فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی…

فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی شبہ پر رد ّ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

اسی طرح اس نے اس مقام پر معجزہ کو بھی پیدا کیا ہے۔ پس اس نے معجزہ کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا اور اس بات کا ارادہ کیا کہ یہ معجزہ اپنے اس مدلول کو مستلزم ہو جو رسول کی صداقت ہے، اور اس شخص کے لیے مدلول پر دال ہے جو اس میں غور کرتا ہو۔

جب اس نے معجزہ کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا اور اس تلازم کا بھی ارادہ کیا تو مقصود حاصل ہو گیا جو معجزہ کا صدق پر دلالت کرنا ہے۔ اگرچہ اس نے دو مرادوں میں سے ایک کو دوسرے کے لیے نہیں بنایا۔ کیونکہ مقصود دونوں کے ارادہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ معجزہ بذاتِ خود دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ اس بات کے علم پر دلالت کرتا ہے۔ معجزہ کے فاعل نے اس کے ذریعے تصدیق کا ارادہ کیا ہے۔

تو اس کا یہ جواب ہے کہ: یہ جائے اختلاف ہے، اور ہمارا مقصود اس شخص کے قول کی تائید نہیں جو اس کا قائل ہے کہ اللہ فعل کرتا ہے لیکن کسی حکمت کے لیے نہیں ۔ بلکہ ہمارے نزدیک یہ قول مرجوع ہے۔ ہمارا مقصود دوسرے قول کے قائلین کی دلیل بیان کرنا ہے اور اس قول والے ان معتزلہ اور شیعہ سے بہتر ہیں ۔

باری تعالیٰ اور افعال قبیحہ کا صدور؟

[شبہ ]: باقی رہا شیعہ مصنف کا یہ دعویٰ کہ اہل سنت کے نزدیک جب اللہ تعالیٰ افعال قبیحہ کا مرتکب ہو سکتا ہے، تو وہ جھوٹے نبی کی تصدیق بھی کرسکتا ہے۔‘‘یہ اس کی دوسری دلیل ہے۔ 

[اس کا جواب] یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو قبائح کا مرتکب قرار نہیں دیتا، اس کی حدیہ ہے کہ جو لوگ باری تعالیٰ کو افعال العباد کا خالق مانتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ: افعال قبیحہ کی قباحت کی ذمہ داری بندوں پر عائد ہوتی ہے، اللہ پر نہیں ، اسی طرح ان کا ضرر بھی بندوں کو لاحق ہوتا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کو۔پھر ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ وہ اس فعل کا فاعل ہے، اور اکثر کا یہ قول ہے کہ یہ فعل اس کا مفعول لہ ہے ، اور وہ فعل بندے کا ہے۔ جبکہ خرقِ عادت[یا معجزہ] بندے کا فعل نہیں ہوتا؛ کہ یہ کہا جائے کہ یہ بندوں سے قبیح ہے، اور اگر فرض کیا کہ یہ کہا جائے کہ وہ فعل اللہ سے قبیح ہے ناکہ بندے سے۔ حالانکہ رب تعالیٰ فعلِ قبیح سے منزہ ہے۔

دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ:فعل کا خالق اللہتعالیٰ ہے تاہم بندہ اس کاکاسب ہے ‘اللہ کا سب نہیں ۔ جہاں تک معجزات کا تعلق ہے، یہ بندوں کے اختیارمیں نہیں ہوتے کہ ان کو بندوں کے افعال میں شمار کیا جائے۔

باقی رہا کذاب کی تصدیق کرنا تو اس کی صورت یہ ہے کہ اس کے صادق ہونے کی خبر دی جائے خواہ قول کے ذریعہہویا ایسے فعل سے جو قول کا قائم مقام ہو؛ ظاہر ہے کہ ذات باری سے اس کا صدور محال ہے؛ کیونکہ (کذب بیانی) ایک مذموم و صف ہے، اورعقلی طور پر اللہ سبحانہ تعالیٰ تمام نقائص اور عیوب سے منزہ ہے؛ اس پر تمام اہل خرد و دانش کا اتفاق ہے۔

جو یہ کہتا ہے کہ: اللہ سے فعلِ قبیح متصور نہیں ، بلکہ اس کا ہر ممکن فعل حسن ہے جب وہ اسے کرے۔

