فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی…

فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی شبہ پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’اہل سنت کے بقول یہ لازم آتا ہے، کہ ذات حق کو غفور و حلیم اور عفو کے صفات سے متصف نہ کیا جائے‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان صفات سے اس صورت میں موصوف ہو سکتا ہے، جب وہ فساق و فجار کو سزا دینے کا مستحق ہو اور جب وہ یہ سزا معاف کر دے تو اسے غفور و حلیم کے اسماء حسنیٰ سے ملقب کیا جائے، ظاہر ہے کہ وہ فساق کو سزا دینے کا مستحق جبھی ہوگا کہ گناہ بندے سے سرزد ہوں نہ کہ اللہ تعالیٰ سے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:اس کا جواب کئی طریق سے ممکن ہے:

پہلا جواب:بہت سے اہل سنت کہتے ہیں ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ غفور و حلیم کے القاب سے اللہ تعالیٰ کو اسی وقت ملقب کیا جا سکتا ہے جب وہ فساق کو سزا دینے کا استحقاق رکھتا ہو۔ استحقاق سے قطع نظر۔ کیونکہ ان امور کے ذریعے استحقاق کو خاص کرنا اس بات کو مقتضی ہے کہ وہ کسی شے کا تو مستحق ہے اور کسی شے کا نہیں ، اور یہ بات خود ان کے نزدیک ممنوع ہے۔ بلکہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، اور جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ جب وہ سزا دینے کی قدرت رکھتا ہو اس لیے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور جو حکم دینا چاہتا ہے دیتا ہے۔ تو اس سے مغفرت، رحمت اور حلم و عفو وغیرہ درست ہوا۔ 

دوسرا جواب: قائل کا یہ قول کہ ’’ اللہ تعالیٰ انسان کو سزا دینے کا استحقاق رکھتا ہو۔‘‘ اس سے اس کی مراد یا تو یہ ہے کہ گناہ گاروں کو سزا دینا اس کا عدل ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کا محتاج ہے۔ پہلی بات پر سب کا اتفاق ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عفو و مغفرت اس کے فضل و احسان کی آئینہ دار ہے۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کو افعال العباد کا خالق قرار دیتے ہیں ، ان کا یہی زاویہ نگاہ ہے جو لوگ افعال العباد کے متعلق یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی مخلوق ہیں اور بندہ صرف ان کاکا سب ہے، وہ بھی اس بات میں متحد الخیال ہیں کہ سزا اس کے عدل پر مبنی ہے۔اور اگر اس سے باری تعالیٰ کا محتاج ہونا مراد لیا جائے تو پھر اس کے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ 

تیسرا جواب:یہ کہا جائے گا کہ: اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے متعلق دو صورتیں ممکن ہیں :

۱۔ پہلی صورت: اللہ تعالیٰ رحمت و مغفرت کے ساتھ موصوف ہے اور سزا دینا اس کے لیے قبیح ہے۔

۲۔ دوسری صورت: اللہ تعالیٰ رحمت و مغفرت سے تب ہی موصوف ہوسکتا ہے، جب سزا دینا اس کیلئے جائز ہو۔

پہلی صورت کے مطابق لازم آئے گا کہ وہ اہل ایمان اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے لیے غفار نہیں ، اس لیے کہ ان کو سزا دینا قبیح ہے اور ان کی مغفرت واجب ہے۔ مزید برآں اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ ذات باری تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کے لیے غفور و رحیم نہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی رحیم و کریم نہیں جو گناہ کر کے ان سے تائب ہو جائیں اور نیک کام کرنے لگیں ۔کیونکہ اب ان کو سزا دینا ایک قبیح فعل ہوگا۔اور ان کے لیے رحمت اور مغفرت اس عقیدہ والوں کےنزدیک واجب ہوجاتی ہے۔ اور انبیائے کرام علیہم السلام وغیرہ میں سے جو رحمت کے مستحق ہیں ، ان کے حق میں رحیم نہ ہوگا، اور اس ظالم کے حق میں بھی غفور ورحیم نہ ہوگا۔ جس نے ظلم کے بعد نیکی کر لی، اور جب قرآن سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ توبہ تائب ہونے والوں کے لیے غفار اور مومنوں پر رحیم ہے تو معلوم ہو گیا کہ وہ مغفرت رحمت کے ساتھ متصف ہے، اور اگر اس سے اس کے ساتھ عذاب ممتنع ہے کہ وہ عقاب کا مستحق ہو تو بھی اسے مغفرت و رحمت کے ساتھ متصف کرنا ممتنع نہ ہوگا۔ جیسا کہ اسے بخشنا اور رحم کرنا وغیرہ۔ جسے ان کے نزدیک عقاب دینا مستحسن نہیں ۔

بندہ معصیت کا فاعل ہے یا کاسب؟

چوتھا جواب : بندے سے جو معصیت صادر ہوتی ہے اکثر علماء کے نزدیک وہ اس کا فاعل ہے اور بعض کے نزدیک کاسب۔ اس قول کی روشنی میں یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ آدمی ظالم کو سزا دینے کا استحقاق رکھتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ظالموں کو سزا دینے کا اس سے بھی زیادہ مستحق ہے، جہاں تک اللہ تعالیٰ کے معصیت کو پیدا کرنے کا تعلق ہے، وہ اس کی حکمت و مصلحت پر مبنی ہے، یہ جمہور کا نظریہ ہے جو افعال الٰہی کو مبنی بر حکمت قرار دیتے ہیں ، یا معصیت کی تخلیق اس کی مشیت کے تابع ہے، یہ ان لوگوں کا نقطۂ نظر ہے جو افعال باری تعالیٰ کو معلل بالحکمت نہیں سمجھتے۔


صفحہ 3 از 3