ابن ملکا کا عقیدہ اور اس پر رد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابن ملکا کا عقیدہ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

ابن ملکا کا عقیدہ اور اس پر رد 

وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ ایسے ارادوں کے قیام کا قول اختیارکیا ہے جو یکے بعد دیگرے وجود میں آتے ہیں جیسے ابو البرکات اور اس کے امثال ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ افلا ک کے لیے تو موجب بالذات ہی ہیں ا ور اللہ تعالیٰ اپنے ان ارادوں کے ذریعے حوادث کو پیدا کرتے ہیں جو ارادے اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور یکے بعد دیگرے وجود میں آتے ہیں پس ان لوگوں سے اولاً تو یہی بات کہی جائے گی جو ان کے ہم نواؤں سے کہی گئی اور ان کی طرف حجت بہ نسبت ان کے زیادہ قریب ہے اس لیے کہ وہ ان کی بہ نسبت حق کے اقرب ہیں اور ان سے کہا جائے گا کہ جب یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حوادث کو دھیرے دھیرے وجود دے دیں باوجود ان ارادوں کے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور وہ ارادے بھی دھیرے دھیرے وجود میں آتے ہیں تو پھر یہ بات کیوں جائز نہیں کہ افلاک بھی حادث ہوں بعد اس کے کہ وہ موجود نہیں تھے بوجہ ان ارادوں کے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور متعاقب ہیں اور بتحقیق اہلِ نظر میں سے حذاق کی ایک جماعت نے اس بات کو بھانپ لیا ہے جیسے کہ اثیر الازھری چنانچہ اس نے کہا کہ یہ بات تو ممکن ہے کہ وہ ان تمام حوادث کو پیدا کرے بوجہ اس ارادے کے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اگرچہ وہ ایک غیر متناہی حد تک مسبوق بارادۃ اخری ہے یعنی اس کے لیے کوئی ابتداء نہیں یعنی ہر ارادے سے پہلے ایک دوسرا ارادہ سابق ہے ۔

ان سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بات کیوں ممکن نہیں کہ تمام آسمان اور زمین غیر متناہی حد تک بذاتِ خود ایک ایسے مادے کے ساتھ مسبوق ہوں جس سے پہلے ایک اور مادہ تھا یعنی ہر مادہ سے پہلے کوئی اور مادہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے ماسوا جتنے بھی مخلوق ہیں وہ سب کے سب حادث ہیں اور وہ عدم کے بعدوجود میں آنے والے ہیں اگرچہ ہر حادث سے پہلے کوئی ایک اورحادث ہے جس طرح کے وہ لوگ اس کے قائل ہیں جو ان امور میں جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے ارادوں سے قائم ہیں کیونکہ حوادث کا تسلسل اور ان کا دوام اگر ممکن ہے تو یہ بھی ممکن ہے اور اگر وہ ممتنع ہے تو پھر فلک کا قدم بھی ممتنع ہوا پس دونوں تقدیروں پر یعنی دونوں صورتوں پر فلک کا قدم لازم نہیں آئے گا اور ان کے لیے اس کے قدم کے اوپر کوئی حجت باقی نہیں رہتی باوجود یکہ انبیاء علیہم السلام نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ مخلوق ہیں پس وہ کونسی بات ہے جس نے ان کو اُس بات کی مخالفت پر آمادہ کیا جس پر تمام رسول متفق ہیں اسی طرح تمام اہلِ ملل اور قدیم فلاسفہ کے سرکردہ لوگ بھی ،بغیر اس کے کہ اس کے مخالفت پر کوئی دلیلِ عقلی بالکل قائم نہیں کیونکہ جو بات یہ کہتے ہیں وہ تو نوعِ فعل کے قدم کا اثبات ہے نہ کہ عین فعل کا ،اس لیے کہ وہ تمام باتیں جن کے ذریعے عالم کے قدم کے قائلین استدلال کرتے ہیں تو وہ عالم میں سے کسی شے معین کے قدم پر دلالت نہیں کرتے بلکہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ فعل کے اسباب (فاعل ،مادہ ،غایت اور صورت)کا اعتبار کرنا فعل کے قدم پردلالت کرتا ہے ۔

