فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب…

فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

۲۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے کوئی کام نہ کیا ہو۔بصورت ثانی اس کی پناہ حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے کہ جب ابلیس سرے سے کوئی کام ہی انجام نہیں دیتا تو وہ کسی کو پناہ بھی نہیں دے سکتا اور اگر بصورت اول وہ بعض افعال کا مرتکب ہوچکا ہے، تو وہ گناہوں سے منزہ نہیں ہو سکتا، لہٰذا اعتراض دونوں صورتوں میں باطل ہے خواہ تقدیر کا اثبات کیا جائے یا نفی۔ پس معلوم ہوا کہ یہ ایسے انسان کا اعتراض ہے جو دونوں اقوال سے غافل ہے۔ اسی طرح ابلیس کا فعل نہ ہونے کی تقدیر پر ہے کہ اب اس کا کوئی شر نہ ہو گا کہ یہ کہا جائے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ شریر ہے چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ابلیس سے زیادہ شر والا ہے۔

لہٰذا اس بات کا دعویٰ کہ:’’ انہیں یہ بات لازم آتی ہے کہ اللہ ان پر ابلیس سے زیادہ شر والا ہو‘‘ ایک باطل دعویٰ ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ یہ جبر محض کاعقیدہ ہے جیسا کہ جھم اور اس کے شیعہ کے بارے میں حکایت نقل کیجاتی ہے ۔اور اس قول کی غایت یہی ہے کہ ابلیس وغیرہ کی کوئی قدرت و مشیئت اور فعل نہیں ہے۔ بلکہ ابلیس کی حرکت ہوا کی حرکت کی طرح ہے۔ اس تقدیر کی بنا پر ابلیس میں نہ خیر ہے اور نہ شر؛ اور اس سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ سو اس تقدیر کی بنا پر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ رب تعالیٰ کی بعض مخلوق اس سے زیادہ شر والی ہے۔

دوسری وجہ:....یہ ہے کہ ابلیس سے پناہ جوئی اس صورت میں مستحسن ہے جب وہ پناہ دینے پر قادر ہو، خواہ اللہ تعالیٰ کو افعال العباد کا خالق قرار دیا جائے یا نہیں ۔

یہ امر قابل غور ہے کہ اس کتاب کا شیعہ مصنف اور اس کے ہم نوا منکرین تقدیر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ:

٭ ابلیس وہ کام انجام دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں نہیں لکھے۔

٭ نیز یہ کہ ابلیس بلا ارادہ الٰہی بھی بعض افعال کا مرتکب ہوتا ہے۔

٭ اور رب تعالیٰ کی بادشاہی میں وہ بھی ہوتا ہے جو اس نے نہیں چاہا۔

٭ اور یہ کہ رب تعالیٰ ابلیس اور دوسرے زندوں کوحرکت دینے پر قادر نہیں ۔

٭ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو نیک عمل سے ہٹا کر برے کام پر نہیں لگا سکتا اور نہ یہ قدرت رکھتا ہے کہ افعال قبیحہ سے ہٹا کر نیک اعمال پر لگا دے۔

ان سب اقوال کے باوجود جو یہ لوگ ابلیس کے لیے ثابت کرتے ہیں نا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ابلیس اللہ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دینے کی اور کسی کو بچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس بنا پر ابلیس سے استعاذہ ممتنع ٹھہرا اور اگر، معاذ اللہ! اس بات کو فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ جو لازم کرتے ہیں کہ مخلوق پر کوئی ابلیس سے بھی زیادہ شر ہو سکتا ہے اور وہ اس کے باوجود رب تعالیٰ کی قضا و قدر کو ہٹا دینے سے عاجز ہے تو پھر شیطان سے بلکہ کسی بھی مخلوق سے پناہ مانگنے والا بے یار و مددگار رہ جائے گا۔ جیسا کہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًاo﴾ (الاسراء: ۲۲)

’’اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود مت بنا، ورنہ مذمت کیا ہوا، بے یارومددگار ہوکر بیٹھا رہے گا۔‘‘اور فرمایا:

﴿قُلْ مَنْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّہُوَ یُجِیرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo سَیَقُوْلُوْنَ لِلَّہِ قُلْ فَاَنَّا تُسْحَرُوْنَo﴾ (المومنون: ۸۸۔ ۸۹)

’’کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی، اگر تم جانتے ہو؟ ضرور کہیں گے اللہ کے لیے ہے۔ کہہ پھر تم کہاں سے جادو کیے جاتے ہو؟‘‘

اور فرمایا:

﴿مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ کَمَثَلِ العنکبوت اِتَّخَذَتْ بَیْتًا وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ العنکبوت لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَo﴾ (العنکبوت: ۳۱)

’’ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا اور مددگار بنا رکھے ہیں مکڑی کی مثال جیسی ہے، جس نے ایک گھر بنایا، حالانکہ بے شک سب گھروں سے کمزور تو مکڑی کا گھر ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔‘‘

تیسری وجہ: صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدوں میں یہ دعا مانگا کرتے تھے:

((اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لا أحصی ثنائً علیک ؛ أنت کما أثنیت علی نفسک ۔ )) [صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، (حدیث:۴۸۶)]

’’اے اللہ! میں تیرے رضا کے طفیل تیری ناراضی سے (پناہ مانگتا ہوں ) اور تیری معافی کے طفیل تیری عقوبت سے اور تیرے طفیل تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ۔ میں تیری ثناء شمار نہیں کر سکتا تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے۔‘‘

ایک روایت میں یہ بھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا وتروں میں پڑھا کرتے تھے۔ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بعض صفات و افعال کے ساتھ اس کی بعض دوسری صفات اور افعال سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے عقاب و عتاب سے خود اسی کی پناہ طلب کرتے تھے، پھر یہ کیونکر منع ہوا کہ اس کی بعض مخلوقات کی ایذا سے اس کی پناہ طلب کی جائے۔

صفحہ 3 از 4