فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد - ردِ رافضیت…

فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

کیونکہ ایک مختار ذات کا فعل صرف اور صرف اس کی قدرت اور ارادے پر موقوف ہوتاہے۔بے شک وہ کبھی اس پر قادر ہوتا ہے لیکن فعل کا ارادہ نہیں کرتا پس وہ اسے کرتا نہیں اور کبھی فعل کا ارادہ تو رکھتا ہے لیکن وہ اس سے عاجز ہونے کی وجہ سے نہیں کر پاتا۔جب کہ کمال قدرت بھی ہو اور ارادہبھی جازمہ(پختہ ) ہو تو فعل کا وجود اس کے علاوہ کسی اور چیز پر موقوف نہیں ہوتا۔پس کامل قدرت اور پکا ارادہ ہی کسی ممکن فعل کا مرجحِ تام ہے۔ پس ان دونوں چیزوں کے پائے جانے کے وقت اس فعل کا وجود لازم اور واجب ہوجاتا ہے۔ اور رب تعالیٰ تو ایسے قادرِ مختار ہیں جو اپنی مشیت کے ساتھ فعل صادر کرتے ہیں اس پر کوئی جبرو اکراہ کرنے والا نہیں اور نہ ہی وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کسی فعل کے لیے مُوجِب بنتا ہے۔ اور نہ اس معنی پر کہ وہ ایسی ذات کے ذریعے فعل صادر کرتا ہے جس کے لیے کوئی مشیت اور قدرت ثابت نہیں ۔ بلکہ جس فعل کا وجود وہ چاہتا ہے؛ تو وہ اپنی مشیت اور قدرت کے ذریعے فعل کو وجود بخشتا ہے۔ یہ اس ذات کی حقیقت ہے جو کامل قدرت اور کامل اختیار والی ہو۔ پس وہ ایسا قادر مختار ہے جو اپنی مشیت سے ان تمام چیزوں کو وجود دیتا ہیجن کو وہ وجود دینا چاہے ۔

اور اس تحریر کے ذریعے اس مسئلہ میں وارد ہونے والا اشکال زائل ہوگیا۔ اس لیے کہ جب موجب بذاتہ ازلی ہو تو اس کا موجب بھی اس کے ساتھ ملاہوا ہوتا ہے۔ پس جب رب سبحانہ و تعالیٰ ازل سے ہی اس عالم کے لیے موجب بذاتہ ہے توجو کچھ اس کائنات میں ہے ؛ وہ بھی ازل کے ساتھ اس سے مقارن ہوا۔اور ایسا کہنا تو ممتنع ہے۔ بلکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیئت میں تھا وہ موجود تھا ا ور جو کچھ اس کی مشیئت میں نہیں تھا؛ وہ نہیں تھا۔ [یعنیجس چیز کے وجود کو اللہ تعالیٰ چاہیں وہ موجود ہو جاتا ہے اور جس کے عدم کو چاہیں تو وہ معدوم رہتا ہے] پس عالم میں سے وہ تمام چیزیں جن کے وجود کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو ان کا وجوداللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت کے تحت ہونا واجب ہوتاہے۔ اور جسے نہیں چاہتا تو اس کا وجود ممتنع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو چیز بھی عدم سے وجود میں آتی ہے تواس کی قدرت اور مشیت کے ہی ہوتی ہے۔ اور یہ بات اس کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ تمام اشیاء جن کے وجود کا اللہ تعالیٰ ارادہ کریں ان کا وجود واجب ہے۔[ یعنی یہ ممتنع ہے کہ وہ وجود میں نہ آئے] ۔

[موجب بالذات ؟]

