فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 10

’’ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا: کیا تم دونوں اٹھ کر نماز نہیں پڑھتے؟ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اگر اس نے چاہا کہ وہ ہمیں اٹھا دے تو ہم اٹھ جائیں گے۔‘‘ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت تلاوت فرماتے ہوئے لوٹ گئے:

﴿وَ کَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًاo﴾ (الکہف: ۵۳) 

’’اور انسان ہمیشہ سے سب چیزوں سے زیادہ جھگڑنے والا ہے۔‘‘[البخارِیِ:۶؍۸۸، ِ کتاب التفسِیرِ، سورۃ الکہف:۲؍۵۰ ِکتاب التہجدِ، باب تحرِیضِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی صلاِۃ اللیلِ....، المسند ط المعارِف: ۲؍ ۸۹، ۱۷۲۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں تہجد کے لیے اٹھنے کو فرمایا تو جنابِ علی رضی اللہ عنہ نے تقدیر کو آڑ بنایا کہ اللہ نے چاہا تو وہ ہمیں اٹھا دے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا آیات تلاوت فرمائی۔

[اہل سنت پر تقدیر کے متعلق ایک اور الزام اور اس پر ردّ]

[اشکال ۲]: شیعہ مصنف رقم طراز ہے: ’’ اہل سنت کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو اطاعت شعاری کے باوصف عذاب دے سکتے ہیں ، اور ابلیس اپنی معصیت کاری کے باوجود اجر و ثواب حاصل کر سکتا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی مقصد کے پیش نظر کوئی فعل انجام نہیں دیتا۔‘‘در ایں صورت اطاعات و عبادات کو انجام دینے والا حد درجہ احمق ہوگا، اس لیے کہ وہ یونہی عبادت میں منہمک رہ کر اپنے آپ کو محنت و مشقت میں ڈالتاہے، مسجدیں اور مہمان خانے بنانے کے لیے اپنا مال پانی کی طرح بہاتا ہے، مگر اس سے اسے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ بایں ہمہ بعض اوقات اسے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کے عین برعکس اگر وہ انواع و اقسام کے گناہوں کا ارتکاب کرے اور لذت گیر ہوتارہے، تاہم اللہ تعالیٰ اسے اجر و ثواب عطا کر سکتا ہے۔پس پہلے نظریہ کا اختیار کرناہر عقل مند کے نزدیک سراسر حماقتپر مبنی ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ان نظریات و افکار کا نتیجہ دنیا کی ہلاکت و بربادی اور دین و شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تخریب اور ہلچل پیدا ہونے کی صورت میں ظہور پذیر سکتا ہے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے: 

اولاً:....شیعہ مصنف کا یہ قول قطعی طور پر بے بنیادہے اور اس کے باطل ہونے پرمسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اہل سنت میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ بخلاف ازیں وہ لامحالہ طور پر ان کے اجر و ثواب پانے کے بارے میں سب ہم نوا ویک زبان ہیں ؛ اس کے خلاف بالکل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کا وعدہ کر چکا ہے اور وہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا،یہ بات ضرورت کے تحت معلوم شدہ ہے۔

٭ پھر مثبتین قدر اہل سنت میں سے بعض علماء کے نزدیک انبیاء کرام علیہم السلام کا حامل اجر و ثواب ہونا خبر صادق کی بنا پر معلوم ہے۔ اسے مجرد دلیل سمعی کہتے ہیں ۔ اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ:خیر صادق کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی یہ معلوم ہوسکتا ہے۔عقلی دلیل سے یہ چیز جانی جاسکتی ہے۔اگرچہ اس کی طرف شارع علیہ السلام نے بھی رہنمائی کی ہے اور اس سے آگاہ فرمادیا ہے۔ جیسا کہ جب اس کی حکمت و رحمت اور عدل کا علم ہو جاتا ہے تو اس سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ جو ان صفات سے موصوف ہو وہ اس کے مناسب اکرام کا مستحق ہے۔ جیسا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی نبوت کے بارے میں جاننے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا:

’’ہر گز نہیں ؛ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا؛ بیشک آپ صلہ رحمی کرو ۔ اور کمزور کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور نادار کے لیے کماتے ہیں ؛ اور مہمان نوازی کرتے ہیں ؛ اور مشکل میں لوگوں کے کام آتے ہیں ‘‘[البخارِیِ:۱؍۳، کتاب بدئِ الوحیِ، باب کیف کان بدء الوحیِ، وتکرر الحدِیث فِی البخارِیِ فِی مواضِع کثِیرۃ، انظر فتح البارِی ط السلفِیِ: الرقام:۳۳۹۲، ۴۹۵۳، ۴۹۵۵، ۴۹۵۶،۴۹۵۷،۶۹۸۲، والحدِیث عن عائِشۃ رضِی اللّٰہ عنہا فِی مسلم:۱۳۹؍۱، کتاب الإِیمانِ باب بدئِ الوحیِ ِإلی رسولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہِ وسلم ، المسند ط الحلبِیِ۶؍۲۲۳، ۲۳۳]

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوْا السَّیِّٔاتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَوَائً مَحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَ ﴾ (الجاثیہ:۲۱) 

’’یا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہو گا؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں ۔‘‘

یہ استفہام انکاری ہے؛ اور اس سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو اس زعم فاسد میں مبتلا تھے۔یہ ان لوگوں پر انکار ہے جو اس زعم فاسد میں مبتلا تھے؛یا جو ایسے خیالات کا شکار تھے جن کا باطل ہونا ان کے لیے صاف ظاہر تھا؛ یہ ان لوگوں پر ردّنہیں جو کسی ایسے گمان میں مبتلا تھے جو کہ باطل اور غلط نہیں ۔ اس سے واضح ہواکہ اہل طاعت اور اہل کفرو معصیت کی مساوات کا نظریہ بالکل باطل ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا برا حکم صادر کرنے سے منزہ ہے۔مثلاً ارشادالٰہی ہے:

﴿ اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ ﴾ (ص:۲۸)

’’کیا ہم اہل ایمان اور نیک اعمال انجام دینے والوں کوزمین میں فساد بپا کرنے والوں کی طرح کر دیں اور اہل تقویٰ کو فاسق و فاجر لوگوں کی طرح بنا دیں ؟‘‘

نیز ارشاد فرمایا:

﴿ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَo مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ﴾ (القلم:۳۵۔۳۶)

’’کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی طرح بنا دیں ؟کیا ہے تمھیں ، تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟‘‘

صفحہ 9 از 10