عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 10

پس اس کی اگر اس کی علتِ تامہ ازل میں ثابت ہو جائے تو معلول اپنی علتِ تامہ سے ایسے تاخر کے ساتھ متاخر ہو گا جس کی کوئی انتہاء نہیں اور علت تامہ اور اس کے معلول کے اندر تو اصلا کوئی فصل اور جدائی نہیں ہوتی بلکہ نزاع تو اس میں ہے کہ کیا اس کے ساتھ کوئی زمان یا اس کے بعد کوئی زمان پایا جاتا ہے یا وہ زمان کے اعتبار سے اس کے ساتھ ہوتا ہے یا زمان کے اعتبار سے اپنی علت کے بعد ہوتا ہے یا اس کے ساتھ ایک جزکی طرح ہوتاہے تو یہ ایک ایسی بات ہے کہ لوگ اس میں کلام کرتے ہیں کیوں کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اس پرتاخرعقلی کے ساتھ متاخر ہے اور اس پربھی (متفق ہیں )کہ وہ اس سے منفصل نہیں ہوتا یعنی معلول علت سے لیکن اختلاف اس میں ہے کہ کیا وہ اس کے ساتھ زمان کے اعتبار سے متصل ہے اور اقتران زمانی اس کو حاصل ہے تو یہ لوگوں کے ہاں محل نظر ہے اور محل خلاف ہے ، مقصود تو یہاں یہ بات ہے کہ عالم میں جو شے بھی حادث ہے تو اس کی وہ علتِ تامہ جو اس کو مستلزم ہوتی ہے وہ اس سے پہلے تام نہیں ہوتی اس طور پر کہ ان کے درمیان کوئی انفصال پایا جائے پس وہ کیسے اس پر ایسے تقدم کے ساتھ متقدم ہوگی جس کی کوئی انتہاء نہیں بلکہ جو بات یہ کہتے ہیں اس سے زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ ان اشیاء کے لیے علت تامہ ازلیہ ہیں جو عالمِ میں قدیم ہیں جیسے کہ افلاک ۔

رہی وہ اشیاء جو عالم میں حادث ہیں تو ان کے لیے وہ ان کے حدوث کے وقت علتِ تامہ بنتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اول کا حدوث دوسرے کے حدوث میں شرط ہے جیسے چلنے والا شخص زمین کے ایک حصے کو دوسرے کے بعد طے کرتا ہے جیسے کہ حرکتِ شمس جس کے ذریعے تو ایک مسافت دوسرے کے بعد طے کرتا ہے اسی طرح کوئی بھی متحرک جسم مسافتِ ثانیہ کو اس وقت تک طے نہیں کرتا جب تک کہ مسافتِ اولیٰ کو طے کرے ،یعنی مسافت ِ اولیٰ کو اپنی حرکت کے ساتھ طے کرنا مسافت ثانیہ طے کرنے میں شرط ہے اور ثانی مسافت کے طے کرنے کے لیے جو علتِ تامہ ہے وہ تو پہلی مسافت کیلئے بننے والی علت تامہ کے بعد وجود میں آئی اور یہی ان کے اقوال کا انتہائی درجے کا مقصود ہے اور اس کو وہ مختلف عبارات سے تعبیر کرتے ہیں تبھی تو یہ کہتے ہیں کہ علت اولیٰ کا فیض ،مبدِء اولی کا فیض اور واجب الوجود یعنی اللہ کا فیض سب دائم ہیں لیکن وہ متاخر ہوتا ہے تاکہ استعداد اور فیض کا اثر قبول کرنے کے لیے ایک قابل (اثر قبول کرنے والا)پیدا ہو جائے ۔

اس طرح استعداد کا سبب پیدا ہو جائے یہ اکثروں کی رائے ہے اور اکثر تو اس کے قائل ہیں کہ یہ حرکتِ فلک ہے پس ان لوگوں کے نزدیک عالم کے تغیرات کے لیے سوائے حرکتِ فلک کے اور کوئی سبب نہیں جیسے کہ ابن سینا اور ان کے امثال کہتے ہیں اور یہ ارسطوکے اصحاب کے ہاں معروف ہے ۔

وہ فلاسفہ جو ان کے علاوہ ہیں اوران سے بھی زیادہ اعلیٰ ہیں جیسے ابو البرکات اور ان کے علاوہ دیگرفلاسفہ وہ یہ کہتے ہیں کہ تغیرات کا سبب تو وہ اارادات متجددہ ہیں جو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں یعنی وہ ارادات جو دھیرے دھیرے وجود میں آتی ہیں بلکہ ادرکات بھی؛ جیسے کہ اس نے اپنی کتاب ’’المُعْتَبَرْ‘‘ میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ابن سینا اور ان کے امثال تو کہتے ہیں کہ :وہ عالم کے لیے بذات خود علتِ تامہ ازلیہ ہیں بشمول ان حوادث ِ متجددہ کے جو عالم میں پیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ حادثِ اول شرط ہے اور اس نے حادثِ ثانی کے لیے استعداد اور قابل (اثر قبول کرنے والا) کو پیدا کر دیا اور یہ اانتہائی درجے کا فاسد قول ہے اور یہ قول ان کے اصول کیساتھ انتہائی درجے کے تناقض اور تصادم پر مشتمل ہے اور وہ (قول یہ ہے کہ )حادثِ ثانی کی جو علت ہے اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ اس کے وجود کے وقت بتما مہ موجود ہو اور حادثِ ثانی کے وجود کے وقت تو فاعلِ اول کے ہاں کوئی ایسا امر متجدد نہیں تھا جس کو وہ کرتا سوائے اول کے عدم کے اور محض اول کے عدم (ناپیدا ہونے )نے تو ان کے نزدیک فاعل کے لیے کوئی قدرت اور ارادہ پیدا نہیں کیا اس لیے کہ اول تو ان کے نزدیک اس کے ساتھ صفات اور افعال میں سے کوئی شے بھی اس کی ذات کیساتھ قائم نہیں اور نہ اس کے لیے مختلف قسم کے احوال ثابت ہیں پس کیسے یہ بات متصور اور ممکن ہو سکتی ہے کہ اس سے ثانی صادر ہو جائے بعد اس کے کہ اس کا صدور اس سے ممتنع تھا اور اس کا حال متجدد نہیں ہوا بلکہ وہی حال رہا(یعنی جو حال اول کے احداث کے وقت تھا وہی ثانی کے احداث کے وقت بھی ہے ) صرف ایک امر عدمی نیا وجود میں آیا جس نے اس کے لیے کوئی قدرت یا ارادہ یا علم کا اضافہ یا اس کے علاوہ اور کوئی شے پیدا نہیں کیا۔

صفحہ 6 از 10