فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 10

رب تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اسے یہ بات محبوب ہے کہ اس کی مدح بیان کی جائے۔ اس کے حضور عذر و معذرت کی جائے، اور اس نے بے حیائیوں کو حرام قرار دیا ہے، اور اسے عدل و احسان پر مدح کیا جانا پسند ہے، اور یہ کہ اس کی ظلم کے ساتھ تعریف نہ بیان کی جائے۔

یہ بات معلوم ہے کہ اس نے امر و نہی کو بیان کر دیا۔ پھر جو ان کو بجا لایا تو اس نے ان کی پریشانیوں اور تکلیفوں کو دور کر دیا۔ لیکن پھر جنہوں نے اس کے امر و نہی کی حد سے تجاوز کیا اس نے انہیں عذاب دیا اور ان سے انتقام لیا۔ پھر جبانہوں نے کہا کہ کیا یہ اللہ نے ہم پر مقدر نہ کیا تھا؟ اگر وہ چاہتا تو ہم نہ کرتے۔

تو ان کو یہ جواب ہے کہ تمہاری کوئی حجت نہیں اور نہ تمہارے کوئی عذر ہی بتلائے کہ جو تم نے کیا وہ نیکی اور خوبی تھا۔ یا یہ کہ تم اس میں معذور تھے۔ لہٰذا تمہارا یہ کلام غیر مقبول ہے، اور جو بیان اور اعذار گزرے ان کی رو سے تم پر حجت تمام ہو چکی۔ اگر حاکم کچھ لوگوں کو ایک رقم دے کر دوسرے شہر بھیجے اور وہ اسے رستے میں کسی ویرانے میں پھینک دیں جہاں کوئی نہ ہو، ادھر حاکم ہی کا ایک دستہ سفر جہاد میں ادھر آ نکلے اور وہ اس مال کو نقطہ سمجھ کر اٹھا لیں اور سنبھال لیں تو حاکم کو پہلے لوگوں کو اس بات پر سزا دینا روا ہوگا کہ انہوں نے حکم میں کوتاہی کی اور مال کی حفاظت نہ کرتے ہوئے اسے ضائع کر دیا۔

پھر اگر وہ یہ عذر کریں کہ آپ ہمیں بتا دیتے کہ آپ پیچھے ایک دستہ بھی روانہ کر رہے ہیں تو اس مال کی خاطر خواہ حفاظت کرتے اور حاکم انہیں یہ جواب دیں کہ یہ بات مجھ پر لازم نہ تھی۔ ہاں اگر میں ایسا کر دیتا تو یہ ایک گو نہ تمہاری امتثالِ امر میں اعانت ہوتی۔ لیکن مال کی حفاظت پھر بھی تم لوگوں کے ذمے تھی۔ جیسے امانتوں کی حفاظت ذمہ ہوا کرتی ہے تو اس ساری گفتگو حجت حاکم کی ہوتی اور وہ انہیں سزا دینے کی صورت میں ظالم بھی ٹھہرے گا۔ چاہے اس نے انہیں آگاہ نہ کر کے ان کی اعانت نہ بھی کی ہو تب بھی۔ البتہ مصلحت دونوں کے بھیجنے میں تھی۔

بلند مثال اللہ کے لیے ہے۔ وہ اپنے ہر فعل حکیم اور عادل ہے۔ اس کی قدرت و مشیئت سے کچھ خارج نہیں ۔ لہٰذا جب وہ بندوں کو خود انہی کی مصلحت کے لیے حدود کی حفاظت اور فرائض قائم کرنے کا حکم دیتا ہے تو یہ اس کا بندوں پر احسان ہے اور انہیں ان کی نفع رساں باتوں کا علم دینا ہے، اور جب اس نے دوسرے امور کو پیدا کیا اور بندوں نے ان دوسرے امور کی وجہ سے اس کے حدود و فرائض میں تفریط و اعتداء سے کام لیا جن کی وجہ سے انہیں ضرر بھی حاصل ہوا اور اس دوسری مخلوق کی پیدائش اس کی حکمت و مصلحت تھی تو وہ ان دونوں تخلیقوں میں عادل و حکیم ہے۔ چاہے اس نے پہلی مخلوق کی ایسی زیادتی کے ساتھ مدد نہ بھی کی ہو جس کی وجہ سے وہ تفریط و عدوان سے محفوظ رہ سکیں ۔ بالخصوص جب وہ جانتا بھی ہے اگر وہ اس زیادتی کو پیدا کرتا ہے تو اس سے زیادہ راجح مصلحت کا فوت ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ ضدین یکجا نہیں ہوا کرتیں ۔

