عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 10

تو جواب میں کہا جائے گا کہ: یہ بھی ایک ایسی بات ہے جس کا بطلان معلوم ہے کیوں کہ وہ حرکت جو دھیرے دھیرے حادث ہے اس کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے کہ وہ اس کی علت کے ساتھ ازل میں مقارن ہو پس یہ بات معلوم ہو گئی کہ حوادث کے حدوث کا موجب اورسبب وہ علت تامہ ازلیہ نہیں بلکہ ضروری ہے کہ رب تعالیٰ ہی افعال کے ساتھ متصف ہیں اور وہی اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے دھیرے دھیرے بسبب اس ارادے کے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اوراس سے وہی اشیاء پیدا ہوتی ہیں جو حادث ہوتی ہیں جیسے کہ اس کی وہ مشیت جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اس کے وہ کلمات جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور اس کے وہ افعال جو اختیاریہ اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں ۔

سوم: یہ ہے کہ حوادث کے لیے کسی محدث (پیدا کرنے والا)کا ہونا ضروری ہے اور یہ امر ممتنع ہے کہ اِن کو اُس کے علاوہ کوئی اور حادث پیدا کرے کیوں کہ اُس کے علاوہ اور کوئی رب نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بے شک اس حدوث کے بارے میں قول تو بعینہ اس کی ذات میں اِس قول کی طرح ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ دو حال سے خالی نہیں :

یا تو یہ کہ اس کی ذات ازل میں علتِ تامہ ازلیہ ہوگی یا نہیں ہوگی اور پھر وہ تقسیم لوٹ کر آئے گا اور اگر وہ یہ کہیں کہ دوسرا اس وجہ سے متاخر ہے کہ اثر قبول کرنے والے کا حدوث متاخر ہے اسی طرح وہ شروط متاخر ہیں جو فیض اور تاثیر سے پہلے اس کی ذات کے ساتھ قائم تھی۔

تو ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ یہ تو ان چیزوں سے سمجھ میں آتاہے جب قوابل یعنی تاثیر قبول کرنے کی استعداد غیر کی طرف سے مستفادہو۔ جیسے شعاع کا حدوث شمس سے ہے۔ اور جس طرح وہ عقلِ فعال کے بارے میں کہتے ہیں ۔ اور رہی یہ صورت کہ وہ کہتے ہیں : وہی ایک ذات ہی قابل (اثر قبول کرنے والا) اور مقبول(یعنی اثر) دونوں کا خود وہی اکیلافاعل ہو ۔ اسی طرح شرط اور مشروط کا بھی وہی فاعل ہواور وہی علتِ تامہ ازلیہ ہو ان افعال کا جو اس کی ذات سے صادر ہو رہے ہیں تو یہ بات واجب اور ضروری ہے کہ اس کا معلول پورے کا پورا اس کے ساتھ مقارن ہو اور یہ بات ممکن نہیں کہ ا س سے کوئی جزء متاخر ہو کیوں کہ یہ امرممتنع ہے کہ وہ بغیر کسی شے کے پیدا کرنے کے فاعل بنے بعد اس کے کہ وہ فاعل نہیں تھا اور اس کی ذات کا کسی شے کو پیدا کرنا باوجود یہ کہ وہ علتِ تامہ ازلیہ ہو یہ ممتنع ہے اور اس کا نوعِ حوادث کے لیے علت بننا ساتھ باوجودیکہ اس سے کوئی بھی ایسا فعل اس سے صادر نہ ہو جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو ، یہ ممتنع ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ یقیناً عالم کا دو مختلف فاعلوں سے صدور ممتنع ہے خواہ وہ پورے کے پورے عالم کے احداث میں باہم شریک ہوں یا ایک ذات بعضِ عالم کا فاعل ہو اور دوسرا باقی کا فاعل ہو جس طرح کہ اس جگہ کے علاوہ ایک اور مقام پر اس کو تفصیل سے بیان کیا گیا اور یہ ایک ایسی بات ہے جس میں کوئی نزاع نہیں کیوں کہ عقلاء میں سے کسی نے بھی اس کو ثابت نہیں کیا کہ عالم دو ایسی ذاتوں سے صادر ہوا ہے یعنی پیدا ہوا ہے۔ جوصفات اور افعال میں باہم بالکل مساوی ہیں اور عقلاء میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں کہ عالم کے قدیم اصول (یعنی افلا ک وغیرہ )ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس کے حوادث دوسری ذات سے صادر ہیں کیوں کہ عالم تو حوادث سے کسی بھی زمان میں خالی نہیں ہوا اور ملزوم کا فعل (حدوث اور وجود )بغیر لازم کے ممتنع ہے اور اگر لوازم کا فاعل (ملزوم کے فاعل کے علاوہ ) کوئی اور ذات قرار پائے تو یہ بات لازم آئے گی کہ ایک ہی فعل دوذاتوں سے تب ہی تام ہوا کہ ہر ایک نے دوسرے کی مدد کی پس دو ذاتوں میں دور لازم آئے گاپس یہ بات کہ ان دونوں ربوں (خداؤں )میں سے ہر ایک رب تب ہی بنا جب دوسرے نے اس کی مدد کی اور اعانت سے اور وہ قادر نہیں بنا مگر دوسرے کی وجہ سے ،وہ فاعل نہیں بنا مگر دوسرے کی وجہ سے پس یہ ایک قادر نہیں بنے گا جب تک کہ دوسرا اسے قادر بنائے اور یہ دوسرا قادر نہیں بنے گا یہاں تک کہ پہلا اسے قادر بنائے اور یہ امرممتنع ہیکیونکہ پہلے سے مفروض تو یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک (دوسرے کی طرف احتیاج کے بغیر )قادر ہے اور یہ اپنے مقام پر یہ بات تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔

