عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 10

پس ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ اس کا کسی شے کے لیے عدم (ناپید ہونے )کے بعد علتِ تامہ ہونا بغیر کسی ایک ایسے سببِ حادث جس کی وجہ سے وہ پیدا ہواہو یہ بذاتِ خود ممتنع ہے کیوں کہ حوادث کے لیے تو اس (اللہ تعالیٰ )کی ذات کے علاوہ کوئی اور پیدا کرنے والا نہیں لہٰذایہ امرممتنع ہوا کہ اس کے علاوہ کوئی اور ذات ہوجو اس کی فاعلیت(تاثیر) اور علت بننے کو وجود دے اور اس کا کسی معین شے کے لیے فاعل بننے کو وجود نہیں دیتا مگر اس کی ذات ہی ،پس لازم آیا کہ وہی محدث اور پیدا کرنے والے ہیں کیوں کہ معین اشیاء کے لیے وہی علت ہے اور فاعل بھی وہی ہیں اور یہ فاعلیت موجود ہوئی بعد اس کے کہ وہ نہیں تھی (معدوم تھی )پس یہ بات ممتنع ہوئی کہ وہ کسی علتِ تامہ ازلیہ سے صادر ہوں کیوں کہ علتِ ازلیہ تو اپنے معلول کے ساتھ مقارن ہوتی ہے پس یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ امر ممتنع ہے کہ وہ کسی شے کے لیے فاعل بنے بعد اس کے کہ وہ نہیں تھا حالانکہ وہ علتِ تامہ ازلیہبھی ہوں اور وہ احوال اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو ں جو اس کے حوادث کے لیے فاعل ہونے کو ثابت کرتے ہیں تو خواہ وہ بالواسطہ حادث ہوں یا بغیر واسطہ کے (یعنی ان دونوں امور کا اجتماع ممتنع ہے )نیز یہ بھی کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ جس طرح یہ کہتے ہیں کہ اس (پیدا کرنے والی ذات )کا حال حادثِ معین کو پیدا کرنے سے پہلے اور اسی طرح معین شے کو پیدا کرتے وقت اور اسی طرح معین شے کو پیدا کرنے کے بعد تینوں احوال میں اس کی حالت ایک جیسے ہے تو پھر تو کسی معین چیز کا احداث ممتنع ہوا اور یہ بات ممتنع ہوئی کہ وہ کسی بھی شے کو پیدا کر لے ۔اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس کا اول کو پیدا کرنا دوسرے کے احداث اور اس کو پیدا کرنے سے اولیٰ اور احق نہیں (یعنی دونوں حادث اس کی صفت احداث کے ساتھ ایک ہی نسبت رکھتے ہیں کسی ایک کو دوسرے پر اولویت یا فوقیت حاصل نہیں )اور تخصیص کا کوئی سبب بھی نہیں پایاجارہایعنی اس کی قدرت اور اس کی وصف کے ساتھ اول کی تخصیص دوسرے کی بہ نسبت اولیٰ نہیں بشرطیکہ فاعل سے کوئی ایسا سبب صادر نہ ہو جو (مقدار یا وصف کیساتھ )تخصیص کو ثابت کرتا ہو ۔

انہوں نے تو ان لوگوں پرنکیر کی ہے جو اہل نظر میں سے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے فیض صادر ہوا بعد اس کے کہ وہ فاعل نہیں تھا اور انہوں نے کہا کہ بدیہی عقل سے یہ بات معلوم ہے کہ جس ذات نے کوئی فعل انجام دیا بعد اس کے کہ وہ فاعل نہیں تھا تو یہ امرضروری ہے کہ اس کے لیے (پیدا کرنے کے واسطے ) اسباب میں سے کوئی سبب دھیرے دھیرے جدت کو اختیار کرتا ہو؛ خواہ وہ قدرت یا ارادہ ہو یا علم یا مانع کا زوال یا اس کے علاوہ اور کوئی بھی سبب ۔

