فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 10

اب اگر تو یہ شخص یہ کہتا ہے کہ یہ کفر میں پیدا ہوا تھا اور ایمان کے ارادہ میں پیدا نہ ہوا تھا تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ یہ بات مکذب و متولی کے عذاب دیے جانے کے متناقض نہیں ۔ پس اگر اس نے تجھ میں ایمان کو پیدا نہیں کیا تو تو ان لوگوں میں سے ہے جن کو وہ عذاب دے گا، اور اگر اس نے تجھے مومن بنایا ہے تو تو ان لوگوں میں سے جن کو اس نے سعید بنایا ہے، اور ہم اس کے رسول ہیں جو تجھے پیغام پہنچاتے اور تجھے ڈر سناتے ہیں ، اور رسول کا مقصود حاصل ہو گیا اور بلاغ مبین بھی ہو گیا۔ اب یہ مکلف صرف اپنے رب سے جھگڑنے میں لگا ہے۔ کیونکہ اس نے اسے اس بات کا حکم دیا ہے جس پر وہ اس کی اعانت نہیں کر رہا، اور یہ بات نہ رسول سے متعلق ہے اور نہ اس کے حق میں مضر ہے۔ اللہ کسی کو جوابدہ نہیں اور سب اسے جوابدہ ہیں ۔

۱۰۔ دسواں جواب یہ ہے کہ یہی سوال خود اس امامی مصنف پر بھی وارد ہوتا ہے اور دیگر معتزلہ اور ان رافضہ پر بھی وارد ہوتا ہے جو ابو الحسین بصریٰ [اس کا تعارف گزر چکا ہے۔] کے پیروکار ہیں ۔ کیونکہ اس کا قول ہے کہ داعی اور قدرت کے ہوتے ہوئے مقدور کا وجود واجب ہوتا ہے، اور یہ کہ اللہ نے بندے میں داعی کو پیدا کر دیا ہوا ہے، اور ابو الحسین اور تقدیر کے باب میں اس کے پیروکاروں کا قول ہے اور یہی محققین اہل سنت کا بھی قول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بندے کی قدرت و ارادہ کو پیدا کیا ہے، اور یہ اللہ کے بندے کے فعل کی تخلیق کو مستلزم ہے، اور ان کا قول ہے کہ بندے حقیقت میں اپنے فعل کا فاعل اور اس کا محدث ہے۔ اسے فعل کا فاعل و محدث اللہ نے بنایا ہے۔

یہ اہل سنت کی جمہور جماعتوں کا اور اکثر اصحاب اشعری کا قول ہے۔ جیسے ابو اسحاق اسفرائینی، ابو المصالی امام الحرمین الجوینی وغیرہ۔

تو جب معتزلہ اور شیعہ کے محققین کا یہ قول تھا اور یہی جمہور اہلِ سنت اور ان کے آئمہ کا بھی قول ہے تو اختلاف قدریہ اور جہمیہ میں باقی رہ گیا کہ قدریہ کا یہ قول ہے کہ: داعی بندے کے قلب میں اللہ کی مشیئت و قدرت کے بغیر حاصل ہوتا ہے اور جہمیہ کا یہ قول ہے کہ بندے کی قدرت کی اس کے فعل میں کسی بھی اعتبار سے تاثیر نہیں ہے، اور بندہ اپنے فعل کا فاعل نہیں ۔ جو جہم اور اس کے پیروکاروں کا قول ہے۔ اگرچہ ان میں سے ایک کسبِ غیر معقول کو بھی ثابت کرتا ہے۔ جیسا کہ اشعری اور ان کے ہم نواؤں نے ثابت کیا ہے۔

جب اصل میں یہ نزاع صرف قدریہ اور جہمیہ میں رہ گیا کہ قدریہ اس بات کی نفی کرتے ہیں ۔ اللہ طاعات میں بندوں کا معین ہے اور وہ ان میں طاعات کا داعیہ پیدا کرتا ہے، اور اس کے ساتھ مومنوں کو خاص کرتا ہے۔ ناکہ کافروں کو، اور غالی جہمیہ جبریہ یہ کہتے ہیں کہ بندے کچھ بھی نہیں کرتے اور ان کی کسی بات پر قدرت ہے۔ یا یہ کہ ان کے پاس اگر قدرت ہے تو وہ اس کے ذریعے کچھ بھی نہیں کرتے، اور نہ اس قدرت کی کسی شے میں تاثیر ہے۔ تو یہ دونوں اقوال ہی باطل ہیں ۔

