فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب…

فصل:....راضی بہ رضا رہنے پر رافضی کا اعتراض اور اس کا جواب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

رہا اقل کا طریق تو وہ یہ کہتے ہیں کہ: رب تعالیٰ کی ناراضی اور بغض یہ اس کا فاعل کے عقوبت کا ارادہ کرنا ہے اور رہے ہم تو ہم اس بات کے مامور ہیں کہ ہم منہی عنہ سے کراہت کریں ۔ لیکن اس قول پر جواب پہلے جواب کی طرف لوٹتا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک رب تعالیٰ کا کسی شی کا نفس ارادہ کرنا اور اسے پسند کرنا اور اسے محبوب رکھنا کہ اللہ نے بندے کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرے، اس سے بغض رکھے اور اس پر ناراض ہو۔ سو یہ لوگ کہتے ہیں ہر مقدورِ مقضی ضروری نہیں کہ وہ ایسا مامور بھی ہو کہ جس پر راضی ہوتا ہے۔

سوم : یہ کہا جائے کہ گزشتہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ رب تعالیٰ جو کرتا ہے وہ کسی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ اور جو معاصی اور عقوبات بندوں کو ضرر پہنچاتے ہیں ان کے پیدا کرنے میں بھی حکمت ہوتی ہے اور انسان کبھی ناگوار فعل بھی کر جاتا ہے جیسے کڑوی دوا پینا۔ کیونکہ اس میں وہ حکمت ہوتی ہے جو چاہتا ہے۔ جیسے صحت اور عافیت، سو یہ دوا پینا ایک اعتبار سے اگر محبوب ہے تو دوسرے اعتبار سے مکروہ ہے۔ پس بندہ رب تعالیٰ کی اس امر میں موافقت کرتا ہے کہ وہ گناہوں کو برا جانتا ہے اور ان سے بغض رکھتا ہے۔ کیونکہ گناہ رب تعالیٰ کو مبغوض و مکروہ ہوتے ہیں اور وہ اس حکمت پر راضی رہتا ہے جس کی بنا پر رب تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا بندے کے فعل کے اعتبار سے یہ مکروہ اور مسخوط ہے جبکہ رب تعالیٰ کے پیدا کرنے کے اعتبار سے یہ محبوب و پسندیدہ ہے۔ کیونکہ رب تعالیٰ نے اسے ایک حکمت کے تحت پیدا کیا ہے اور بندہ اسے کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے مضر ہوتا ہے اور موجب عذاب ہوتا ہے۔ سو ہم ان کا انکار کرتے ہیں ، ان کو ناپسند کرتے ہیں اور ان سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہوتا ہے۔ کیونکہ خود اللہ بھی ان سے ناراضی اور بغض رکھتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ایک حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔ سو ہم اس کی قضاء و قدر پر راضی ہوتے ہیں ۔

سو جب ہم اس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی قضا و قدر ہے تو ہم اللہ پر راضی ہو کر اس کے حکم کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔ رہا یہ پہلو کہ ان کو بندہ کرتا ہے تو ہم ضرور اسے ناپسند کریں گے، اسے روکیں گے اور حتی الامکان اسے دور کریں گے۔ کہ اللہ کو ہم سے یہ بات محبوب ہے اور اللہ جب کافروں کو ہم پر مسلط کرتا ہے تو اسے اللہ کی قضاء جانتے ہوئے اس پر راضی رہیں گے اور ان بھگانے میں اور ان سے لڑنے میں پوری کوشش کریں گے اور دونوں میں سے کوئی ایک امر دوسرے کے منافی نہیں ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے چوہا، سانپ اور کٹ کھنا کتا پیدا کیا ہے اور پھر ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کو مار ڈالیں ۔ جب اللہ نے ان کو پیدا کیا تو ہم اس پر راضی ہیں اور جانتے ہیں کہ اس میں اس کی کوئی حکمت ہو گی اور اس کے حکم پر انہیں قتل بھی کریں گے۔ کیونکہ اللہ کو یہ بات محبوب اور پسندہے۔بعض نے ایک اور جواب بھی دیا ہے، وہ یہ کہ: ہم قضاء پر تو راضی ہیں البتہ مقضی پر نہیں اور ایک جواب یہ بھی دیا گیا ہے کہ ہم ان باتوں پر رب تعالیٰ کی مخلوق ہونے کے اعتبار سے تو راضی ہیں البتہ ان کے کسب ہونے کے اعتبار سے ان پر ناراض ہیں ۔

لیکن یہ جواب تیسرے جواب کی طرف لوٹتا ہے البتہ کسب کا اثبات اس وقت ہے جب اس نے بندے کو فاعل نہ بنایا ہو۔ اس پر ایک دوسرے مقام میں مفصل گفتگو کی جا چکی ہے۔

سو جن لوگوں نے بندے کو کاسب بنایا ہے ناکہ فاعل۔ جیسے جھم صفوان، حسین نجار، ابو الحسن اشعری اور ان کے پیروکار کہ ان کا کلام متناقض ہے۔ اسی لیے یہ لوگ اس کسب پر اور کسب اور فعل کے درمیان فرق پر کوئی معقول گفتگو نہیں کر سکتے۔ سو کبھی تو یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ وہ قدرتِ حادثہ کے ساتھ مقدور ہے اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ وہ محل قدرت یا قدرتِ حادثہ کے محل کے ساتھ قائم ہے۔

جب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ قدرتِ حادثہ کیا ہے؟ تو کہتے ہیں کہ جو محل کسب کے ساتھ قائم ہو۔ وغیرہ وغیرہ کہ یہ عبادات اور جوابات دور کو مستلزم ہیں ۔

پھر ان لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مختار کی حرکت اور رعشہ زدہ کی حرکت میں فرق ہے۔ بے شک یہ بات درست ہے لیکن یہ بات خود ان کے خلاف حجت ہے کیونکہ یہ فرق اس بات سے روکتا ہے کہ دونوں میں سے ایک دوسرے کو چھوڑ کر مراد ہو۔ کیونکہ یہ بات ممکن ہے کہ انسان دوسرے کے فعل کا ارادہ کرے۔ سو یہ فرق اس بات کی طرف لوٹے گا کہ بندے کی دونوں میں سے ایک پر قدرت ہے جس کے ذریعے فعل حاصل ہوتا ہے نا کہ دوسرا۔ اور فعل کسب ہے اور ایک ہی محل میں ایسی دو چیزیں معقول نہیں کہ دونوں میں سے ایک فعل ہو اور دوسری کسب۔

اہل سنت کا تقدیر پراور شیطان سے پناہ جوئی:

[اعتراض]: [شیعہ مضمون نگار مزید لکھتا ہے]:اہل سنت کے بقول یہ لازم آتا ہے کہ ہم اللہ کی گرفت سے ڈر کر ابلیس لعین کی پناہ میں آئیں ، جبکہ یہ آیت قرآنی:﴿فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ﴾ (النحل: ۹۸)’’پس تم شیطان مردودسے اللہ کی پناہ مانگو‘‘کے صریح منافی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل سنت کفار و ابلیس کو گناہوں سے منزہ قرار دے کر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، بنا بریں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں ابلیس سے بھی بدتر ہے۔تعالیٰ اللّٰہ عن ذلک۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: جواباً عرض ہے کہ یہ کلام کئی وجوہات کی بنا پر ساقط عن الاحتجاج ہے:

پہلی وجہ :....چونکہ اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں :

۱۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ابلیس نے کچھ افعال انجام دیے ہوں گے۔

صفحہ 2 از 4