’’مُوجِب بالذات ‘‘کے لفظ میں اجمال ہے۔ اگر اس سے یہ مراد لیا جائے کہ وہ ان تمام اشیاء کو وجود دیتا ہے جن کو اپنی مشیت اور قدرت کے ذریعے وہ ایجاد کر تا ہے؛ تو اللہ تعالیٰ کے فاعل بالقدرت و مشیئت ہونے اور موجوب بالذات ہونے میں اس تفسیر کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں رہتا۔ اور اگر مُوجِب بالذات کے لفظ سے یہ مراد لیا جائے کہ وہ اشیاء کو ایک ایسی ذات کے ذریعے موجود کر دیتا ہے جو قدرت اور اختیار سے خالی ہے تویہ بات باطل اور ممتنع ہے۔ اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ اس کی ذات ایسی علتِ تامہ ازلیہ ہے جو اپنے ازلی معلول کو مستلزم ہے؛ اس طور پر کہ اس عالم میں سے بعض اشیاء جیسے فلک اور دیگر بعض اجسام جن کی رائے کے مطابق قدیم ہیں اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ اور اس کی ذات کے لیے ازل سے ابد تک لازم ہیں ؛ تویہ بھی باطل ہے۔

پس لفظ مُوجِب بالذات کی اگر ایسی تفسیر کی جائے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عالم میں سے کسی چیز کے قدیم ہونے کا تقاضا کرے ؛ یا اس کی ایسی تفسیر کی جائے جو اللہ تعالیٰ سے صفاتِ کمال کے سلب کا تقاضا کرے تو وہ باطل ہے۔ اور اگر اس کی تفسیر ایسے الفاظ سے کی جائے جو اس بات کا تقاضا کرے کہ : اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہیں وہ ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے وہ نہیں ہوتا۔ تو یہ مراد برحق ہے۔ اس لیے کہ یقیناً جس چیز کے وجود کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں پس تحقیق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت کے تحت اس کا وجود واجب ہوا۔ لیکن یہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ اس اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے ازل ہی میں کسی معین چیز کا ارادہ کیا تھا۔ بلکہ اس کاازل ہی میں کسی شے معین کے وجود کاارادہ کرنا کئی وجوہ کی بناء پر ممتنع ہے ۔

اسی وجہ سے تو اکثرعقلائے فلاسفہ اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی بھی ازلی چیز کسی دوسری ذات کے لیے مراد اور مقدور نہیں بن سکتی ۔اورمتکلمین مناظرین حضرات کے درمیان اس بات میں ہمیں کوئی اختلاف معلوم نہیں ہوسکا کہ اللہ تعالی کی جو صفات ازلی اور اس کے ذات کے ساتھ لازم ہیں ان میں کوئی بھی صفت وجود کے اعتبار سے اس کی ذات کے موخر نہیں ۔ اور یہ بھی جائز نہیں کہ اس کی کوئی صفت اور مراد اور مقدور بن جائے۔ اور اس بات میں بھی کسی کا اختلاف نہیں کہ جو چیز مراد اور مقدور ہوتی ہے یعنی کوئی دوسری ذات اس کا ارادہ کرتی ہے تو اس کو وجود دے دیتی ہے تو اس کو قدرت حاصل ہوتی ہے تو وہ صرف اور صرف حادث ہی ہوتا ہے جو کہ تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آتا ہے اگرچہ وہ اپنی نوع کے اعتبار سے ازل سے موجود ہو؛ یا اس کی پوری نوع ہی عدم کے بعد وجو دمیں آئی ہو۔

اسی وجہ سے وہ لوگ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن قدیم اوراللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ لازم ہے؛ وہ تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کے ذریعے متکلم نہیں ۔اور اس کی مشیت اور قدرت کے ذریعہ بندہ میں اس قدیم صفت کا ادراک پیدا کرنا ہے۔ اور وہ لوگ جنھوں نے یہ کہا کہ اللہ کا کلام تو قدیم ہے۔ اور انھو ں نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قدیم ہے؛ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنی مشیت اور قدرت سے متکلم نہیں ۔ خواہ وہ یہ کہیں کہ کلام ایک ہی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے یا وہ یہ کہیں کہ کلام حروف ہیں ؛ یا حروف اور ایسی اصواتِ قدیمہ ہیں جو اپنی عین کے اعتبار سے ازلی ہوں ۔

صفحہ 3 از 5