عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 10

پھر بے شک وہ لوگ قدریہ پر اس بات کی نکیر کرتے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ قادر ذات وہ اپنے دو مقدورین میں سے ایک کوبلا مرجح کے ترجیح دیتا ہے۔ بلکہ اپنے ارادے ہی سے وہ اسے پیدا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کے لیے کوئی اس ارادے کے علاوہ کوئی اور شے اس کی ذات میں حادث ہو اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نے ارادے کو پیدا کر لیا بغیر کسی ارادے کو اور یہ لوگ ایک ایسی بات کہتے ہیں جو اس سے بھی زیادہ ابلغ ہے حرکتِ فلک میں اور وہ ان کے اصول صحیحہ میں بھی مناقض اور متصاد ہے پس یہ لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حادث ارادے اور حرکاتِ حادثہ صرف اور صرف ایک ایسے سبب کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں جو اس کی حدوث کی تقاضا کرنے والا ہو اور کمالِ سبب کے پائے جانے کی صورت میں اس کا حدوث واجب ہے اور اس کے نقص کی صورت میں اس کا حدوث ممتنع ہے تو بتحقیق انہوں نے اس بات کو جان لیا جو انہوں نے قدمِ عالم اور سببِ حادث کے بارے میں کہی وہ باطل ہے ۔

اس لیے یقیناً ان کے نزدیک تو فلک سے اوپر کوئی ایسا سبب نہیں پایا جاتا جو اس کے حادث ہونے والے تصورات اور ارادات کے حدوث کا موجب ہو سوائے ان ارادوں اور تصورات کے جو اس مخلوقِ کے لیے ثابت ہیں جو واجب الوجود کی طرف محتاج ہے اور یہ بات بھی واضح طور پر معلوم ہے کہ جو شے بالقوۃ ہو وہ فعل (وجود حسی اور حقیقی ) کی طرف نہیں منتقل نہیں ہوتا مگر کسی مخرج ذات کی وجہ سے یعنی جو اس کو قوتِ فعل کی طرف نکالے پس ضروری ہے کہ فلک سے اوپر کوئی ایسی شے ہو جو اس کی حرکت کے حدوث کا موجب ہو ۔

ارسطواور اس کے متبعین نے جو بات ذکر کی ہے کہ اول ذات وہی ہے جو فلک کو حرکت دیتا ہے اسی طرح جیسا معشوق کا عاشق کو حرکت دینا ہے اور یقیناً فلک اس کے ساتھ تشبہ (اس کے مثل ہونے کی وجہ سے )کی وجہ سے متحرک ہے اور اسی وجہ سے وہ علل کے لیے علت بنتا ہے اور اسی وجہ سے فلک کا قوام اور اس کی بقاء ہے کیوں کہ فلک کا قوام اس کی حرکت سے ہے اور اس کی حرکت کا قوام اس کے ارادے اور شوق کی وجہ سے اور اس کے ارادہ اور شوق کا قوام تو اس موجود کی وجہ سے جو کہ اس مراد پر سابق ہے جس کے ساتھ تشبہ کی وجہ سے اس کو حرکت حاصل ہوئی پس یہ کلام باوجود یکہ اس میں وہ باطل کلام پایا جاتا ہے جس کو ماقبل میں کئی مقامات پر بیان کر دیا گیا تو اس کی زیادہ سے زیادہ حد یہ ہے کہ وہ حرکتِ فلک کے لیے علت غائیہ ثابت ہو جائے گی اور اس میں حرکت فلک کیلئے علت غائیہ ثابت ہونے کی سوائے اس کے کوئی اور دلیل نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ اس کے تصورات اور حرکات کو وہی پیدا کرنے والا ہے ،اس واجب الوجود کی طرف احتیاج کے بغیر اور اس کے فاعل بننے میں علت اولیٰ کی طرف احتیاج کے بغیر جس طرح کہ محبت کرنے والا عاشق معشوق طرف حرکت کرنے کے لئے فاعل ہونے کے جہت سے محبوبِ معشوق کی طرف محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کے مراد اور مطلوب بالحرکۃ ہونے کی جہت سے وہ محتاج ہوتا ہے اور اس کا مطلب تو یہ ہو کہ حرکاتِ محدثہ اور تمام متحرکات رب العالمین سے مستغنی ہیں نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ ان حوادث میں کسی شے کے لیے بھی فاعل نہیں اور نہ وہ انکار ب ہے ۔

اگر وہ اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ اس نے فلک کو پیدا نہیں کیا بلکہ وہ (فلک)تو قدیم واجب الوجود بذاتِ خود ہے اور وہ عالم میں سے کسی شے کا رب نہیں تو اگر وہ کہیں کہ یہ وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے تو یہ ان کی طرف سے ایک ایسا تناقض ہے جیسے کہ قدریہ کے اقوال میں تناقض پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا اس ذاتِ فلک کو اور اس کی صفات کو پیدا کرنا یہ اس امرکو ثابت کرتا ہے کہ اس میں سے کوئی شے بھی حادث اورموجود نہ بنے مگر رب تعالیٰ کے فعل اور اس کے احداث کے ساتھ جس طرح کہ باقی حیوانات بھی تب ہی حادث ہوتے ہیں جب رب تعالیٰ ان کو پیدا کرتا ہے اور ان کا احداث کرتا ہے پس یہ قول اس تعطیل عام اور اس تعطیل خاص کے درمیان متردد ہے جس میں وہ قدریہ سے زیادہ بد تر ہیں اور رہا ان کا قدریہ پررد کرنا تو یہ بالکل باطل ہے کیونکہ وہ (قدریہ )ہر تقدیر پر حالانکہ اِن سے بہتر ہیں۔

صفحہ 9 از 10