ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد - ردِ…

ابن ملکا اور اس کے متبعین کا فلاسفہ کے اسلاف پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

بلکہ یہ ان متکلمین اور فلاسفہ کے قول کی طرف مائل ہوئے جن کی رائے یہ ہے کہ جنسِ کلام اور فعل ممکن بنا بعد اس کے کہ ممتنع تھا بغیر کسی نئے ارداے کے پیدا ہونے کے اور فاعل ذات قادر بنابعد اس کے کہ وہ قادر نہیں تھا اور یہ کہ وہ حوادث کو پیدا کرتا ہے بغیر کسی زمان کے اور یہ بھی کہ وہ ازل سے قدیم ہے اور فعل اور کلام سے اس کی ذات معطل ہے وہ نہ کلام کرتا ہے اور نہ ازل میں وہ کسی شے کا فاعل ہے یہاں تک کہ پھر اس نے کلام کیا اور فعل بھی صادر کر دیا ۔

بہت سے تو یہ کہتے ہیں کہ فعل اور کلام سے اللہ کی ذات معطل ہو جائے گی لہٰذا جنت فنا ہو جائے گی ،ان کی حرکت بھی فنا ہو جائے گی جیسے کہ جہم بن صفوان نے جنت اور نار کے بارے میں کہا ہے اور جیسے کہ ابو االھزیل علاف نے حرکات کی فنا میں کہا ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فعل اور کلام کی مدت کو اس کے ازلیت اور ابدیت کی بہ نسبت انتہائی درجے کی قلت والی مدت قرار دی ہے پس ان لوگوں نے ان مبتدعینِ جہمیہ اور معتزلہ کے بارے میں امیدرکھی اور ان متکلمین اور مبتدعین کی وجہ سے یعنی ان کی طرف میلان کی وجہ سے دوسرے اہل ملل کے احوال پر رد کیا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ قولِ صحیح تو صرف اور صرف انہی مبتدعین کا ہے اور یا یہ کہ ان فلاسفہ ملحدین کا قول ہی درست قو ل ہے ۔

ان کا قول یہ ہے کہ نقلی دلائل ان مبتدعین کے زیادہ قریب ہے اور ملحدین کے قول سے زیادہ بعید ہے پس انہوں نے کہا کہ انبیائے کرام نے مثالیں پیش کی ہیں اور ان کے لیے حقائق اشیاء کے ساتھ خبر دینا ممکن نہیں تھا اور وہ الحاد کے دروازے میں داخل ہو گئے اور اللہ کے کلام اور اس کے کلمات کو اپنے صحیح محامل اور معانی سے ہٹا کرتحریف میں مبتلا ہوگئے بسبب ان مفسدہ کے جو ان میں پایا جاتا ہے یعنی سمعیات اور نقلی دلائل کا انکار۔ اگرچہ وہ فلاسفہ جنہوں نے رب تعالیٰ کی صفات اور اس کے ان افعال کی نفی کی جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور وہ فلاسفہ جوان سے پہلے گزرے ہیں وہ الحاد اور تحریف کے اعتبار سے ان لوگوں سے زیادہ فساد میں مبتلا ہیں جنہوں نے صفات اور امور اختیاریہ کو ثابت کر دیا لیکن ا س کے باوجود قدمِ عالم کا قول اختیار کیا اور دونوں جماعتیں صریح معقول سے نکل گئی ہیں جس طرح کہ صریح منقول سے بھی یہ رو گردانی کر چکے ہیں بسبب ان غلطیوں کے جو اس باب میں انہوں نے کی ہیں اور ہر وہ شخص جو حق میں سے کسی بھی شے کا اقرار کرے تو یہ اس کے لیے دوسرے کے قبول کی طرف داعی بنتا ہے اور اس پر اُس کا قبول کرنا لازم ہو جاتا ہے جو کہ اس شخص پر نہیں لازم ہوتا جس نے حق کو پہنچانا نہیں تھا اوررب تعالیٰ کی ذات کیساتھ قائم صفات اور افعالِ کی نفی کا قول منافی ہے اس کے اس ذات کے فاعل اور اس کے محدث ہونے کے ۔

