بات میں وہ گمراہی پائی جاتی ہے ۔دوسری جگہ پر یہ مسئلہ تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے۔

اس مسلک پر بہت سے مسلمان اور یہود و نصاریٰ اور ان کے علاوہ دیگر اہل ملل گامزن رہے ہیں ۔اور انہوں نے اس قول کے فساد کو بیان کیا جس پر عالم کے قدم کے قائلین چلے ہیں اور انہوں نے وہ نقلی دلائل ایک ایک کر کے ذکر کر دئیے جو ارسطواور اس کے دیگر امثال سے منقول تھے اور اس کے فساد کو بیان کیا پھر انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلہ کو نقل سے لیتے ہیں پس پیغمبروں نے تو ایسے امور کی خبر دی ہے جن کے نقیض پر کوئی دلیل عقلی قائم نہیں ہوتی لہٰذا اس کی تصدیق واجب ہے۔ 

حدوثِ عالم پر ایسے نقلی دلائل جن میں کوئی تاویل ممکن نہیں :

کئی وجوہ سے ان کی کوئی بھی تاویل ممکن نہیں ہے؛ ان میں سے :

پہلی وجہ :.... ایک یہ کہ ان کی مراد اضطراری اور بدیہی طریقے پر معلوم ہے پس اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں اگر ہو گی بھی توصرف مرسلین کی تکذیب کی صورت میں ہوگی۔

دوسری وجہ :.... اہل ملل کے سلف و خلف کے درمیان یہ امرظاہراً اور باطناً متفق علیہ ہے۔ پس یہ ممتنع ہے کہ رسول اس کے خلاف کوئی بات دل میں پوشیدہ رکھنے والے ہوں ؛ جس طرح کہ باطنیہ فرقہ میں سے بعض نے اس قول کو اختیار کیا ہے بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں ۔

تیسری وجہ :.... ایسی کوئی عقلی دلیل نہیں جو اس کے منافی ہو؛ بلکہ معقولات میں وہ تمام ادلہ جو اس کے منافی ہیں وہ سب کی سب فاسد ہیں اور ان کا فساد صریح عقلی دلائل سے معلوم ہے ۔

چوتھی وجہ :.... عقلی دلائل میں سے کچھ اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ پھر ان میں سے ہر ایک اس باب میں اس راستے پرچلا ہے جو اسے عقلیات میں سے آسان نظر آیا ۔

پانچویں وجہ :.... انسان کی فطرت اور بداہت سے یہ امرمعلوم ہے کہ حوادث کے لیے کسی محدث (پیدا کرنے والا )کا ہونا ضروری ہے اور مصنوعات کے لیے کسی صانع اور فاعل کا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ کہ مفعول کی اپنے فاعل کے ساتھ مقارنت ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ یہ امرعقول کی فطرت میں ممتنع ہے۔ اوریہ وہ دلائل ہیں جن سے یہ اپنے مخالفین پراستدلال کرتے ہیں ۔یہ مسئلہ اپنے مقام پرتفصیلاً بیان ہوچکا ہے۔

صفحہ 1 از 6