فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 10

۱۔ ایک یہ کہ یہ انقطاع ہے۔ اگر تقدیر کو حجت بنانا روا ہو۔ البتہ جب تقدیر کو دلیل بنانا باطل اور ایسا باطل ہے جو سب فطرتوں اور عقلوں میں لازم جاگزیں ہے تو سرے سے یہ سوال کرنا ہی لائقِ التفات نہیں ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات لوگوں کی عقل و فطرت میں راسخ ہے کہ جس سے کسی فعل اختیاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے ایسی دلیل لانا روا نہیں ہوتا، اور جو دوسرے سے اپنا قرض مانگے تو اسے جواب میں یہ کہنا جائز نہ ہوگا کہ جب تک اللہ مجھ میں دینے کا داعیہ پیدا نہ کرے گا میں قرض نہ دوں گا۔ اس طرح سے کا خریدا ثمن کے مطالبہ پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تک اللہ مجھ میں قدرت اور ادا کا داعیہ وغیرہ پیدا نہ کرے گا میں ثمن نہ دوں گا۔

یہ وہ امر ہے جس پر رب تعالیٰ نے ہر کافر و مسلم کو پیدا کیا ہے۔ چاہے وہ تقدیر کو مانتا ہو یا اس کا منکر ہو۔ تو جب عقل بدیہہ کے نزدیک اس اعتراض کا فاسد ہونا معروف ہے تو کسی کو روا نہیں کہ وہ اس بات کو پیغمبروں کے خلاف پیش کرے۔

۲۔ دوسرا یہ کہ: رسول ایسے کافر سے یہ کہے گا: میں تمہیں ڈرانے والا ہوں ۔ اگر تو نے میرے امر کا امتثال کیا تو سعادت نجات پا جائے گا، اور نہ کرنے کی صورت میں سزا دیا جائے گا۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر یہفرمایا تھا: ’’میں تمہیں صبح کو ہونے والے حملے سے آگاہ کرتا ہوں ! لوگوں نے کہا ٹھیک ہے (ہم سننے اور ماننے کو تیار ہیں ) پھر فرمایا: بھلا بتاؤ تو کہ اگر تمہیں یہ خبر دوں کہ صبح کو تم لوگوں پر حملہ ہونے والا ہے تو کیا تم لوگ میری تصدیق کرو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں پرکھا۔ (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں )۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمہیں آگے آنے والے ایک شدید عذاب سے ڈراتا ہوں ۔‘‘ [صحیح البخاری: ۶؍ ۱۱۱۔ کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الشعراء، عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ مع اختلافِ الفاظ۔] اور یہ بھی فرمایا: ’’میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں ۔‘‘ [صحیح البخاری: ۸؍ ۱۰۱ ۔ ۱۰۲۔ کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی عن ابی موسٰی الاشعری رضی اللّٰہ عنہ ۔]

یہ بات معلوم ہو کہ دشمن سے ڈرائے جانے والا کبھی ڈرانے والے کو یہ نہیں کہتا کہ: تو دعا کر کہ اللہ مجھ میں ایسی قدرت پیدا کر دے کہ میں بھاگ نکلوں ۔ بلکہ وہ فرار ہو جانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتا ہے۔ البتہ اللہ فرار میں اس کی اعانت کرتا ہے۔ پس ایسا کلام صرف وہی کرتا ہے جو رسولوں کا مکذب ہو۔ کیونکہ نذیر کو سچا سمجھتے ہوئے کوئی بھی فطرت یہ عذر نہ پیش کرے گی اور جب یہ کلام مکذبین کا ہے تو جو ان پر آفت آئے گی وہی اس پر بھی آئے گی۔

۳۔ جو رب کی تیسری صورت یہ ہے کہ ایسے شخص سے پیغمبر یہ کہے گا کہ اللہ سے ایسی بات کرنا میرے شایاں نہیں ۔ بلکہ میرے ذمے تو صرف اس کی رسالت کا پہنچانا ہے۔ میرے ذمے وہ ہے جو لگایا گیا اور تیرے ذمے وہ ہے جو لگایا گیا۔ میرے ذمہ ابلاغ رسالت ہے، سو وہ میں نے کر دی۔

