فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد - ردِ رافضیت…

فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

بخلاف ان آئمہ سلف کے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور قدرت سے متکلم ہیں ۔اوربلاشبہ وہ ازل ہی سے متکلم ہیں جب بھی چاہیں جیسے چاہیں ۔ پس یقیناً یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ صفتِ کلام اپنی نو ع کے اعتبار سے تو قدیم ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ کے کلمات کے لیے کوئی انتہاء نہیں ۔ بلکہ وہ ازل سے اپنی مشیت اور قدرت سے متکلم ہیں ۔ اور ازل ہی سے ہی جیسے چاہیں جب چاہیں متکلم ہیں ۔اور اس جیسی دیگر عبارات بھی ہیں ۔ اور وہ لوگ جنھوں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور قدرت سے متکلم ہیں ؛ اور اس کا کلام غیر کے اعتبار سے حادث اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے؛ یا یہ کہا کہ اس کا کلام ایسی مخلوق ہے جو اس کی ذات سے جدا ہے؛ تو ان لوگوں کی رائے کے مطابق یہ بات ممتنع ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کا کلام قدیم بن جائے۔

پس تحقیق عقلاء کے تمام گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایسی معین قدیم اور ازلی ذات جو واجب لذاتہ ہو وہ کسی دوسرے کے لیے مقدور اور مراد نہیں بنتی۔ بخلاف اس کے کہ جس کی نوع تو ازل سے موجود تھی لیکن اس سے تھوڑا تھوڑا کر کے وجود ملا۔[ یعنی وہ چیز دھیرے دھیرے وجود میں آئی]۔ تو یہی رائے اہل سنت والحدیث اسلاف کے آئمہ کی بھی ہے یعنی کے بے شک وہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور قدرت سے متکلم ہیں ۔ جیسے کہ ان جمہورِ فلاسفہ کی رائے ہے جو افلاک اور دیگر مخلوقات کے حدوث کے قائل ہیں جن میں سے ارسطو اور اس کے اصحاب بھی ہیں ؛ جو افلا ک کے قدیم ہونے کے قائل ہیں ۔

پس ائمہ اہل ملت اور ائمہ فلاسفہ اس بات کے قائل ہیں کہ افلاک حادث ہیں جوکہ عدم سے وجودمیں آئے ہیں ۔ باوجود یہ کہ وہ اسکے بھی قائل ہیں کہ نوعمقدورومراد ازل سے موجود ہے جو کہ آہستہ آہستہ وجو دمیں آئی۔ لیکن متکلمین میں سے بڑی تعداد اس بات کی قائل ہے کہ جو بھی چیز دوسری چیز کے لیے مقدور اور اس کی مراد ہو تو یہ بات ممتنع ہے کہ وہ ازل سے موجود ہو اور دھیرے دھیرے وجو د میں آئے اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جو مستقبل میں بھی اس بات کے ممتنع ہونے کے قائل ہیں ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کے ساتھ ان فلاسفہ نے دلائل بازی کی جوقدمِ عالم کے قائل ہیں ۔ اور جب انہوں نے ان کے ساتھ مناظرہ کیا ؛ توان کا اعتقادہوگیا کہ انھو ں نے ان کو دلائل میں مغلوب کر دیاہے۔اب تو یہ سمجھنے لگے کہ انھو ں نے تمام اہل ملت کو شکست دے دی۔ حالانکہ ان کو دیگر ملتوں کے آئمہ اور قدیم فلاسفہ کے بڑے بڑے آئمہ کے اقوال کا علم ہی نہیں ۔ اور اس کا سبب اِن کا یہ ظنِ فاسد ہے کہ دیگر ملتوں کے آئمہ اور فلاسفہ کا صرف اور صرف وہی قول ہے جو متکلمین کا ہے یا مجوس اور فرقہ حرَّانیہ کا ہے۔[یہاں پر مجوس سے ابن تیمیہ کی مراد وہ معتزلہ ہیں جو کہتے ہیں کہ: (خیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور شر انسان کی طرف سے ہوتا ہے)۔اور حیرانیہ سے ان کا مقصود اسلام کی طرف منسوب فلاسفہ ہیں ؛ خاص کر فاریابی ؛ جس نے فلسفہ حیران کے مشرکین صابیہ سے شہر حیران میں سیکھا تھا۔ دیکھیں : الرد علی المنطقیین ۸۷۹۔] یا ان لوگوں کا قول جو کسی معین مادے کے قدم کے قائل ہیں ؛ یا اس طرح کے دیگر وہ اقوال جن کا فساد اہلِ نظر کے ہاں واضح ہے ؛ اس کو ایک اور جگہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ 