مزید یہ کہ اکثر شیعہ جہمیہ مجبرہ کا قول کرتے ہیں ۔

رہے اسلاف جو خلفائے اربعہ کی امامت کے قائل ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ دونوں اقوال ہی باطل ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ درست قول اہلِ سنت کا ہی ہے۔ پھر اگر ان میں سے کسی سے خطا ہوئی بھی ہے تو ان کی خطا شیعہ کی خطا سے بھی بڑی ہے۔

یہ سوال اس پر بھی وارد ہوتا ہے جو تقدیر کو دلیل بنانا جائز سمجھتا ہے، اور نافرمانی ہو جانے پر اپنے اور دوسرے کے لیے یہ عذر پیش کرتا ہے کہ یہ میرے مقدر میں لکھا تھا، اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مشہود، حقیقت کونیہ کے شہود میں ہیں ۔ ایسے لوگ بہت ہیں ۔ ان میں سے کوئی تو اس بات کا مدعی ہے کہ وہ اہل تونیہ کے ان خواص عارفین میں سے ہے جو توحیدِ ربوبیت میں فنا ہو گئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ عارف جب شہودِ توحید ربوبیت میں فنا ہو جاتا ہے تو اس کے نزدیک اچھائی اور برائی ایک ہو جاتی ہے، اور کسی کا یہ قول ہے کہ جسے ارادۂ کا شہود ہو جاتا ہے اس سے امر ساقط ہو جاتا ہے، اور کوئی کہتا ہے: خضر نے تکلیف ساقط ہے کیونکہ انہیں ارادہ کا شہود ہو گیا تھا۔ یہ بات متعدد متاخرین شیوخ، عبادت گزار، صوفیہ، فقراء میں بلکہ متعدد فقہاء، امراء اور عوام میں پائی جاتی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ ان معتزلہ اور شیعہ سے زیادہ بدتر ہیں جو امر و نہی کے قائل ہیں ، اور تقدیر کا انکار کرتے ہیں ۔ انہیں جیسے لوگوں کی بابت یہ معتزلہ اور شیعہ نام نہاد اہلِ سنت کی بابت زبانِ طن دراز کرتے ہیں ۔ کہ جو امر و نہی، وعدہ و وعید، ادائے واجبات اور ترکِ محرمات کا قائل ہو، اور یہ نہیں کہتا کہ اللہ بندوں کے فعل کا خالق ہے اور وہاس پر قادر نہیں ، اور نہ اس نے معاصی کو چاہا۔ اس نے امر کی تعظیم، ظلم سے اللہ کی تنزیہ اور اپنے اوپر اللہ کی حجت قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اس سے دلیل نہیں بن پڑی اور وہ اللہ کی قدرتِ تامہ، مشیئت عامہ اور خلق شاملہ میں اور اس کے عدل و حکمت، امر و نہی اور وعدہ و وعید میں جمع کی صورت پیدا نہیں کر سکا۔ پس اس نے اللہ کے حمد کو تو ٹھہرایا لیکن اس کے حکومتِ کاملہ کو نہ ٹھہرایا، اور جو لوگ اللہ کے لیے قدرت و مشیئت اور خلق کو ثابت کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اس کے امر و نہی اور وعدہ و وعید سے معارضہ کرتے ہیں ، وہ یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں ۔ جیسا کہ اس امامی مصنف نے کہا ہے:

رہا حق تو وہ جو بھی کہے گا ہم اسے ضرور قبول کریں گے، اور کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ بدعت کا رد بدعت سے کرے، اور باطل کا مقابلہ باطل سے کرے۔ اب اگرچہ تقدیر کے منکر بدعتی ہیں ۔ لیکن تقدیر کے ذریعے امر کے خلاف دلیل بنانے والے ان سے بھی بدتر بدعتی ہیں ۔ اگر وہ مجوسیوں کے مشابہ ہیں ، تو یہ مشرکوں اور مکذبین رسول کے مشابہ ہیں جو یہ کہتے تھے: اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ ہم کسی شے کو حرام قرار دیتے۔

صفحہ 6 از 10