فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 10

دورِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اواخر میں قدریہ کا یہ جماعت پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن تقدیر کی آڑ میں اوامر کو رد کرنے والے تو متقدمین مسلمانوں میں ان کی کوئی قابلِ ذکر جماعت نہیں تھی۔ ان کی کثرت متاخرین میں ہوئی۔ انہوں اس عقیدہ کو حقیقت کا نام دیا۔ پھر اس حقیقت کو شریعت کے معارض ٹھہرایا، اور یہ نہ سمجھا کہ حقیقت دینیہ شرعیہ میں جو قلوب کے احوال کو متضمن ہے۔ جیسے اخلاص، صبر، شکر، توکل اور اللہ کی محبت، اور حقیقت کونیہ قدریہ میں فرق ہے۔ جس پر ایمان تو لایا جاتا ہے لیکن اسے دلیل نہیں بنایا جاتا۔ البتہ مصائب کے وقت اس کی طرف تسلیم و رضا کے ساتھ رجوع کیا جاتا ہے۔

پس عارف مصائب میں تقدیر کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس پر تسلیم و رضا کے ساتھ ایمان لاتے ہوئے گناہوں سے توبہ و استغفار کرتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَاصْبِرْ اِِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ﴾ (غافر: ۵۵) 

’’پس صبر کر، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کے لیے بخشش مانگ۔‘‘

پس بندہ اس بات کا مامور ہے کہ وہ مصائب پر صبر کرے اور مصائب میں استغفار کرے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان بحث والی حدیث:

یہ حدیث بھی اسی باب سے ہے جسے صحیحین وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے، اور ایک جید سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’آدم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام میں جھگڑا ہو گیا۔‘‘

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :

’’حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: ’’مجھے آدم دکھلائیے جنہوں نے اپنی خطا کی وجہ سے ہمیں جنت سے نکلوایا۔ پس موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں ۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنی روحسے آپ میں پھونکا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا۔ تو آپ نے خود کو اور ہمیں جنت سے کیوں نکلوایا؟‘‘ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا: تو وہ موسیٰ ہے جسے اللہ نے اپنے کلام کے ساتھ چنا، اور اپنے ہاتھ سے تیرے لیے تورات لکھی۔ سو تو نے اس میں لکھا دیکھا ہوگا: ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ (یہ) میری پیدائش سے کتنا پہلے (لکھا ہوا تھا)؟ انہوں نے کہا: چالیس برس پہلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم موسیٰ علیہ السلام پر دلیل میں غالب آ گئے۔ پس آدم موسیٰ پر دلیل میں غالب آ گئے۔‘‘ [صحیح البخاری: ۹؍ ۱۴۸۔ کتاب التوحید: باب وکلم اللّٰہ موسٰی تکلیما‘‘ عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ۔]

متعدد جماعتوں کا اس حدیث کے بارے میں یہ گمان ہے کہ آدم نے اپنے گناہ پر تقدیر کو دلیل بنایا ہے، اور اسی دلیل سے وہ موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، اور ان میں سے تحقیق و عرفان کی مدعی ایک جماعت اس حدیث کو دلیل بنا کر گناہوں پر تقدیر کو آڑ بناتی ہے، اور ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ: اس حدیث سے آخرت میں استدلال تو درست ہے۔ البتہ دنیا میں نہیں ، اور ایک جماعت یہ قول کرتی ہے کہ: یہ حدیث ان خواص کی تو حجت ہے جو قدر کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ البتہ عوام کی دلیل نہیں ، اور جبائی وغیرہ ایک جماعت نے اس حدیث کا ہی انکار کر دیا ہے، اور کسی نے تاویلاتِ فاسدہ کا انبار لگا دیا ہے۔ مثلاً:

٭ آدم اس لیے دلیل میں غالب آئے کیونکہ انہوں نے توبہ کر لی تھی۔

٭ آدم موسیٰ علیہ السلام کے باپ تھے اور بیٹے کو حق نہیں کہ وہ باپ کو ملامت کرے۔

٭ ایک شریعت میں یہ فعل گناہ تھا جبکہ دوسری میں نہیں ۔

غرض یہ سب اقوال اس حدیث کے مقصود سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ حدیث تو صرف اس بات کو متضمن ہے کہ مصائب میں تقدیر کے آگے تسلیم ہے۔ کیونکہ آدم کو موسیٰ نے اس بات پر ملامت نہ کی تھی جو گناہ میں اللہ کا حق تھا۔ بلکہ ذریتِ آدم کو لاحق ہونے والی مصیبت پر ملامت کی تھی۔ اس لیے موسیٰ نے یہ عرض کیا تھا کہ مجھے وہ آدم تو دکھلائیے جنہوں نے خود کو اور ہمیں جنت سے نکلوایا، اور یہ بات بھی اس حدیث کے ایک طریق میں مروی ہے ناکہ جملہ طرق میں ۔

اور یہ حق بات ہے۔ کیونکہ آدم نے گناہ سے توبہ کر لی تھی، اور موسیٰ جانتے تھے کے تائب کو ملامت نہیں ، اور خود انہوں نے بھی تو توبہ کی تھی جب انہوں نے یہ کہا تھا:

﴿رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ﴾ (القصص: ۱۶) 

’’اے میرے رب! یقیناً میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَo﴾ (الاعراف: ۱۳۳) 

’’تو پاک ہے، میں نے تیری طرف توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں ۔‘‘اور فرمایا:

﴿فَاغْفِرْلَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَo وَ اکْتُبْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَیْکَ﴾ (الاعراف: ۱۵۵ ۔ ۱۵۶) 

’’سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی، بے شک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔‘‘

پھر یہ کہ گنہگار بندے تو بے شمار ہیں ۔ تو لوگوں کو چھوڑ کر صرف آدم کو ملامت کرنا بلا وجہ ہے۔

پھر یہ کہ اگر یہ دلیل مقبول ہو تو اسے ابلیس بھی حجت بناتا، اور قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون بھی اس کو دلیل بناتیں ۔ اگر موسیٰ پر آدم نے گناہ کی دلیل میں قدر کو پیش کیا ہوتا تو فرعون بھی قدر کو آپ پر پیش کرتا، اور اگر تقدیر گنہگار سے ملامت کے رفع کی دلیل ہوتی تو ابلیس فرشتوں کو سجدہ سے انکار کے گناہ پر تقدیر کو پیش کرتا۔ درحقیقت یہ اللہ کے خلاف سند پیش کرنا ہے۔

اللہ کے یہ دشمن قدریہ روزِ قیامت جہنم کی طرف کھینچ کر لے جائے جائیں گے۔ ان کی دلیل ان کے رب کے حضور باطل ٹھہرے گی۔ ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور انہیں دردناک عذاب ملے گا۔

صفحہ 7 از 10