ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد - ردِ…

ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

کیوں کہ انہوں نے نوعِ فعل اور عینِ فعل کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا اور ان لوگوں کاقول تو اس بات کا سبب بنا کہ بہت سوں نے فلک کے دوام یا عالم میں سے کسی شے معین کے دوام کا گمان کر لیا کیوں کہ ان لوگوں نے نوعِ فعل اور عینِ فعل کے درمیان فرق نہیں کیا اور ’’فاعلیت کا دوام ‘‘تو ایک مجمل بات ہے کیا اس کے ذریعے فاعلیت معینہ کا دوام مراد ہے یا فاعلیتِ مطلقہ کا دوام مراد ہے ،یا فاعلیتِ عامہ کا دوام مراد ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ اگر فاعلیتِ عامہ تمام مفعولات کا دوام کہلاتا ہے تو اس کا تو کوئی بھی عاقل قائل نہیں اور کسی مفعولِ معین کے لیے فاعلیتِ معینہ کا دوام ایک ایسی بات ہے جس پر ان کے ہاں بالکل کوئی دلیل نہیں بلکہ ادلہ عقلیہ تو اس کی نفی کرتے ہیں جس طرح کہ ادلہ نقلیہ نے اس کی نفی کی ہے رہا ۔

فاعلیتِ مطلقہ کا دوام تو ان کے قول کو ثابت نہیں کرتا بلکہ وہ تو ان لوگوں کے خطا کو ثابت کرتا ہے کہ نفی کرنے والے ہیں یعنی جو ان کے مدِ مقابل ہیں اہل کلام اور فلسفہ میں سے اور اس قول کے بطلان سے دوسرے کے قول کی صحت لازم نہیں آتی ہاں سوائے اس صورت کے کہ صرف یہی دوقول ہوں ( کوئی تیسرا قول نہ ہو )۔

رہا یہ کہ اگر وہاں کوئی قولِ ثالث بھی ہے تو پھر دو قولین میں سے کسی ایک کی صحت ضروری نہیں ٹھہرے گی پس اگر قولِ ثالث ادلہ عقلیہ اور نقلیہ سے مؤید ہو ( پھر تو بطریق اولی کسی ایک قول کی صحت ضروری نہیں ) اور یہاں تومقصود یہ ہے کہ دونوں طائفتین جنہوں نے افلاک کے قدم کا قول اختیار کیا ہے وہ ملحد ہیِ خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور افعال کااس کی ذات کے ساتھ قیام کا قول اختیار کریں یا وہ یہ نہ کہیں یعنی اس کی نفی کریں پس یہ فلاسفہ باوجود اس کے کہ غلطی اور درستگی میں ،خطاء اور ثواب میں علوم الٰہیہ کے بارے میں خطاء اور ثواب میں مختلف مراتب پر ہیں بتحقیق وہ رد جو ان کی طرف متوجہ ہے وہ ان بدعات کی وجہ سے ہے جس کو ان اہل کلام نے اختیار کیا ہے اور اس کو ملتِ حق کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔

وہ فلاسفہ جو اہل کلام کی بہ نسبت مللِ حقہ کی معرفت سے انتہائی زیادہ دورہیں ان میں سے بعض یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بھی کوئی ملت سماویہ ہیں ۔ اور بعض تودوسروں کی بہ نسبت نقلی دلائل کا زیادہ علم رکھتے ہیں پس وہ متکلمین کے کلام پر ایک ایسا رد کرنے لگے جس پر ان کے ہاں کوئی نقلی دلیل نہیں تھی۔ اور جن امور میں ان کے پاس کوئی نقلی دلیل تھی؛ اس میں انہوں نے دو قولین میں سے کوئی ایک اختیار کر لیا یا یہ کہ وہ ظاہراً اور باطناً دونوں حالتوں میں اس بات کا اقرار کریں بشرطیکہ وہ ان کے معقول کے موافق ہوں یا پھر وہ ان کو اپنے امثال کے ساتھ ملحق کریں اور وہ یہ کہیں کہ پیغمبروں نے تمثیل اور تخییل کے طریقے پر ان امور پر کلام کیا ہے بوجہ حاجت کے۔