پس ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ بدیہی عقل کے ذریعے تو یہ بات بھی معلوم ہے کہ جس نے کسی ایک حادث کو پیدا کرلیا بعد اس کے کہ اس کا وہ فاعل نہیں تھا تو یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا سبب متجدد ہو جو اس کے فعل (احداث )کا تقاضہ کرتا ہو جبکہ تم نے تو دوسروں پر اس بات میں نکیر کی ہے کہ وہ بغیر کسی سببِ حادث کے فعل کی ابتدا کے امکان کے قائل تھے یعنی سبب کے بغیر کسی فعل کی ابتدا ہو سکتی ہے اور اب تم نے خود بغیر کسی سبب حادث کے مفعولاتِ حادثہ کے دوام کا التزام کر لیا (یعنی اس کے قائل ہو گئے )پس جس بات کے تم قائل ہوئے ہو اور تم نے اس کا التزام کیا ہے یعنی بغیر کسی سبب کے حوادث کا حدوث یہ تو اس بات سے بہت بڑا اور زیادہ شنیع ہے جس کی تم نے نفی کی ہے بلکہ تمہارا قول تو اس بات کو مستلزم ہے کہ حوادث کے لیے ابتداء ً کوئی فاعل ہی نہیں بلکہ بغیر فاعل کے حادث ہوتے ہیں کیوں کہ حوادث کو پیدا کرنے والی ذات تمہارے نزدیک حرکتِ فلک ہے اور حرکتِ فلک تو ایک نفسانی حرکت ہے جو ان امور کی وجہ سے متحرک ہوتی جو اس میں دھیرے دھیرے پیدا ہوتی ہیں یعنی تصورات اور یکے بعد دیگرے پیدا ہونے والے ارادے اور اگرچہ وہ ایک تصورِ کلی اور ارادہ کلیہ کے تابع ہیں پھر تمہارے قول کی بنیاد پر وہ تصورات ، ارادے اور حرکات بغیر کسی موجد (وجود دینے والا)اور محدث کے پیدا ہوتے ہیں کیوں کہ تمہارے نزدیک واجب الوجود کی ذات میں کوئی ایسی صفت نہیں پائی جاتی جو کسی فعلِ حادث کے لیے موجب بنے بلکہ اس کی حالت تو حادث کے وجود سے پہلے ،اس کے حادث ہوتے وقت اور اس کے حدوث کے بعدتینوں احوال میں برابر ہے اور کسی فاعل کا امورِ حادثہ مختلفہ کو اس طرح وجود ینا کہ اس فاعل کی حالت ان حوادث کے موجود ہونے سے پہلے ،ان کے وجود میں آتے وقت اور اس کے بعد رتینوں حالتوں میں برابر ہوتو یہ اس بات سے زیادہ أبعد ہے کہ وہ صرف کسی ایک حادث کو پیدا کرے باوجود یکہ اس کی حالت تینوں حالتوں میں برابر ہو ۔

٭ اگر کہا جائے کہ اس کے فعل کا تغیر مفعولات کے تغیرات کی وجہ سے ہے۔

٭ تو جواب میں کہا جائے گا کہ اس کا فعل (یعنی احداث )اگر تمہاری رائے کے مطابق وہی مفعولات ہیں جس طرح کہ ابن سیناا ور اس کے امثال دیگر فلاسفہ جہمیہ اس کے قائل ہیں جو صفات اور فاعل کی نفی کرنے والے ہیں تو پھر تو متغیر شے اس سے منفصل اور جدا ہونے والی اشیاء ہیں اور وہی تو مفعولات ہیں اور یہاں مفعولات کے علاوہ کوئی ایسا فعل نہیں پایا جاتا جس کو تغیر کے ساتھ موصوف کیا جائے پس اس کے تغیر کاسبب کیا بنا اور اس کے اختلاف کا سبب کیا بنا اور اس طرح ان حوادث کے حدوث کا سبب کیا بنا باوجود یکہ فاعل حالتِ واحدہ پر قائم ہے اور صریح عقل کے اعتبار سے اس قول کا فساد دوسروں کے اس قول کے فساد سے زیادہ ظاہر ہے جس پر تم نے نکیر کیا ہے ۔

صفحہ 4 از 10