عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 10

اسی طرح وہ یہ کہتے ہیں کہ عقل فعال دائم الفیض ہے یعنی اس کا فیض اور تاثیر دائم ہے اسی سے وہ تمام اشیاء جواس سے فیض حاصل کرتی ہیں جو کہ عالم میں ہیں یعنی جسمانی اور نفسانی صورتیں ۔پس اسی سے علوم اور ارادات کا فیض مستفاد ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر امور کا اوروہ ان کے نزدیک قمر کے فلک کے ماتحت جتنا کچھ ہے اس کا رب ہے لیکن وہ ان کے ہاں مستقل نہیں بلکہ اس کا فیض استعدادات اور ان قوابل کے حصول پر موقوف ہے جو حرکاتِ افلاک کے ساتھ حاصل ہوتا ہے اور وہ حرکات جو قمر کے فلک سے سے بھی اوپر ہیں وہ اس کی ذات سے مستفاد نہیں بلکہ اس کے غیر سے ہیں اوران کے نزدیک یہ عقل ہی رب البشر ہیں اور اسی سے وحی اور الہام کا فیضان ہوتا ہے تبھی تو اس کو جبریل کا نام دیتے ہیں اور کبھی جبریل کو وہ ذات قرار دیتے ہیں جو پیغمبر کے نفس کے ساتھ قائم ہوتا ہے یعنی صورتِ خیالیہ اوریہ سارا کلام انتہائی درجے کا باطل کلام ہے جس طرح کہ اس کو اپنے مقام پر تفصیل سے بیان کیا گیا ۔

لیکن یہاں تو مقصود یہ ہے کہ وہ واجب الوجود کے فیض کی مثال اس عقلِ فعال اور سور ج کی فیض کے ساتھ دیتے ہیں حالانکہ یہ باطل تمثیل ہے ا س لیے کہ یہاں فیضان کرنے والا اپنے فیض میں اور اثر پہنچانے میں مستقل بذاتہ نہیں بلکہ اس کا فیض تواس شے پر موقوف ہے جواس کی ذات ایک غیر اس کے اندر پیدا کرتا ہے یعنی استعداد اور قبول اور اس کے غیر کا جو احداث ہے وہ تو اس کی ذات کے علاوہ اورشے کی تاثیر ہے اور رب العالمین کے حق میں تو وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ مخلوق پر فیضان میں اور تاثیر میں اس کے لیے کوئی شریک نہیں اور اس کا کوئی بھی فیض غیر کے فعل پر موقوف نہیں بلکہ وہ قابل (اثر قبول کرنے والے )کا بھی رب ہے اور جو اثر قبول کیا جائے یعنی مقبول اس کا بھی رب ہے ،مستعد اور مستعد لہ دونوں کا رب ہے اور اُسی کی ذات سے استعداد ہے اور اسی کی ذات سے امداد یعنی فیض ہے اور جب اس قول کے بعد وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ علتِ تامہ ازلیہ ہے اور اس کا فیض عام ہے لیکن وہ (اس کا فیض )قوابل اور استعدادات کے پیدا ہونے پر موقوف ہے چاہے وہ فلکی اشکال یا اختلافِ کوکبیہ کے ساتھ ہو یا س کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ہو ۔ تو ان سے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر تم کہتے ہو کہ وہ اس حادث کے لیے علتِ ازلیہ ہیں تو پھر اس کا ازل میں وجود لازم آئے گا اور گر تم یہ کہتے ہو کہ وہ علتِ تامہ تب ہی بنتا ہے جب قوابل اور استعدادت پیدا ہوں تو جواب میں تمہیں کہا جائے گا کہ جب قوابل کا پیدا کرنا بھی اسی کی ذات سے (مستفاد)ہے تو وہ دونوں کے لیے محدث (پیدا کرنے والے )ہیں پس ان دونوں کے احداث سے پہلے وہ نہ اس کے لیے علتِ تامہ ہے اور نہ اس کے لیے ،پس تم ان دونوں کو اُس نے پیدا کیا قابل اور مقبول کو پس جب اس نے ان دونوں کو پیدا کر دیا کسی چیز کے تجدد کے بغیر تو یہ بات لازم آئی کہ وہ ان دونوں کے لیے ازل ہی سے علتِ تامہ تھا یا وہ ان دونوں کے لیے علت تامہ نہیں تھا پس یہ بات لازم آئے گی کہ یہ دونوں حادث اشیاء قدیم ہوں یا حادث ہوں اس لیے کہ یقیناً ان دونوں کی علتیں اگر ازلی ہیں تو پھر ان کا قدم لازم آئے گا۔ اور اگر وہ حادث نہیں ہیں تو پھر ان کا عدم لازم آئے گا اور تم تو ان دونوں حادثین یعنی قابل او مقبول کی علت کو حادث قرار دیتے ہو بعد اس کے کہ وہ معدوم تھا یعنی وہ بتمامہ معدوم ہونے کے پیدا ہوا اوریہاں کوئی بھی ایسی شے نہیں جس نے تمام کے حدوث کو ثابت کر دیا اس لیے کہ تمام کے لیے جو فاعل ہوتا ہے اس کی حالت قبل التمام اور بعد التمام برابر ہے پس یہ امر ممتنع ہے کہ وہ اس دونوں حالتوں میں سے کسی ایک کے لیے علتِ تامہ ہو ،دوسرے کے لیے نہ ہو اور وہ سارے امور جس کو وہ فرض کرتے ہیں جس سے تمام علت حاصل ہوتا ہے وہ بھی اول کے بعد ہی حادث ہے پس تمہارے قول کی حقیقت یہ ہوئی کہ عالم کے حوادث اس کی ذات سے پیدا ہوتے ہیں باوجود یہ کہ وہ ازل سے علتِ تامہ ہیں یا یہ کہ اس کے باوجود وہ علتِ تامہ نہیں باوجود یہ کہ علتِ تامہ تو اپنے معلول کے ساتھ تامہ بنتی ہے نہ کہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد اور یہی بات تو حوادث کے عدم کا یااُن کے قدم کاتقاضہ کرتی ہے او ریہ دونوں امر مشاہدے کے خلاف ہیں اسی وجہ سے ان کے قول کی حقیقت تو یہ ہے کہ حوادث تو بغیر کسی محدث کے پیدا ہوتے ہیں ۔

