عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 10

اس وجہ سے بھی اور اس سے بھی اور یہ بھی کہ عالم کا حوادث کے ساتھ مقارنت سے جدائی متصور ہی نہیں اس لیے کہ یقیناً اجسام حوادث کے اتصال سے خالی نہیں ہوتے مثلاً حرکت اور علاوہ ازیں باتفاق عقلاء عالم میں کوئی شے ایسی نہیں مگر صرف وہی ہیں جو بذاتِ خود قائم ہیں یا غیر کی وجہ سے قائم ہیں اور اعیان (اجسام )تو حوادث کے اتصال سے خالی نہیں ہوتے اس لیے کہ اگروہ (کسی وقت میں )ان سے خالی ہوں اور پھر ان کے ساتھ متصل ہو جائیں تو بغیر کسی سبب حادث کے حوادث کا حدوث لازم آئے گا اور یہ باطل ہے ۔

اگر یہ بات نہ ہو تو پھر توبغیر سبب کے حوادث کا حدوث لازم آئے گا پس عالم کے قدم کا قول باطل ہوا پھر بہت سے اہل نظر تو یہ کہتے ہیں کہ عالم میں تو صرف اور صرف جسم یا عرض ہی پایا جاتا ہے اور ان لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو مشار الیہ کے ساتھ جسم کی تخصیص کرتے ہیں یعنی جس کی طرف حسی اشارہ کیا جا سکے صرف وہی جسم ہوتا ہے اور اس بات کو ممنوع سمجھتے ہیں کہ ہر جسم جوہرِ فرد یا مادہ اور اس صورت سے مرکب ہو پس اُن پر تو وہ اشکال نہیں ہوتا جو دوسروں پر ہوتا ہے ۔

اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ عالم میں ایسی اشیاء بھی ہیں جو اس سے خارج ہیں یعنی جوہر اور عرض میں داخل نہیں جس طرح کہ وہ لوگ جو عقول اور نفوس کو ثابت کرنے والے ہیں ،کہتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ اجسام نہیں بلکہ نفوس تو جسم کے ساتھ متصل ہی ہونگے اس سے جدا نہیں ہوتے بلکہ وہ تو اس کے ساتھ مقارن اور متصل ہیں اور اس کی تدبیر اور انتظام کرنے والے ہیں پس وہ حوادث سے جدا نہیں ہو سکتے ۔

نیز یہ بھی کہ نفوس تصورات اور حادث ارادوں سے جدا نہیں ہوتے پس وہ حوادث کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مقارن ہیں اور عقول تو اس کے لیے علت ہیں جواپنے معلولات کومستلزم ہیں اور زمان کے کسی بھی جزء میں اس پر مقدم نہیں ہوتے پس یہ امرممتنع ٹھہراکہ عالم میں کوئی ایسی شے ہو جو حوادث سے سابق ہو پس یہ بات بھی ممتنع ثابت ہوئی کہ اس میں سے کوئی شے قدیمِ ازلی بنے جو کہ حوادث پر سابق ہو اور ایسی صورت میں عالم میں سےکسی بھی شے کو پیدا کرنے والی ذات کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے کہ وہ اس کو اس کے لوازم کو وجود دینے کے بغیراز سرِ نو(ابداع) وجود دے اور اس کے لوازم کے بارے میں یہ بات ممتع ہے کہ اس کا وجو د ازل میں پایا جائے پس عالم میں کسی بھی شے کاا زل میں وجود ممتنع ٹھہرا ۔

اگرکہا جائے کہ وہ فلک کے لیے بشمول اس کی حرکت کے علتِ تامہ ازلیہ ہیں ؛ تو یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ فلک کے لیے بمع حرکت کے علتِ تامہ ازلیہ ہوپس اس کی حرکت ازلی ٹھہرے گی اور حرکت تو دھیرے دھیرے وجود میں آتی ہے لہٰذا یہ ممتنع ہوا کہ اس کی ساری حرکت ازلی ہو اور اگر کہا جائے کہ وہ صرف فلک کے لیے علتِ تامہ ازلیہ ہیں نہ کہ اس کی حرکت کے لیے اور اس کی حرکت تو ایک دوسرے مبدع(ازسر نو پیدا کرنے والے ) کی طرف محتاج ہے حالانکہ اُس اللہ کے علاوہ اور کوئی مبدع نہیں ہے ۔

اگر کہا جائے کہ وہ حرکت کے لیے علت رفتہ رفتہ یعنی شیئا ًفشیئاً بنتے ہیں اور وہ ازل میں حرکت کے لیے علتِ تامہ نہیں ہیں یعنی وہ ازل میں حرکت کے لیے علتِ تامہ بنتے ہیں اس کے وجود کے اعتبار سے یعنی جتنا جتنا وجود میں آتا ہے اس کے لیے علت بنتا ہے پس اس کا علت بننا اور اس کی فاعلیت اور اس کا ارادہ یہ حادث ہوا بعد اس کے کہ وہ نہیں تھا یعنی معدوم تھا پس یہ بات ممتنع ہو ئی کہ وہ ازل میں علتِ تامہ بنے اور یہ قول یہ ایسا ظاہر اور واضح ہے کہ اس میں وہ شخص اختلاف نہیں کر سکتا جو اس کو سمجھے اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جو ہے اس بات کو بیان کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اس ذات کا علتِ تامہ ازلیہ ہونا ممتنع ہے ہر ہر موجود کے حق میں اور یہ کہ اس کا علتِ تامہ ہونا فلک کے لیے سمیت اس کی حرکت کے ممتنع ہے اور وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ ازل میں ہر موجود کے لیے علت ہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ازل میں ان اشیاء کے لیے علت ہیں کہ جو اپنی ذات کے اعتبار سے قدیم تھے جیسے کہ افلاک اور وہ ہمیشہ نوعِ حوادث کے لیے علت بنتے ہیں اور وہ حادث معین کے لیے علتِ تامہ بنتا ہے بعد اس کے کہ وہ علتِ تامہ نہیں تھا یہی ان کے قول کی حقیقت ہے ۔

صفحہ 3 از 10