پس بے شک اگر وہ دلالت کرتا ہے اس بات پر تو یقیناً وہ فعل کے نوع کے قدم پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اس کے عین کے قدم پر اور اس کے نوع کا قدم تو ممکن ہے باوجود یکہ یہ بھی کہا جائے کہ باقی ادلہ عقلیہ اس امرپر دلالت کرتے ہیں کہ فعل صرف اور صرف حادث ہی ہوتا ہے تو اس کے قائل ہونے کے باوجود بھی اس کے نوع کا قدم ممکن ہے اگر چہ وہ دھیرے دھیرے حادث ہو اور یقیناً فاعل خواہ مطلقاً ہو یا فاعل فاعلِ مختار ہو اس کا فعل صر ف اور صر ف حادث ہی بن سکتا ہے اگرچہ وہ شیئاً فشیئاًوجود میں آئے اور یقیناً حوادث کا دوام اسی مخلوقِ معین ازلی کے لیے ممکن ہے اسی طرح مفعولِ معین جو اپنے فاعل کے ساتھ مقارن ہو اور ازل سے اس کے ساتھ ہو تو یہ بھی ممتنع ہے باوجود یکہ انبیاء علیہم السلام نے اس بات کی خبر دی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے خالق ہیں اور اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمینوں کوچھ دن میں پیدا کیا پس کیسے تم نے ایک صحیح نقلی اور صریح عقلی بات سے ایک ایسی بات کی طرف روگردانی کر لی جو اس کی ضد ہے بلکہ تم نے تو ایک ایسی شے کا قدم ثابت کیا کہ کوئی بھی دلیل اس کے قدم پر دلالت نہیں کرتی ہے بلکہ اس کے حدوث پر دال ہے۔

پھر ان لوگوں سے یہ بھی کہا جائے گا کہ جب رب تعالیٰ اپنے ارادوں کے ساتھ فاعل ہے جیسے کہ تم نے کہا ہے اور جیسے کہ اس پر دوسرے ادلہ بھی دلالت کرتے ہیں اور تم اور تمہارے ان بھائیوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے جو کہ عالم کے قدم کے قائل ہیں تو کسی بھی مفعول کا ایسا فاعل عقلاً سمجھ میں نہیں آتا جو اس کے ساتھ مقارن ہو اور اس کے اوپر کسی بھی زمان کے ایک لمحے کے ساتھ متقدم نہ ہو بلکہ اس شے کو فرض کرنا عقل میں ایک ایسے فاعل کو فرض کرنا ہے جوایک فرضی اور غیر معقول بات ہے لیکن خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ۔

تم نے تو اپنے مخالفین سے بھی زیادہ ایک شنیع بات کہہ دی کیونکہ انہوں نے تو بغیر کسی زمان کے حدوث کو ثابت کر دیا تھا اور تم نے تو وہ بات کہہ دی جو بالکل عقلاً ہی سمجھ میں نہیں آتی پس تمہیں یہ کہا جائے گا کہ یہ بات تو معقول نہیں کہ کوئی فعل نفس الامر میں واقع ہو اور وہ کسی غیر ِ زمان میں ہو اسی طرح کسی ایسے مفعول کا وجود بھی معقول نہیں جو اپنے فاعل کے ساتھ مقارن ہو اور وہ اس سے بالکل زمان کے کسی (معمولی )لمحے کے ساتھ بھی متقدم اور اس سے پہلے نہ ہو۔

تقدم اور تاخر کی طرف رجوع 

تقدم اور تاخر کے بارے میں فلاسفہ کی رائے کے ساتھ مناقشہ کی طرف رجوع :

صفحہ 1 از 5