جب یہ بات بالکل واضح ہے کہ حوادث کے لیے اس رب کے علاوہ اور کوئی فاعل نہیں تو ایسی صورت میں اگر اس کی ذات سے بغیر سبب ِ حادث کے حوادث پیدا ہوں تو بغیر کسی سبب ِ حادث کے حوادث کا پیدا ہونا لازم آئے گا ۔اور اگر یہ بات جائز اور ممکن ٹھہرے تو بغیر کسی سبب ِ حادث کے پورے عالم کا حدوث (پیدا ہونا )ممکن ٹھہرے گا تو یہ بات بھی کہ یہ لازم آئے گا کہ یہ عالم قدیمِ اور ازلی بنے اور حوادث سے خالی قرار پائے اور یہ بھی کہ بغیر کسی سببِ حادث کے اس میں حوادث پیدا ہوئے بعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھے اور یہ تو بالاتفاق ممتنع ہے اور اس کے امتناع کی بہت سی وجوہ ہیں :

مثلاً اس کا تقاضہ یہ ہے کہ عالم میں ایک ایسی قدیم ذات نہ پائی جائے جو واجب بنفسہ یا بغیرہ ہو اس لیے کہ جب یہ بات فرض کر لی گئی کہ کوئی معلول ایسا پایا جا سکتا ہے جو قدیمِ ازلی ہے اور پھر وہ بعد میں حادث ہوا تو پھر اس میں حوادث پیدا ہوئے تو یہ بات ضروری قرار پائی کہ وہ ایک صفت سے دوسری صفت کی طرف تبدیل ہوگا اور اس سے وہ صفت زائل ہو گی جو پہلے موجود تھی اور وہ پیدا ہو گی جو پہلے سے موجود نہیں تھی تو ایک موجود شے کا زوال ممتنع ہوا کیوں کہ قدیم تو قدیم تب بنتا ہے جب وہ واجب بنفسہ یابغیرہ ہو بلکہ قدیم پس جب یہ بات معلوم ہے کہ قدیم واجب بنفسہ یابغیرہٖ ہے تو اس کے عدم کے امتناع کا علم بہت ہی زیادہ مؤثر اور بہت زیادہ پختہ اور پکا ہے اور جب عالم میں کوئی شے اس حال میں قدیم اور ازلی بنے جب اس میں کوئی بھی شیٔ حادث نہ تھا اور پھر اس میں کوئی حادث پیدا ہو جائے تو پس بتحقیق اس نے اس کو اس حالتِ قدیمہ سے تبدیل کر دیا جو ازلیہ تھی جس کی وجہ سے وہ واجب بنفسہ اور بغیرہ تھا ایک دوسرے حالت کی طرف جو اول حال کے مخالف ہے اور یہ باوجود یکہ ممتنع ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اگر یہ کسی سببِ حادث کے بغیر ہو تو یہ ممتنع ہے (دونوں وجہوں سے )۔

صفحہ 2 از 10