فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد - ردِ رافضیت…

فلاسفہ اور دیگر ملتوں کے ائمہ کا متکلمین پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

اور یہ بھی کہا جائے گاکہ یہ ایک ایسی تقدیر ہے کہ خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں پس یہ کسی قائل کے اس قول کے بمنزلہ ہو اکہ کیا جنسِ حوادث کے امکان کے لیے کوئی انتہا ہے حالانکہ وہ مسبوق بالعدم بھی ہیں ؟یا ان کے امکان کے لیے کوئی انتہا نہیں ؟ پس جیسے کہ یہ بات جمع بین النقیضین کو مسلتزم ہے تو مأل کار کے طور پر تمہاری بات ابتداء میں جمع بین النقیضین کو مستلز م ہے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی ممکن کے دو طرفین [وجود وعدم ]میں سے ایک جانب کو ترجیح تب حاصل ہوتی ہے جب کوئی مرجحِ تام پائے جائے جس کی وجہ سے ممکن کو وجود ملے۔ اور بتحقیق یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے دو طرفین میں سے ایک کو ترجیح نہیں ہوگی یعنی وجود میں عدم پر مگر کسی ایسے مرجح تام کے ذریعے کہ جو اس ممکن کے وجود کو مستلزم ہو اور یہ دوسرا قول نسبتاً زیادہ درست ہے ۔جیسے کہ یہ ثابت ماننے والے مناظرین اسلام کا مسلک ہے۔کیونکہ یقیناً ممکن کے لیے حالتِ عدم میں بقاء ثابت کرنا کسی مرجح کی طرف محتاج نہیں ہے۔ اور جس نے کہا کہ یہ کسی مرجح کی طرف محتاج ہے؛ تو اس نے کہا کہ اس کے لیے کسی مرجح کا نہ پایا جانا ہی اس کے عدم کو مستلزم ہے۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو اس کے عدم کے لیے مستلزم ہوا یہ نہیں کہ بعینہ یہ عدم ہی وہ امر ہے جو اس کے عدم اور ناپید ہونے کے لیے مُوجب ہے اور نفسِ الامر میں اس سے اس کا عدم واجب اور ضروری نہیں ہو جاتا بلکہ نفس الامر میں معدوم اور نا پید ہونے کے لیے تو کوئی علت درکار ہی نہیں کیونکہ یقیناً معلول کا عدم علت کے عدم کو مستلز م ہوتا ہے یعنی جب معلول نہیں پایا جائے گا تو یہ لازم ہے کہ علت بھی نہیں پائی جائے گی اور ملزوم علت بننے سے اعم ہے کیونکہ وہ مرجحِ تام اگر ممکن کے وجو د کو مستلزم نہ ہو تو پھر ممکن کا وجود اس مرجحِ تام کے ساتھ جائز بنے گا نہ کہ واجب یاممتنع اور پھر ایسی صورت میں وہ ممکن ہی بنے گا پس وہ موقوف ہوگا کسی مرجح پر کیونکہ بے شک ممکن وہ صرف اورصرف مرجح کے نتیجے سے وجود میں آتاہے یعنی جو اس کے دو طرفین [وجود اور عدم ]میں سے وجود کو ترجیح دے۔

پس یہ بات اس پر دال ہے کہ اگر کسی ممکن کے لیے ایسا مرجح حاصل نہ ہو جو اس کے وجود کو مسلتزم ہو تو پھر اس کا وجود ممتنع ہے اور جب تک اس کا وجود ممکن اور جائز ہو گایعنی غیر لازم ہو گاتو وہ وجود میں نہیں آئیگا اور یہی وہ بات ہے جس کے قائل اہلِ سنت کے وہ آئمہ ہیں جو قدر کا اثبات کرتے ہیں اور اس بات فلاسفہ کے آئمہ نے ان کی موافقت بھی کرتے ہیں اور یہ وہ امر ہے کہ جس کے ذریعے انہوں نے اس بات پراستدلال کیا ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کے خالق ہیں ۔

کامل قدرت اور یقینی ارادہ فعل کے وجود کا تقاضا کرتی ہے:

معتزلہ میں سے قدریہ اور ان کے علاوہ دیگر لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ قادر ذات کے لیے یہ بات ممکن ہے کہ فعل کو ترک پر ترجیح دے؛ بغیر اس کے کہ کوئی ایسا کوئی امر پایا جائے جو فعل کو مستلزم ہو۔ اور انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ اگر وہ ذات اس طور پر قادر نہیں تو لازم آئے گا کہ وہ مُوجِب بالذات ہیں قادر نہیں ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ: قادر ذات تو اس مختار ذات کو کہتے ہیں کہ جوجب چاہے تو کرے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔پس جب یہ کہا جائے کہ اس پر لازم کئے بغیر کوئی فعل صادر نہیں کرتا[یعنی فعل کے کرنے کا کوئی مسلتزم پایا جائے] تو پھر وہ مختار نہ رہا بلکہ مجبور ہوا۔

تو جمہور اہل ملت نے اس کے جواب میں کہا کہ: بلکہ یہ تو خطاہے اس لیے کہ یقیناً وہ قادر ذات کہ جو اگر چاہے تو کرے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔یہ وہ ذات نہیں ہے کہ اگر فعل کا پکا ارادہ کرے اور وہ اس پر قدرتِ تامہ کے ساتھ قادر ہو تو وہ فعل ممکن اور جائز رہے گا نہ کہ لازم اور واجب اور نہی ممتنع اور محال۔

بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات یقیناً معلوم ہے کہ وہ ذات جو قادرِ مختار ہے جب ارادہ کرتا ہے کسی فعل کا پکے ارادے کے ساتھ اس حال میں کہ وہ اس پر قدرتِ تامہ کے ساتھ قادربھی ہو؛تو اس سے فعل کا وجود لازم آجاتا ہے۔ اور وہ فعل واجب لغیرہ بن جاتا ہے نہ کہ واجب لنفسہ؛ جیسا کہ اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ: جو کچھ اللہ چاہتے ہیں وہ ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتے وہ نہیں ہوتا۔ اور جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ چاہتے ہیں تو اس پر وہ قادر ہیں ۔ پس وہ جب کسی چیز کو چاہیں گے تو اس کی مراد حاصل ہوگی؛ اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس پر قدر ت ہوگی؛ پس اس کا وجود لازم ہوگا ۔اور جس کو وہ نہیں چاہے گا وہ موجود نہیں ہوگا پس یقیناً اس نے اس کا ارادہ نہیں کیا؛ اگرچہ وہ اس پر قادر ہے۔ لیکن اس کے وجود کے لیے ایسا مقتضی نہیں پایا گیا جو اس کو عدم سے وجود میں لے آئے پس ایسے حال میں اس کا وجود جائز نہیں ۔

اہل اسلام کہتے ہیں : قدرتِ تامہ اور ارادہ جازمہ کے ساتھ عدمِ فعل ممتنع ہے۔ اور کسی فعل کا نہ پایا جانا صرف اسی صورت میں متصور نہیں ہو سکتا کہ یا تو اس پر کامل قدرت حاصل نہیں ہے یااس کے کرنے کا کامل ارادہ نہیں ہے ۔ اورایسی چیز تو انسان اپنی ذات میں بھی پاتا ہے اوریہ یقینی دلائل کے ساتھ معروف اور معلوم ہے۔

صفحہ 2 از 5