عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 10

یہ اس صورت کے بخلاف ہے جس کی یہ مثال دیتے ہیں انسان کی حرکت کے ساتھ جو کہ ارادۃً یا طبعاً ہو اس لیے کہ بے شک جب کوئی متحرک مسافتِ اولیٰ کو طے کرتا ہے تو اس کو ایک ایسی قدرت حاصل ہو جاتی ہے جو اس سے پہلے اس کو حاصل نہ تھی اور اس کے ہاں ایک ایسا ارادہ پیدا ہو جاتا ہے جو اس حال سے پہلے نہ تھا جس طرح کہ انسان اپنی ذات میں پاتا ہے جب کہ وہ چلنے لگتا ہے اس لیے وہ اپنے نفس میں مسافتِ بعیدہ کو طے کرنے سے عجز پاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو پہنچ جائے اور وہاں تک پہنچنے سے پہلے اس کے طے کرنے کا پختہ ارادہ کرنے والا ہوتا ہے جب وہ پہنچ جاتا ہے تو وہ اس حال میں اس مسافت کے طے کرنے کا ارادہ کرنے والا نہیں ہوتا پس جب وہ پہنچ جاتا ہے تو وہ اس کے طے کرنے کا ارادہ کرنے والا ہو جاتا ہے اور پھر اس کے طے کرنے پر قادر بھی بن جاتا ہے اور پکے ارادے اور قدرتِ تامہ کی صورت میں مراد کا پایا جانا ضروری ہے۔ پس ایسی صورت میں جو کچھ مسافت کو طے کیا جاتا ہے وہ محض اس حرکت کے معدوم (متلاشی )ہونے کی وجہ سے نہیں جس کے ذریعے مسافتِ اولیٰ کو طے کیا تھا بلکہ (مسافت ثانیہ کو )اس قدرت اور ارادے کی وجہ سے (طے کیا )جو دھیرے دھیرے نئے پیدا ہو رہے ہیں ۔ پس یہ قدرت اور ارادے جو متجدد ہیں اور ہر آن اور لحظہ میں نئے پیدا ہو رہے ہیں اور تقاضہ کر رہے ہیں اس مسافت کے طے کرنے کا تو یہ وہ کلی ارداے اور استعداد ہیں جو اس کی ذات میں پائی جاتی ہیں اور پہلی مسافت کا طے کرنا اس (مسافت ثانیہ کے طے کرنے )سے مانع تھا پس جب وہ مانع زائل ہوا تو مقتضی نے اپنا عمل کر لیا پس اس کا ارادہ اور اس کی قدرت مکمل ہو گئی اور اس نے پھر مسافت کو طے کر لیا۔

یہی حال ہے پتھر کی اوپر سے نیچے کی طرف حرکت کا؛ جب بھی وہ نیچے آتا ہے تو اس کے اندر ایک ایس نئی قوت پیدا ہوتی ہے جو اس سے پہلے اس میں نہیں تھی۔یہی حال سورج اور ستاروں کی حرکت کا ہے ۔خصوصاً اس لیے کہ وہ کہتے ہیں : ’’ اس کی حرکت اختیاری ہے؛ بوجہ ان تصوراتِ جزئیہ اور اراداتِ جزئیہ کہ جو دھیرے دھیرے پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح ان کے آئمہ نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے؛ یعنی ارسطواور اس کے دیگر اتباع نے اس لیے کہ اس کی حرکت ان کے نزدیک حرکتِ ثانیہ ہے۔ پس حرکت کے جزء ثانی کا مقتضی تام حرکت ِ اولیٰ کے بعد پایا گیا جبکہ اس سے پہلے مقتضی تام موجود نہیں تھا اور وہ تو متحرک کی ذات کے ساتھ قائم ہے یا محرک کے ساتھ قائم ہے۔ اور یہ وہی نفس ہے جس کے اندر تصورات اور جزئی ارادات اور قوتِ جزئیہ یہ نئے نئے پیدا ہو رہے ہیں دھیرے دھیرے اور جس کی وجہ سے وہ دھیرے دھیرے حرکت کرتا ہے جیسے کہ چلنے والے شخص کی حرکت پس ان کے لیے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ کسی ایسے محرک یا متحرک کو ذکر کریں جس کی حالت حرکت سے پہلے اور حرکت کے بعد دونوں حالتوں میں برابر ہو اور اس کی حرکت بھی شیئاً فشیاً صادر ہو اس لیے کہ یہ ایسا امر ہے جس کے لیے کوئی خارج اور نفس الامر میں کوئی وجود نہیں اور عقلِ صریح اس بات کو محال سمجھتا ہے اس لیے کہ کوئی بھی حادث صرف اسی وقت وجود وجود میں آتا جب اُس کا موجب تام اور علتِ تامہ موجودہوتی ہے ۔

اگر تو چاہے تو یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کے وجود کو عدم پر ترجیح حاصل نہیں ہوتی مگر اس کی صورت میں کہ اس کا مرجح تام وجود میں آجائے جو اس کے وجود کو مستلزم ہو اور مسلمان تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ جس کو چاہے تو وہ موجود ہو جاتا ہے اور جس کو نہ چاہیں تو وہ موجود نہیں ہوتا پس اگر حرکت ثانیہ کا مرجح تام حرکتِ اولیٰ کے وقت حاصل تھا تو اس کا حصول حرکتِ اولیٰ کے وقت بھی ضروری تھا بلکہ اس کا حصول کسی مرجح تام کے حصول کے وقت ہی تام ہوتا ہے اور یا خواہ وہ زماناً اس کے ساتھ متصل ہو اور جب مرجح تام کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ وجود میں آجائے بعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھا تو یہ بات بھی ضروری ہے کہ حرکت کے لیے کوئی ایسا سببِ حادث بھی پایا جائے جو اس امرکو ثابت کرتا ہو کہ وہ اس کو پیدا کرنے والا بنے بعد اس کے کہ وہ معدوم تھا یہی حال اس سببِ اول کا ہے جو حرکت کے قریب ہے ۔

اگرآہستہ آہستہ حادث ہونے والی حرکت کے لیے فاعل ارادہ تامہ اور کلیہ ہے تو وہ اکیلے ہی کافی ہے۔ بلکہ ایک ایسے دوسرے ارادہ جزئیہ کا ہونا بھی ضروری ہے جو اس کے ساتھ مقارن اور متصل ہو یعنی حادث کے ساتھ جس طرح کہ انسان اپنی ذات میں اس کو پاتا ہے جب سفر میں چلتا ہے مثلا مکہ کی طرف یا کسی اور مکان کی طرف تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک مقتضِی عام کا مقتضیٰ بھی کبھی عام ہوتا ہے لیکن استعدادات اور اثر کو قبول کرنے والے قوابل کے تاخر کی وجہ سے وہ متاخر ہوتا ہے جبکہ وہ غیر سے صادر ہوں یعنی ذات سے خارج ہوں جس طرح کہ طلوعِ شمس میں اس لیے کہ شمس کی طرف سے فیض عام ہے لیکن وہ موقوف ہے اثر قبول کرنے والے قوابل کے استعداد پر اور موانع کے ختم ہونے پر اسی وجہ سے اس کی تاثیر مختلف ہوتی ہے اور قوابل اور شروط کے اعتبار سے متاخر ہوتی ہے اور یہ (اثر کا اختلاف اور کمی زیادتی اور تقدم وتاخر )اس کی ذات میں سے نہیں (بلکہ اثر قبول کرنے والے محل کے قبولیت کی صفت کے اختلاف کی وجہ سے ہے )

صفحہ 7 از 10