عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 10

بتحقیق اِس مقام پراُس کلام کو ذکر کر دیا گیا ہے جو انہوں نے ارسطوکی طرف نقل کرتے ہوئے ذکر کیا ہے اور اس خطاء اور گمراہی کو بیان کیا ہے اس کے علاوہ مقام بھی اور بتحقیق یہ قوم اللہ کی معرفت ،اس کے مخلوق کی معرفت ،اس کے امر اور اس کی صفات ،ان تمام کی معرفت سے بہت زیادہ دور ہیں اور یقیناً یہود و نصاریٰ تو ان سے اس باب میں بدرجہا بہتر ہیں اور یہ وہ طریقہ ہے جس پر علت اولیٰ کے اثبات میں ارسطواور اور قدمائے فلاسفہ چلے ہیں اور وہ حرکتِ فلک کے لیے حرکتِ ارادیہ کے اثبات کا طریقہ ہے اور انہوں نے علتِ غائیہ کو ثابت کیا ہے جس طرح کہ ذکر کر دیا گیا ہے پس ابن سینا اور متاخرین میں سے ان کے امثال نے دیکھا کہ اس میں گمراہی پائی جاتی ہے تو وہ وجود اور امکان کے راستے کی طرف منحرف ہوئے اور انہوں نے متکلمین کے طریقے سے اسے چوری کیا جو کہ معتزلہ تھے پس یقیناً انہوں نے محدث (خالق )کے لیے محدث (مخلوق )کی ذات سے استدلال کیا پس ان لوگوں نے ایک ممکن سے واجب پر استدلال کر لیا اور یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو واجب الوجود ذات کی اثبات پر دلالت کرتا ہے رہا اس کے تعین کا اثبات تو اس میں یہ ایک اور دلیل کی طرف محتاج ہیں اور وہ پھر ترکیب کے طریقے پر چلے ہیں اور یہ بھی معتزلہ کے کلام سے چوری کیا ہوا ہے ورنہ تو ارسطوکا کلام الٰہیات میںباوجود کثرتِ اخطاء کے انتہائی کم ہے لیکن ابن سینا اور اس کے امثال نے اس میں توسع پیدا کیا اورالہیات اور نبوات اور آیات کے اسرار اور عارفین کے مقامات (مراتب )میں انہوں نے کلام کیا بلکہ ارواح کے معاد (روح کا جسم کی طرف واپس لوٹنا )میں بھی ایک ایسا کلام انہوں نے پیش کیا جو ان لوگوں کے ہاں نہیں ملتا اور اس میں جو کچھ ٹھیک باتیں پائی جاتی ہیں تو اس میں وہ انبیائے کرام کے طریقے پر چلے ہیں اور جو خطا ء ہیں تو اس میں انہوں نے اپنے سلف کے اقوال پر اپنی بنیاد رکھی ہے اسی وجہ سے ابن رشداور اس کی دیگر فلاسفہ کہتے ہیں کہ ابن سینا نے وحی ،منامات ،مستقبلات پر علم کے اسباب اور ان کے امثال کے بارے میں انہوں نے جو بات ذکر کی ہے وہ ایک ایسا امر ہے جوانہوں نے اپنی طرف سے اس کو ذکر کیا ہے اور اس سے پہلے مشایخ جو کہ ان کے سلف ہیں انھوں نے ایسی بات نہیں کہی۔


صفحہ 10 از 10