اسی وجہ سے جب ابن سینا نے اپنے اشارات میں ان لوگوں کے اقوال کو ذکر کر دیا جو قدم اور حدوث کے قائل ہیں تو اس نے صرف اور صرف ان لوگوں کے قول کو ذکر کیا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ دوسرے قدیم ذوات کو بھی ثابت کیا ہے جو کہ معلول نہیں ہیں اس کے لیے کہ جیسے وہ قول جو کہ ذی مقراطیس سے منقول ہے قدمائے خمسہ کا اور ابن ذکریا نے اس کو اختیار کیا ہے اور ان مجوس کا قول جو کہ دو قدیم اصلین کے قدم کے قائل ہیں اور معتزلہ میں سے متکلمین کا قول اور اس کے اصحاب کا قول پس اس نے ان اہل ملل کا قول اور آئمہ فلاسفہ کا قول ذکر نہیں کیا جنہوں نے رب تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہونے والے امور ِ اختیاریہ کو ثابت کیا ہے اور یہ بات کہ وہ ازل سے اپنی مشیت کے ساتھ متکلم ہیں جب بھی وہ چاہے افعال کواپنی مشیت کے ساتھ اور ان دونوں فریقین کی حجتیں اور دلائل اس نے ذکر کر دئیے ہیں اور پھر اس نے یہ اقوال پڑھنے والے کو اس بات کا حکم دیا ہے جس قول کو وہ ترجیح دیں اسی کو وہ اختیار کر لیں ساتھ اس کے کہ ضروری ہے کہ وہ اُس توحید کو بھی تھامے ہوئے ہوجو اس کے نزدیک نفس کی صفات سے عبارت ہیں اس لیے کہ اس کو اس نے بنیاد قرار دیا ہے ایسا بنیاد جو اور اس کے اور اس کے خصوم کے درمیان متفق علیہ ہے۔

امام رازی نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ صفات کا مسئلہ حدوثِ عالم کے مسئلے سے متعلق نہیں اور صورتِ حال وہ نہیں ہے جو کہ امام رازی نے فرمایا ہے بلکہ صفات کی نفی تو ایک ایسی بات ہے جو قدمِ عالم کے قائلین کے شبہات کی تقویت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہونے والے افعال کے اثبات کے ساتھ ان کے ادلہ کے انتہائی درجے کا فساد ظاہر ہو جاتاہے بلکہ ان کے قول کا فساد باوجود یکہ صفات کی نفی اس کے قول کے فساد پر بھی دلالت کرتی ہے یہ اس امر سے زیادہ قبیح ہے جو ان کے مخالفین کے قول کے فساد پر دلالت کرتا ہے لیکن ابن سینا تو ان متکلمین کے درمیان پروان چڑھے جو صفاتِ رب تعالیٰ کی نفی کرنے والے ہیں اور ابن رشد کلاّبیہ کے درمیان پروان چڑھے اور ابو البرکات تو بغداد میں اہل سنت علماء اور علماء اہل حدیث کے درمیان پروان چڑھے پس ان میں سے ہر ایک کی حق سے جو دوری ہے وہ پیغمبر کے آثار کی معرفت سے دوری کے اعتبار سے ہے (یعنی جو پیغمبرکے آثار کی معرفت سے جتنا دور ہے اتنا وہ حق سے دور ہے )اور حق سے اس کے قرب پیغمبر کے آثار کے معرفت سے اس کے قرب کے اعتبار سے ہے ۔

یہ فلاسفہ حدوثِ عالم کے مسئلہ میں ان لوگوں کے قول کو باطل سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ انہوں نے جب ان کے اس قول کو باطل کر دیا تو پھر ان کا یہ قول حق رہ گیا اور فاعلیت کے دوام کے قول کو انہوں نے مجمل قرار دیا جس طرح کے ان لوگوں نے اُن کے اس قول کو یعنی کہ ہر وہ شے جو حوادث سے سابق نہ ہو تو وہ حادث ہی ہوتا ہے اس کے اِس قول کو مجمل قرار دیا ہے ۔پس ان لوگوں کے قول کا نتیجہ یہ نکال کہ جن لوگوں نے ان کے قول کو سنا تو ان میں سے اکثروں نے اللہ تعالیٰ کے ازل میں متکلم ہونے کا انکار کر لیا۔

صفحہ 2 از 4