فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 10

۶۔ چھٹا جواب یہ ہے کہ: یہ کہا جائے کہ یا تو ایسی بات طاعت کا مرید ہی کرے گا جو جانتا ہے کہ یہ اس کے لیے نافع ہے یا وہ کرے گا جو اس کے نافع ہونے کو نہیں جانتا، اور دونوں سے ہی ایسی بات کا ہونا ممتنع ہے۔ وہ یوں کہ جو طاعت کو اور اس کے نافع ہونے کو جانت اہے وہ عاجزی کی صورت کے سوا ہر صورت میں اطاعت کرے گا۔ کیونکہ قدرت کے ساتھ طاعت کا ارادۂ جازمہ طاعت کو واجب کرتا ہے۔ کیونکہ طاعت، قدرت، اور داعی تام کے وجود کے ساتھ مقدور کے وجود کو واجب کرتی ہے۔ لہٰذا جب طاعت شہادتین کا تکلم ہے تو جس میں اس کا ارادۂ جازمہ ہوگا وہ شہادتین ضرور پڑھے گا۔ کیونکہ قدرت اور داعی تام موجود ہے، اور جو ایسا نہ کرے گا تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتا۔

اگر وہ طاعت چاہنا ہی نہیں تو رسول سے اس کا یہ مطالبہ ہی ممتنع ہوگا کہ اللہ اس میں طاعت کو پیدا کرے۔ کیونکہ اگر وہ رسول سے اس کے اپنے اندر پیدا کیے جانے کا مطالبہ کرے گا تو وہ طاعت کا مرید ٹھہرے گا، اور سوائے مرید کے کوئی ایسی بات کر نہیں سکتا۔ طاعتِ مقدورہ کا مرید وہی ہوگا جو اسے کر گزرے گا۔

اس کی مزید تفصیل ساتویں جواب میں ملاحظہ ہو:

۷۔ ساتواں جواب یہ ہے کہ: اسے یہ کہا جائے گا کہ تو ایمان لا سکتا ہے اور اس پر قادر ہے۔ اگر تو نے اس کا ارادہ کیا تو کرے گا، اور اگر تم ایمان نہیں لاتے تو یہ تمہارا ارادہ نہ ہونے کی وجہ سے ہے ناکہ عدم قدرت اور عجزہ کی وجہ سےہے۔ یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ امر میں شرط قدرت فعل سے قبل عاصی اور مطیع دونوں میں ہوتی ہے۔ البتہ مع الامر یہ صرف مطیع میں ہوتی ہے۔ بخلاف مطیع کے مختص کے۔ کہ وہ صرف عل کے ساتھ پائی جاتی ہے۔

ہم بیان کر چکے ہیں کہ جس نے قدرت کو ایک ہی نوع قرار دیا ہے، جو یا تو فعل کے مقارن ہوگی یا فعل پر سابق ہوگی اس نے خطا کی ہے۔ یہ اس وقت ہے جب دو میں سے ایک نوع سے مراد فعل کو مستلزم امر کا مجموعہ ہو۔ جیسا کہ اکثر اہل کلام کی اصطلاح میں ہے۔ قدرت سے صرف مصحح ہی مراد ہو تو تب یہ قدرت ایک ہی نوع ٹھہرے گی۔ کیونکہ قدرت کی بابت کہ آیا وہ فعل کے ساتھ ہوتی ہے یا اس سے قبل؟ لوگوں کے متعدد اقوال ہیں :

(۱)....ایک یہ کہ قدرت صرف فعل کے ساتھ ہوگی۔ اس کا مبنی یہ امر ہے کہ قدرت فعل کو مستلزم ہے، اور وہ فعل کے ساتھ ہی ہوگی۔ پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قدرت عرض ہے اور عرض دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا۔

(۲)....دوسرا یہ کہ قدرت صرف فعل سے قبل ہوتی ہے۔ اس قول کا مبنی یہ ہے کہ قدرت صرف مصحح ہے، اور وہ فعل کے مقارن نہیں ہوتی۔

(۳)....تیسرا یہ کہ قدرت فعل سے قبل اور فعل کے ساتھ دونوں میں ہوتی ہے، اور یہ اصح قول ہے۔ پھر ان میں سے کوئی یہ کہتا ہے کہ قدرت کی دو انواع ہیں : مصححہ اور مستلزمہ۔ مصححہ فعل سے قبل ہوتی ہے اور مستلزمہ فعل کے ساتھ ہوتی ہے۔

