ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد - ردِ…

ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

اس نسبت سے تو انہوں نے اس کے کلام میں سے بہت بڑے حصے کو مسلمانوں اور فلاسفہ کے درمیان ایک حدِ فاصل اور برزخ قرار دیا ہے پس مسلمان تو اس میں مشائین کی طریقے پر عقلی نظر کو تلاش کرتا ہے اور فلسفی اس کی وجہ سے اسلام کامنقاد ہوتا ہے ،اسلام قبول کرتا ہے ایک فلسفی کے اسلام کی طرح پس وہ مسلم محض نہیں بنتا نہ وہ فلسفی محض بنتا ہے مشائین [چل چلاؤ والوں ]کے طریقے پر ۔ اور رہا فلسفہ کی مطلقا نفی یا مطلقا اثبات تو یہ ممکن نہیں اس لیے کہ فلاسفہ کا کوئی ایسا مذہبِ معین نہیں جس کی وہ دفاع کرتے ہوں اور نہ کوئی ایسا قول ہے جس پر وہ متفق ہوں الٰہیات میں ،معاد کے مسئلے میں اور پیغمبروں کے نبوت اور شرائع کے بار ے میں بلکہ طبعیات اور ریاضیات میں بھی بلکہ بہت سے منطق میں بھی اور وہ اس شے پر متفق نہیں ہوتے جس پر تمام کے تمام بنو آدم متفق ہیں یعنی ان امور میں سے جو حسیات اور مشاہدہ کے قبیل سے ہیں اور ان عقلیات کے قبیل سے جس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں اور جس شخص نے بھی تمام کے تمام فلاسفہ سے ان اجناسِ علوم میں سے کوئی ایک قول متفق علیہ نقل کیا ہے تو وہ ان کی فرق اور ان کے اقوالوں کے اختلاف پر علم نہیں رکھتا بلکہ اس کے لیے کافی ہے کہ وہ مشائین کے طریقے میں غور کرے جو کہ ارسطوکے اصحاب ہیں جیسا کہ ثامسطیوس ،اسکندرِ افرودیس،اور برقلسمن جو کہ قدماء ہیں اور جیسے کہ فارابی ،ابن سینا ،سہر وردی (مقتول)، ابن رشد حفید اور ابو البرکات اور اس کے امثال متاخرین میں سے ہیں اگرچہ ان میں سے ہر ایک کے ہاں الٰہیات اور نبوت میں اور معاد کے بار ے میں ایسا قول ملتا ہے جو اُس کے سلف متقدمین سے منقول نہیں اس لیے کہ ان لوگوں کے ہاں اس باب میں کوئی ایسا علم نہیں جس کو ان کے اتباع اور پیروکارقبول کریں اور بے شک ان لوگوں کا اکثر علم طبیعات پر مشتمل ہے پس وہ اسی میں وہ غور خوض کرتے ہیں اور اس میں ان کا نظر دوڑتا ہے اور اسی کے سبب اِن لوگوں نے ارسطوکی تعظیم کی ہے اور اس کا مرتبہ اونچا کیا ہے اور اسی کے سبب ہے اس کی اتباع کی ہے بوجہ اس کے کہ وہ قطیعات میں اکثر کلام کرنے والا ہے اور اس میں اس کی بات دوسروں کی بہ نسبت درستگی کے زیادہ قریب ہے ۔

رہے الٰہیات تو وہ اور اس کے پیروکاراس کی معرفت سے انتہائی دوری میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے کلام میں وہ پوری بات پائی جاتی ہے اور ان کے علاوہ دوسروں کے کلا م میں بھی عقلیات صحیحہ میں کوئی ایسی بات نہیں جو پیغمبروں کی تعلیمات کے خلاف پر دلالت کرتی ہو اس کے خلاف ان میں کوئی بھی دلیل ظنی نہیں ہے چہ جائے کہ قدمِ افلاک پر کوئی دلیلِ عقلی پائی جائے بلکہ افلاک میں سے کسی بھی شے کے قدم پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی اور ان کے بڑے ادلہ تو ایسے امورِ مجملہ ہیں جوکہ عام انواع پر دلالت کرتے ہیں وہ عالم میں سے کسی شے معین کے قدم پر دلالت نہیں کرتے پس جس بات کی رسولوں نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا ہے جیسے کہ پیغمبروں نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کے درمیان (مخلوقات )کو چھ ایام میں تو لوگوں میں سے کسی شخص کو بھی یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ اس بات کی نفی پر کوئی صحیح دلیلِ عقلی قائم کر ے ۔

رہا وہ کلام جس سے متکلمین اِن پر اور اِن کے علاوہ دوسروں پررد کرنے کیلئے استدلال کرتے ہیں تو اس میں سے کچھ درست اور کچھ غلط ہے ،اس میں سے کچھ وہ ہے جو شرع اور عقل کے موافق ہے اور کچھ وہ ہے جو ان کے مخالف ہیں اور ہر حال میں وہ نظر و مناظرہ اور امورِ کلیہ میں فکر اور نظر کے اعتبار سے زیادہ حاذق ہیں اور ان معقولات کا زیادہ علم رکھتے ہیں جو الٰہیات سے متعلق ہیں اور ان کا قول ان فلاسفہ کی بہ نسبت زیادہ درست ہے اور طبعیات اور ریاضیات میں کلام کرنے والے ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ حاذق ہیں جنہوں نے ان (طبیعیات اور رضاضیات )اُن کی طرح کو نہیں پہچانا ساتھ اس خطاء کے جو اس میں پائی جاتی ہیں ۔

یہاں تو مقصود یہ ہے کہ ان کے آئمہ اور ان حازقین سے جن کے عقول اور ان کے معارف ،الٰہیات کے مسئلے میں ارسطواور ان کے اتباع کے کلام سے بھی اونچے ہیں اور ابن سینا اور ان کے امثال کے کلام سے بھی تو سب سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ عالم میں سے کسی شے کے قدم کا قول اختیار کرنے کے لیے موجب کیا بنا ؟اور تمہارے ہاں تو اس میں سے کسی شے معین کے قدم کی کوئی دلیل ہی نہیں اور تمہارے ہاں تو فلسفہ کی بنیاد تو انصاف پرمبنی ہے اور علم کے اتباع اور پیروی پر مبنی ہے اور فلسفی تو وہی شخص ہوتا ہے جو حکمت کو پسند کرنے والا ہوتا ہے اور فلسفہ تو حکمت کی محبت کا نام ہے اور تم نے جب اُن لوگوں کے کلام میں غور وخوض کیا جنہوں نے اس باب میں کلام کیا ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں پائی جو عالم میں کسی شے معین کے قدم پر دلالت کرتی ہو باوجود یہ کہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ تمام جماعتوں کے جمہور علماء اس امرپر متفق ہیں کہ اللہ کے ماسوا سب کچھ مخلوق ہیں اور وہ عدم کے بعدموجود ہوئے اور یہی تو پیغمبروں اور مسلمانوں میں سے ان کے پیروکاروں اور یہود و نصاریٰ کا قول ہے۔


صفحہ 4 از 4