ابن ملکا کا عقیدہ اور اس پر رد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابن ملکا کا عقیدہ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

جس چیز کے احداث کا وہ ارادہ کرے اگرچہ اس میں یہ بات ضروری ہے اور اس شے میں بھی جس کے بارے میں وہ یہ ارادہ کرے کہ اس کے لیے ایسے حوادث پیدا کرے جو یکے بعد دیگرے وجود میں آنے والے ہیں جیسے کہ انسان کو وجود دیتے ہیں اور اس کے لیے ایسے احوال پیدا کرتے ہیں جو شیئا ًفشیئا ًوجود میں آتے ہیں اور افلاک کو وجود یتے ہیں اور ان کے حوادث کو بھی یکے بعد دیگرے پیدا کرتے ہیں لیکن جب یہ بات فرض کر لی جائے کہ ملزوم اس کی پیدا کردہ نہیں ہے تو پھر اس کا مفعول ہونا بھی معقول نہیں اور یہ بات بھی معقول نہیں کہ وہ اس ذاتِ قدیمہ کے لیے معلول بنے اور اس کے قدم کے ساتھ قدیم ہو اس لیے کہ اس ذاتِ قدیمہ کا معلول تو ایسی صفات اور مقادیر ہیں جو اس کی ذات کے ساتھ مختص ہیں اور ایسی علت جو احوالِ اختیاریہ سے مجرد ہو تو وہ اپنے لوازم کو مستلزم ہوتی ہے اور اس کے لوازم میں سے وہ اشیاء بنتے ہیں جو اس کے ساتھ اس طرح مناسبت رکھتے ہوں جو معلول کا اپنے علت کے ساتھ ہوتا ہے اور معلول کیلئے تو ایسے مقادیر ،اعداد اور صفاتِ مختلفہ ثابت ہوتی ہیں جو اس کیساتھ خاص ہیں اور ان کی طرح امور علت میں پایا جاناممتنع ہوتاہے پس مناسبت ممتنع ہوئی اور جب مناسبت ممتنع ہوئی تو ا سکا علت بننابھی ممتنع ہو گیا ۔

نیزکہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ اپنے معلولِ ازلی کے لیے موجب ازلی ہیں تو اس (معلول )کاایجاب (احداث دو حال سے خالی نہیں )یا تو ایسی ذات کے ذریعے ہوگا جو احوال متعاقبہ (یکے بعد دیگرے وجود میں آنے والے )سے مجرد ہوگا یا ان احوال سمیت ،اول صورت تو ممتنع ہے اس لیے کہ کسی ذات کا اپنے لوازم سے مجرد ہونا ممتنع ہے اور دوسری بات بھی ممتنع ہے اس لیے کہ وہ ذات جو اپنے صفات اور احوال کو مستلزم ہو وہ اپنی صفات اور احوال کے ذریعے فاعل بنتی ہیں اور احوالِ متعاقبہ کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا معلولِ معین ہو جو قدیم اور ازلی ہو اور یہ بھی ممتنع ہے کہ وہ معلولِ ازلی میں شرط ہو اس لیے کہ معلولِ ازلی کے بارے میں یہ بات ضروری ہے کہ وہ کسی علتِ ازلیہ کا مجموعہ ہو اور احوالِ متعاقبہ مجموعہ نہیں ہوتے اور نہ ان میں سے کوئی شے ازلی بنتا ہے ازلی تو ایک ایسا نوع ہے جو قدیم ہے اور وہ شیئا ًفشیئا ًوجود یتا ہے اور یہ بات ممتنع ہے کہ وہ ازل میں شرط ہو اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ اگر کہا جائے کہ دوام کے ساتھ حرکت کرنے والا فلک ایک ایسی ذات کے لیے موجب ہے جو ازلی ہے اور متحرک ہے یا وہ متحرک نہیں پس یہ بات ان کے نزدیک ممتنع ہے اور ان کے علاوہ دیگر کے نزدیک بھی اس لیے کہ جس شے کا فعل حرکت کے ساتھ مشروط ہو اس کے بارے میں یہ ممتنع ہے کہ اس کا کوئی مفعولِ معین (کوئی خاص مفعول )قدیم بنے ۔

اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ متحرک ازلی ایک ایسے متحرک کے لیے موجب ہے جو ازلی ہے تو وہ اس کیلئے موجب بنتا جو اس کے مناسب ہو اور وہ متحرکات جو اپنی مقدار اور صفات اور حرکات میں مختلف ہیں تو ان کے بارے میں یہ ممتنع ہے کہ ان کا صدور ایک ایسے متحرک سے ہوجس کی حرکات متشابہ ہوں یعنی ایک جیسی ہوں تو یہ بات کہ مفعولِ مخلوق تو تمام اعتبارات سے کسی فاعل کی طرف محتاج ہوتا ہے اور اس کے لیے کوئی بھی شے (تبدیلی )ثابت نہیں ہوتا مگر صرف اور صرف فاعل کی طرف سے اور فاعلِ خالق تو تمام اعتبارات سے غنی ہے اور ان دونوں کا ازلاً اور ابداً اقتران اس بات سے مانع ہے کہ ان میں سے کوئی ایک فاعلِ غنی بنے اور دوسرا مفعولِ فقیر (محتاج )بنے بلکہ یہ بھی ممتنع ہے کہ وہ اس سے متولد (پیدا)ہو اور یہ اس بات کو بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ اس کے لیے صفت بنے اس لیے کہ ولد اگرچہ والد سے پیدا ہوا ہے بغیر اس کے قدرت اور ارادہ اور اختیار اور مشیت کے لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ(ولد ) حادث (کہلاتا)ہے ۔

رہا یہ کہ کسی شے سے متولد اس ذات کے لیے لازم ہوتا ہے جس سے وہ پیدا ہو اور اس کا وجود بھی اس کے مقارن ہوتا ہے تو یہ بات بھی معقول نہیں ،اسی وجہ سے تو مشرکین عرب میں سے ان لوگوں کاشرک ،کفر اور جہل کہلاتاہے جو یہ کہتے ہیں کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں پس ان لوگوں کا قول اُن سے برتر کفر ہے اس لیے کہ وہ لوگ تو یہ کہتے تھے کہ ملائکہ حادث ہیں اور عدم کے بعدوجود میں آنے والے ہیں اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور وہ پہلے موجود نہ تھے اور وہ ہر گز اس بات کے قائل نہیں تھے کہ عالم قدیم ہے اور رہے یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ عقول اور نفوس اور وہ نفوس جن کو ملائکہ اور سماوات کہا جاتاہے یہ اللہ تعالیٰ کے قدم کے ساتھ خاص ہیں اور اللہ تعالیٰ ازل سے ان کوپیدا کرنے والے ہیں اور والد ہیں ۔

پس یہ لوگ اپنے اس قول کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے ان (فرشتوں )کو جنا ہے ،یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ان کے ساتھ ہیں اور یہ ایک ایسا امر ہے جو معقول نہیں نہ ولد میں نہ فعل میں ،پس ان کا یہ قول تمام اعتبارات سے معقول کے مخالف ہوا اور راز کی بات یہ ہے کہ انہوں نے جمع بین النقیضین کا ارتکاب کر لیا پس انہوں نے بغیر کسی فعل ،صنع اور بغیر کسی ابداع کے فعل ،صنع (کاریگری )اور ابداع کو ثابت کیا (یعنی فعل اور حدوث بغیر فاعل کے فعل اور تصرف کے وجود میں آیا )اور اللہ تعالیٰ کے فعل کے بارے میں ان کا قول انہیں کے قول کی طرح ہے جو انہوں نے اس کی ذات اور صفات کے بارے میں اختیار کیا ہے پس انھوں نے واجب الوجود کو ثابت کیا اور اس کو ایسی صفات کے ساتھ متصف کیا جو اس کو مستلزم ہے کہ وہ واجب الوجود ہو اور اس کی صفات کو بھی ثابت کیا اور پھر اس کی صفات کے بارے میں ایسے اقوال اورایسی باتیں کہیں جو اس کی صفات کی نفی کرتی ہیں ،اپنے اقوال میں جمع بین النقیضین کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ اس لیے کہ اصل میں یہ لوگ معطِّلہ محضہ ہیں لیکن انہوں نے ایک اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے لیے صفات کا اثبات کیا اور یہ بھی چاہا کہ یہ لوگ (صفات کے)اثبات اور (ان کی )تعطیل (نفی )کوجمع کر دیں جس کے نتیجے میں ان پر تناقض کا الزام آیا ۔

صفحہ 4 از 5