فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد - ردِ رافضیت…

فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

ہم نے اس بات کو نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ محصل اور غیر محصل پر کلام کرتے ہوئے بیان کیا ہے اور وہاں ہم نے یہ بات بتلائی ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ‘[ابو عبداللہ محمد بن عمر بن الحسن الحسین الرازی : فخر الدین ؛المعروف بابن الخطیب؛ متوفی ۶۰۶ہجری۔ ان ائمہ اشاعرہ میں سے ایک تھے جنہوں نے اشعری مذہب کے ساتھ فلسفہ اور اعتزال کو ملا لیا تھا۔دیکھیں : ابن خلکان ۳ں ۳۸۱۔ لسان المیزان ۴؍۲۴۶۔ طبقات شافعیہ ۸؍۸۱۔] نے اہلِ کلام سے جو یہ بات نقل کی ہے کہ وہ ایک ایسے مفعول کے وجود کو ممکن مانتے ہیں جو کسی علت کے لئے معلول ہو ،ازلی ہو،اس کا ان میں سے کوئی بھی قائل نہیں بلکہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ ہر مفعول صرف اور صرف محدث (حادث)ہی ہوتا ہے۔

امام رازی اور اس کے امثال نے ابن سینا کی موافقت میں جو کچھ ذکر کیا ہے(یعنی یہ بات کہ ممکن جس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہو وہ کبھی قدیم اور ازلی بھی بنتا ہے)یہ اگلے پچھلے تمام عقلاء کے نزدیک قولِ باطل ہے۔ یہاں تک کہ ارسطور اور اس کے متقدمین اور متاخرین اتباع کے نزدیک بھی۔کیونکہ بے شک وہ باقی عقلاء کے ساتھ اس بات میں موافق ہیں کہ ہر ایسا ممکن جس میں وجود اور عدم دونوں کا امکان ہو وہ صرف اور صرف محدث ہی بن سکتا ہے جو کہ عدم کے بعد وجود میں آیا ہو۔اور ارسطو نے جب کہ یہ کہاکہ فلک قدیم ہے تو باوجود اس کے اس کو ایسا ممکن نہیں ٹھہرایا جس کا وجود اور عدم دونوں برابر ہوں یعنی اس میں دونوں کا امکان ہو۔

مقصود یہ ہے کہ کسی چیز کے بارے میں مقدور اور مراد ہونے کا علم اُس کے حادث ہونے کو مستلزم ہے بلکہ اس کے مفعول ہونے کا علم ہی اس کے حادث ہونے کے علم کومستلزم ہے۔ کیونکہ صفتِ فعل ،خلق ،ابداع (از سر نوپیداکرنا)اور صنع اور اس جیسی دیگر صفات کا تصور تو مفعول کے حدوث کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ کسی شے کے مفعول ہونے اوراس کے قدیم اور ازلی ہونے کے درمیان جمع بین النقیضین بھی ہے اور نفس الامری وجود میں کبھی بھی اس بات کا تصور نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایسا فاعل پایا جائے جس کا کوئی مفعولِ معین ذات کے اعتبار سے اس کے ساتھ مقارن (متصل )ہو چاہے اسے علتِ فاعلیہ کہیں یا نہ کہیں لیکن شرط کا مشروط کے ساتھ مقارن ہونا تو سمجھ میں آتا ہے ۔



صفحہ 5 از 5