وہ کہتا ہے: جو فعل صفاتِ کمال کے سلب کو اور نقص کے اثبات کو مستلزم ہو، وہ اس پر ممتنع ہے۔ جیسے عجز، جہل وغیرہ، اور کذب ایک صفتِ نقص ہے۔ جبکہ صدق صفتِ کمال ہے، اور کذاب کی تصدیق بھی ایک طرح کا کذب ہے۔ جیسا کہ صادق کی تکذیب بھی ایک قسم کا کذب ہے۔ تو جب کذب ایک صفتِ نقص ہے تو یہ اللہ کے حق میں ممتنع ہے۔

ہم نے یہ بات ایک دوسرے مقام پر تفصیل سے بیان کر دی ہے، اور ہمارا مقصد یہ نہیں کہ جو بھی اہلِ سنت کی طرف ہے اس کی تصدیق کرتے جائیں ۔ بلکہ ہم حق بیان کریں گے، اور حق یہ ہے کہ اہل سنت خطا پر کبھی متفق نہیں ہوتے، اور شیعہ جہاں بھی اہلِ سنت سے جدا ہوئے ہیں ، خطا پر رہے ہیں ۔ بلکہ جس امر میں بھی شیعہ نے جمیع اہلِ سنت کی مخالفت کی ہے اس میں خطا پر ہیں ۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے جس امر میں بھی سب مسلمانوں کی مخالفت کی ہے، اس میں وہ گمراہ ہیں ۔ چاہے بے شمار مسلمان خود بھی خطا پر رہے ہیں ۔

جہم بن صفوان نے قدر کے جن مثبتین کی اس بات میں موافقت کی ہے کہ اللہ کا کوئی فعل حکمت و سبب کی بناء نہیں ہوتا، اور اللہ کی طرف نسبت کے اعتبار سے مامور اور محظوظ میں کوئی فرق نہیں ، اور نہ اس کے نزدیک کوئی فعل محبوب یا کوئی مبغوض ہے۔ بے شک یہ قول فاسد اور کتاب و سنت اور اتفاقِ اسلاف کے خلاف ہے۔ یہ لوگ بے شمار نقائص کے رب تعالیٰ پر ممتنع ہونے کو بیان کرنے سے عاجز رہ جاتے ہیں ۔ بالخصوص جب ان میں سے ایک یہ کہتا ہے: رب تعالیٰ کی نقص سے تنزیہ عقل سے نہیں بلکہ سمع سے معلوم ہوتی ہے۔

[رب سبحانہ و تعالیٰ اور امتناع کذب]

پھر جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ: تم لوگوں نے یہ کیوں کہا کہ: رب تعالیٰ پر کذب ممتنع ہے؟

تو کہتے ہیں : کیونکہ یہ نقص ہے اور اس پر نقص محال ہے۔

جب ان سے کہے کہ: تمہارے نزدیک یہ نقص سے تنزیہ اجماع سے معلوم ہوئی ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ رب تعالیٰ کے کذب سے منزہ ہونے پر اجماع منعقد ہے، تو جب اس بات پر اجماع کے ذریعہ دلیل لانا صحیح ٹھہرا تب پھر اس دوراز کار گفتگو کی حاجت نہ رہی۔ دوسرے کلام معنی پر دلالت کرنے والی عبارت میں ہے، جیسا کہ بعض کا قول ہے کہ: یہ بات جائز نہیں کہ اللہ کوئی لا یعنی بات کرے بخلاف حشویہ کے۔

بلاشبہ یہ کسی مسلمان کا قول نہیں ۔ نزاع اس میں ہے کہ کیا وہ کوئی ایسا کلام اتار سکتا ہے۔ جس کا معنی بندے نہ جانتے ہوں ناکہ یہ وہ کلام فی نفسہ لا یعنی ہے۔ پھر فرض کیا کہ اس میں نزاع ہے تو قائل نے اس کے عبث ہونے پر استدلال کیا ہے اور اللہ پر عبث محال ہے۔ یہ شخص اللہ پر ہر فعل کو جائز سمجھتاہے، اور اسے عبث اور لا یعنی فعل سے منزہ قرار نہیں دیتا۔جہمیہ اور قدریہ کے قول کے موافق ان لوگوں کے کلام میں اس قسم کے تناقضات بے شمار ہیں ۔ البتہ یہ جمہور اہلِ سنت کا قول نہیں واللہ اعلم۔

بعض صفات باری تعالیٰ اور رافضی اعتراض پر رد:

صفحہ 2 از 3