یہاں تومقصود صرف اتنی بات ہے کہ عام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کہ کسی معین چیزکے مراد(جس کا ارادہ کیا جائے ) اور مقدور ہونے پر علم اُس کے حادث ہونے پر علم حاصل ہونے کو مستلزم ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ معدوم تھا۔ بلکہ یہ بات تو عقلاء کے نزدیک بداہۃ ضرورت کے تحت معلوم ہے۔یہی وجہ ہے کہ مناطقہ کے نزدیک تو کسی چیز کے بارے میں یہ تصور کرناکہ وہ کسی فاعل کا مقدور ہے اور فاعل اس کا ارادہ رکھتاہے ؛اور اس فاعل نے اپنی مشیت اور قدرت سے اس کام سرانجام دے چکا ہے؛ یااس شے کو وجود دیا ہے ، اس شے کے محدث ہونے کو مستلزم ہے۔بلکہ ان کے نزدیک تو کسی چیز کے بارے میں صرف مفعول یا مخلوق یا مصنوع ہونے کا تصور ہی اس کے حادث ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ عدم سے وجود میں آیا۔ پھر اس کے بعد کبھی کبھاریہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس فاعل نے اپنی مشیت اور قدرت سے اس کام کو کیا ہے یا نہیں ؟اور جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ کوئی بھی فاعل فاعل نہیں بنتا مگر صرف اور صرف اپنی مشیت اورقدرت کے سے اپنی مقدور اور مرادچیز کو انجام دے؛ جب وہ انجام دے تو وہ چیز محدث ہوتی ہے۔یہ اس بات پر ایک دوسری دلیل بن گئی کہ وہ شے محدث ہے۔ اسی وجہ سے عقلاء میں سے جس نے بھی اس بات کا تصور کیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے یا اشیاء میں سے کسی شے کو پیدا کیا ہے تو یہ بات اس کو مستلزم ہے کہ وہ مخلوق بھی محدث ہے ؛ اورعدم سے وجود میں آئی ہے۔

اور جب ان میں سے بعض سے یہ کہا جائے کہ یہ بتلاؤکہ وہ قدیمِ مخلوق ہے یا قدیمِ محدث ہے۔ مخلوق اور محدث کے لفظ سے وہ معنی مراد تھے جو ان متأخرین دہری فلاسفہ بیان کرتے ہیں ۔ جو محدث کو معلول بتاتے ہیں ۔ اور اس بات کے قائل ہیں کہ وہ قدیم اور ازلی ہے؛ اس کے باوجود وہ ایسا معلول اور ممکن ہے جو وجود اور عدم دونوں کو قبول کرتا ہے۔ پس جب عقلِ سلیم اس مذہب کا تصور کرتا ہے تو یقیناً اس پر تناقض کا حکم لگاتا ہے۔ اور یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس مذہب کے قائلین نے تونقیضین کو جمع کر لیا ہے۔کیونکہ جب انہو ں نے ایک ایسی مخلوق کو مان لیا جوکہ محدث اورمعلول اور مفعول ہو اور وجود اور عدم کا امکان رکھتا ہو؛ اور ان تمام صفات کے باوجود انہوں نے اس ذات کوقدیم اور ازلی بھی فرض کر لیا ہے جوکہ واجب الوجوب لغیرہ ہے اور اس کا عدم توممتنع ہے ۔

صفحہ 4 از 5