نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد نکاح کیوں فرمائے؟…

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد نکاح کیوں فرمائے؟

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2
سیدہ جویریہؓ کا والد قبیلہ بنو مصطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا حضورِ اکرمﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ان کا سردار مارا گیا۔ سیدہ جویریہؓ قید ہو کر ایک صحابیؓ کے حصہ میں آئیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مشورہ کرکے سردار کی بیٹی کا نکاح حضورِ اکرمﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی سیدہ صفیہؓ قید ہو کر ایک صحابیؓ کے حصہ میں آئیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مشورے سے ان کا نکاح حضورِ اکرمﷺ سے کرا دیا۔
اسی طر ح سیدہ میمونہؓ سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا۔
ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضورﷺ کے قریب آ سکیں، اخلاقِ نبی کا مطالعہ کر سکیں تاکہ انہیں راہِ ہدایت نصیب ہو۔
سیدہ ماریہؓ سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہِ مقوقس نے بطورِ ہدیہ کے آپﷺ کی خدمتِ اقدس میں بھیجا تھا۔
سیدہ زینب بنتِ جحشؓ سے نکاح متنبیٰ کی رسم توڑنے کے لیے کیا۔ سیدنا زیدؓ حضورِ اکرمﷺ کے متنبیٰ کہلاتے تھے، ان کا نکاح سیدہ زینب بنتِ جحشؓ سے ہوا، مناسبت نہ ہونے پر سیدنا زیدؓ نے انہیں طلاق دے دی تو حضورِ اکرمﷺ نے نکاح کر لیا اور ثابت کر دیا کہ متنبیٰ ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا۔
اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علومِ اسلامیہ کا سر چشمہ قرآنِ پاک اور حضورِ اقدسﷺ کی سیرتِ پاک ہے۔
آپﷺ کی سیرتِ پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحابِ صفہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
عورتوں میں اس کام کے لیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔ ایک صحابیہؓ سے کام کرنا مشکل تھا اس کام کی تکمیل کے لیے آپﷺ نے متعدد نکاح کیے۔
آپ نے حکماً ازواجِ مطہراتؓ کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں۔
سیدہ عائشہؓ جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور اکرمﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی۔
حضورِ اقدسﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد سیدہ عائشہؓ 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپؓ سے مروی ہیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا تو سیدہ عائشہؓ کو اس کا علم ہوتا تھا۔
اسی طرح سیدہ اُمِ سلمہؓ کی روایات کی تعداد 368 ہے۔
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازواجِ مطہراتؓ کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لیے تھی اور ساری دنیا کے لیے تھی اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جا سکتا۔
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں۔
باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کر لیں اور کوئی بدبخت حضورِ اکرمﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے۔ آمین


صفحہ 2 از 2