ان کا حرکتِ فلک کے بارے میں قول حرکتِ حیوان کے بارے میں قدریہ کے قول کے مشابہ ہے اس لیے کہ قدریہ تو یہ کہتے ہیں کہ حیوان قادر ہے اور ارادہ کرنے والا ہے اور وہ بغیر کسی ایسے سبب کے جو فعل کے لیے موجب ہو ،فعل صادرکرتا ہے بلکہ ان اسباب کی نسبت کے باوجود جو کہ حدوث کے لیے موجب ہیں یعنی حدوث کے لیے سبب ہیں تو ان کے ساتھ ہی وہ فعل کرتا ہے بلکہ ان کے نزدیک تو اِس حادث اور اُس حادث کی طرف ان اسباب کی نسبت برابر ہے جو کہ حدوث کے لیے موجب ہے اس لیے کہ بے شک ان کے نزدیک وہ تمام امور جس پر مومن ایمان لاتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی اطاعت گزار مطیع کہلاتا ہے بتحقیق وہ ہر اس شخص کے لیے حاصل ہے جس کو ایمان اور طاعت کا حکم دیا گیا ہے لیکن فرمان بردارمومن نے ایمان اور طاعت کو ترجیح دی بغیر کسی ایسے سبب کے جس کے ساتھ وہ مختص ہے اور اس کے ذریعے رجحان (ایمان کو کفر پر)حاصل ہوا ہے اور کافر (کی شان )تو (مومن کے )بالعکس ہے ۔یہ وہی بات ہے جولوگ حرکتِ فلک کے بارے میں کہتے ہیں کہ بے شک وہ اس کے ارادے اور قدرت کے ساتھ صفتِ دوام کے ساتھ متحرک ہے بغیر کسی ایسے سبب کے جو اس کے مرید بننے اور قادر بننے کا تقاضہ کرتا ہو باجود یکہ اس کا ارادہ اور اس کی قدرت اور اس کی حرکات حادث ہیں بعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھے بلکہ معدوم تھے اور وہ بغیر کسی ایسے شے پیدا ہونے والا ہے جس نے اس کو مرید اور متحرک بنایا پس ایک ممکن چیز حاصل ہوا بغیر ایسے مرجح تام کے جس نے اس کے رجحان کو ثابت کیا اور حادث حاصل ہوا بغیر کسی ایسے سببِ تام کے جس نے اس کے حدوث کو ثابت کیا ۔

صفحہ 8 از 10