۳۔ چوتھا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ پیغمبر یہ کہے: نہ مجھے اور نہ کسی اور کو یہ زیبا ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے یہ کہے کہ تو نے میرے اندر یہ کیوں نہ پیدا کیا اور وہ کیوں نہ پیدا کیا۔ کیونکہ لوگوں کے اقوال دو قسم پر ہیں ۔ ایک یہ کہ: حکمت کوئی نہیں ، بس نری مشیئت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے حکم دے دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ: اللہ کے حکم میں حکمت ہے۔ لہٰذا وہ جو کرتا ہے مبنی پر حکمت ہونا ہے اور وہی ترک کرتا ہے جس میں حکمت نہیں ہوتی۔

تو جب بات یہ ہے تو بندے کو اللہ کے سامنے ایسی بات کہنا روا نہیں ۔ اسی لیے رب تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ہُمْ یُسْئَلُوْنَo﴾ (الانبیاء: ۲۳) 

’’اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔‘‘

۵۔ پانچواں جواب یہ ہے کہ: وہ پیغمبر یہ کہے گا کہ: کسی فعل پر تیری اعانت کرنا، یہ اس کا فعل ہے، اور وہ جو فعل بھی کرتا ہے کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے، اور جو نہیں کرتا وہ حکمت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرتا، اور رہی نفسِ طاعت تو وہ تیرا فعل ہے جس کی مصلحت تجھے ہی ملے گی، اور اگر وہ اس باب میں تیری اعانت کرتا ہے تو یہ اس کا تجھ پر فضل ہوگا، اور اگر وہ نہیں کرتا تو یہ اس کا تیرے ساتھ عدل ہوگا۔ پس اس کا تجھے مکلف اس کی کسی حاجت کی وجہ سے نہیں ۔ جو وہ تیری اعانت کا محتاج بھی ہو۔ جیسا کہ آقا اپنے غلام کو اپنی مصلحت کے لیے امر دیتا ہے۔پھر اگر غلام غیر قادر ہو تو آقا اس کی اعانت کرتا ہے تاکہ امر کی مراد کی مصلحت اسے ملے۔ بلکہ اللہ کا امر ارشاد، ہدایت اور بندوں کو ان کی دنیا و آخرت کے حق میں مفید باتوں کی رہنمائی ہے۔ پس جو نفع و نقصان والے فعل کو جان لیتا ہے اور یہ کہ اسے نافع فعل کی احتیاج ہے۔ وہ ایسی بات کبھی نہیں کرتا کہ مجھے اس امر کی احتیاج تو ہے، پر کروں گا تب جب مجھ میں اس کا فعل تخلیق ہوگا۔ بلکہ ایسا آدمی تو امرِ الٰہی کے سامنے سراپا تسلیم و رضا ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اللہ اس کی اس فعل پر اعانت فرماتا ہے۔

جیسے اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ وہ دشمن تجھ پر حملہ کرنے والا ہے، یا یہ درندہ تجھے پھاڑ کھائے گا، یا سیلابی ریلا تیر اگھر ڈوبنے والا ہے، تو وہ ہر گز یہ نہ کہے گا کہ میں اس وقت بھاگوں یا بچوں گا نہیں ۔ جب تک اللہ مجھ میں بھاگنا پیدا نہ کرے گا، بلکہ وہ اسی وقت بھاگ کھڑا ہوگا اور اللہ سے اس پر اعانت مانگے گا۔ اسی طرح کھانے پینے کی اور لباس پوشاک کی ضرورت کے وقت بھی وہ یہ نہیں کہتا کہ جب تک اللہ مجھ میں یہ چیزیں پیدا نہ کرے گا۔ میں نہ کھاؤں پیوں گا اور نہ کچھ پہنوں گا۔ بلکہ وہ ان باتوں کا ارادہ اور کوشش کرے گا، اور اللہ سے اس کی تیسیر کا سوال کرے گا۔

پس انسانی فطرت اس بات پر بنائی گئی ہے کہ وہ قابلِ احتیاج چیزوں کو پسند کرتی ہے اور مضر اشیاء کو دفع کرتی ہے، اور اس پر رب تعالیٰ سے استعانت کرتی ہے۔ یہ اس فطرت کا موجب ہے جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا کیا ہے۔ اسی لیے اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ مامورات کی بجا آوری میں اس سے اعانت کا سوال کریں۔

صفحہ 4 از 10