کسی کا یہ قول ہے کہ قدرت صرف مصححہ ہی ہوتی ہے، اور وہ فعل سے قبل اور ساتھ دونوں زمانوں میں ہوتی ہے، اور رہا استلزام تو وہ ارادہ مع قدرت کے وجود کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، ناکہ نفسِ قدرت و ارادہ سے جو قدرت کے مسمی کا جز ہے، اور یہ قول لغتِ قرآن کے موافق ہے۔ بلکہ یہ سب امتوں کی لغات میں ہے، اور یہ اصح قول ہے۔

اب ہم یہ کہیں گے: تو قادرِ متمکن ہے۔ اس اللہ نے تم میں ایمان لانے پر قدرت پیدا کی ہے۔ لیکن تو خود ایمان نہیں لانا چاہتا، اور اگر وہ پیغمبر سے یہ کہے کہ تو اللہ سے یہ کہہ کہ وہ مجھے ایمان لانے والا بنا دے۔ تو وہ پیغمبر اسے کہے گا: اگر تو تو اللہ سے ایمان مانگتا ہے تو تو ایمان کا ارادہ کرنے والا ہے، اور اگر تو نہیں مانگتا تو تو اپنی اس بات میں جھوٹا ہے کہ وہ مجھے ایمان لانے کا ارادہ کرنے والا بنا دے۔

اگر وہ نبی سے یہ کہے کہ تو مجھے ایک ہی ایسی بات کا امر کیسے کرتا ہے جس کا اس نے مجھے ارادہ کرنے والا بنایا ہی نہیں ۔ تو یہ ارادہ کی طلب نہیں بلکہ مخاصمہ ہوگا، اور اس کا جواب دینا رسول کے ذمے نہیں ۔ بلکہ اس بات کا جواب نہ دینا انقطاع نہیں ۔ کیونکہ کسی کو بھی اجازت نہیں کہ وہ تقدیر کو آڑ بنائے۔

۸۔ آٹھواں جواب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ جسے بھی کوئی دوسرا کسی فعل کی طرف بلاتا اور اس کا امر دیتا ہے یا تو وہ اس بات کا مضر ہوگا کہ اللہ بندے کے ارادہ و افعال کا خالق ہے اور بندے وہی کرتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔ یا پھر وہ اس بات کا مضر نہ ہوگا، اور اس بات کا قائل ہوگا کہ بندے وہ بھی کرتے ہیں جو اس نے نہیں چاہا، اور وہ رب کےارادہ کے بغیر اپنے جیوں کے ارادات کو پیدا کرتے ہیں ۔

پھر اگر تو وہ شخص پہلی قسم میں داخل ہے تو وہ اس بات کا مضر ہے کہ اس پر یا کسی دوسرے پر ظلم کرنے والے ہر ظالم کے ارادۂ ظلم کو پیدا کیا گیا سو اس نے ظلم کیا، اور وہ ظالم کو اس بارے معذور نہیں سمجھتا، اور اسے کہا جائے گا کہ تو اس بات کا مضر ہے کہ مامور کی مخالفت کرنے والے کے لیے یہ بات حجت نہیں چاہے وہ جو کوئی بھی ہو۔

پس ثابت ہوا کہ تقدیر کو آڑ بنا کر پیغمبروں کو لاجواب کرنے کی کوشش دونوں میں سے کسی کے لیے ہم روا نہیں چاہے وہ مضر ہو یا منکر ہو۔

اگر کوئی یہ کہے: مدعی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک کورا کاغذ ہوتا ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ: یہی معاملہ ’’امر‘‘ کا بھی ہے کہ نفس امر میں حق یا تو اِن کا قول ہوگا یا اُن کا۔ دونوں صورتوں میں تقدیر کو حجت بنانا باطل ہے۔ پس مثبتین اور نفاۃ دونوں کا اس بات کے باطل ہونے پر اتفاق ہوا۔

۹۔ نواں جواب : یہ کہا جائے کہ رسالت کا مقصود مکذب اور عاصی کو عذاب کی خبر دینا ہے۔ جیسا کہ سیّدنا موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام نے فرعون سے یہ کہا تھا:

﴿اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰیo﴾ (طٰہ: ۳۸) 

’’بے شک ہم، یقیناً ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ بے شک عذاب اس پر ہے جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔‘‘

صفحہ 5 از 10