ابن رشد اور ان کے امثال اس طریقے پر چلے ہیں اسی وجہ سے یہ لوگ ابن سینا اور ان کے امثال کی بہ نسبت اسلام کے زیادہ قریب ہیں اور وہ عملی احکام میں ان لوگوں کی بہ نسبت حدودِ شرح کی زیادہ حفاظت کرنے والے ہیں یعنی ان لوگوں کی بہ نسبت جنہوں نے واجباتِ اسلام کو چھوڑ دیا اور اس کے محرمات کو حلال سمجھا اگرچہ ان میں سے ہر فریق کے قول میں الحاد اور تحریف پایا جاتا ہے قرآن و سنت کی مخالفت کے سبب اور ان کے قول میں درستگی اور حکمت اسی نسبت سے پائی جاتی ہے جس نسبت سے وہ کتاب و سنت کے موافق ہیں اسی وجہ سے ابن رشد حدوثِ عالم کے مسئلہ میں اور اجسام کی دوبارہ بعثت کے مسئلہ میں توقف ظاہر کرنے والا ہے اور دونوں قولین کو جائز قرار دینے والا ہے اگرچہ اس کا باطن اپنے سلف کے قول کی طرف نسبتاًزیادہ مائل ہے اور اس نے ابو حامدِ غزالی پر تھافت التھافت میں ایسا رد کیا ہے کہ اس کے بہت سے مقامات میں اس نے خطا کی ہے اور اس معاملے میں حق ابو حامد غزالی کے ساتھ ہے یعنی حق اس کی تائید کرتا ہے ۔

بعضوں نے اس کو ابن سینا کے کلام میں سے قرار دیا ہے نہ کہ اس کے سلف کے کلام میں سے اور اس میں خطاء کی نسبت ابن سینا کی طرف کر دی اور بعض نے تو اس میں ابو غزالی کی طرف زبان درازی کی اور اس کو قلت انصاف کی طرف منسوب کیا بوجہ اس کے کہ اس نے اصولِ کلامیہ اور فاسدہ پر اس کی بنیاد رکھی ہے جیسے کہ رب تعالیٰ کا کسی سبب اور حکمت سے کوئی فعل نہ کرنا اور اس طرح قادرِ مختار کا اپنے دو مقدورین میں سے کسی ایک کو دوسرے پر بلا کسی مرجح کے ترجیح دینا ۔

بعض تو اس میں بوجہ اشتباہ کے حیرت میں پڑ گئے اور اس نے اس میں کلام کیا اور میں نے ابو حامد غزالی کے قول کی تحقیق کی ہے کہ اس میں درست کتنا ہے ،اصولِ اسلام کے موافق کتنا ہے اور اس کلام کے خطاء کو بھی بیان کیا کہ جو اس کے مخالف ہے یعنی ابن رشد اور دیگر فلاسفہ کا کلام اور یہ بات بھی میں نے ثابت کی ہے کہ ان لوگوں نے کتاب و سنت کے موافق جو بات حق کی ہے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا بلکہ قبول کیا جائے گا اور جس میں ابو حامد غزالی نے کوتاہی کی ہے یعنی ان کے اقوالِ فاسدہ کے ابطال میں تو ایک دوسرے طریقے سے اس کا رد کرنا بھی ممکن ہے جس کے ذریعے ابو حامد کی اس کے صحیح قصدپر مدد کی جا سکتی ہے اگرچہ یہ اور اس جیسے دوسرے امثال انہوں نے اس کے اوپر زبان درازی کی ہے بسبب ان اصولِ فاسدہ کے جن میں امام غزالی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے اور بسبب اس کلام کے جو اس امام غزالی کی کتاب میں پایا جاتا ہے اور جو ان کے اصول کے موافق ہیں اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں اس جیسا شعر کہنا مناسب ہے:

یومان یمان اذا ماجئت ذایمن

وان لقیت معدیا فعدنانی

صفحہ 3 از 4