غرض یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ تقدیر کو دلیل بنانا ایک بیمار دلیل ہے۔ کیونکہ اس میں علم کی رو سے بیان کردہ حق کی عدم اتباع ہے۔ کیونکہ انسان زندہ، حساس اور متحرک بالارادہ ہے۔

اسی لیے ارشاد نبوی ہے کہ: ’’سب سے سچے نام حارث اور ہمام ہیں ۔‘‘ [سنن ابی داؤد: ۶؍ ۳۹۴۔ کتاب الادب، باب فی تعبیر الاسماء۔]

حارث یہ کا سب و عامل کو کہتے ہیں اور ہمام بہت زیادہ ارادہ کرنے والے کو، اور ہم یہ قصد و ارادہ کے بالکل آغاز کو کہتے ہیں ۔ لہٰذا ہر انسان حارث بھی ہے اور ہمام بھی، اور متحرک بالارادہ بھی ہے، اور یہ حس و شعور کے بعد ہوتا ہے۔ کیونکہ ارادہ مراد کے شعور پر سبوق ہوتا ہے۔ لہٰذا محبت، شوق، طلب، اختیار اور ارادہ وغیرہ کا تصور شعور کے بعد ہی ہوتا ہے، اوریہی حکم ان امور کا بھی ہے جو شعور کی جنس میں سے ہیں ۔ جیسے حسل، علم، سمع، بصر، شم، ذوق اور لمسن وغیرہ۔ پس یہ شعور و ادراک یہ ارادہ محبت اور طلب پر سابق ہوتے ہیں ۔

ہر زندہ اس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ وہ مناسب و مفید کی محبت رکھتا ہے اور مکروہ و مضر سے بعض رکھتا ہے۔ لہٰذا جب وہ جب مناسب و نافع چیز کا تصور کرتا ہے تو اس کا ارادہ بھی کرتا ہے اور اسے سے محبت بھی کرتا ہے، اور جب وہ کسی مضر شے کا تصور کرتا ہے تو اس سے بھاگتا ہے اور اس سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن یہ تصور کبھی علم تو کبھی ظن و تخمین ہوتا ہے۔ لہٰذا جب اسے معلوم ہو جائے کہ اس کی مراد نافع ہے، مصلحت ہے اور مناسب ہے تو وہ حق و ہدایت پر ہوتا ہے، اور جب اسے اس بات کا علم نہیں ہوتا تو وہ ظن اور خواہش نفس کا پیروکار ہوتا ہے، اور جب ان کے پاس یہ علم آ جاتا ہے کہ اس میں تو کوئی مصلحت نہیں تو وہ حق سے منہ موڑنے کے لیے کسی ضد کی طرح تقدیر کو حجت بناتا ہے۔ ناکہ حق پر اعتماد کرنے کے لیے۔ لہٰذا اپنے ظاہر و باطن میں تقدیر کو وہی حجت بناتا ہے جسے اس بات کا علم نہ ہو کہ وہ حق پر ہے۔

تو جب بات یہی ہے تو پھر رسولوں کے خلاف تقدیر کو حجت بنانے والا اس بات کا مضر ہوگا کہ اس کے پاس اپنے موقف کی کوئی دلیل نہیں ، اور وہ بغیر علم کے کلام کر رہا ہے، اور ایسا آدمی اپنی بات میں باطل پر ہوتا ہے، اور جو بغیر علم کے حجت لائے اس کی حجت مردود ہوتی ہے۔ پھر یا تو وہ جاہل ہوتا ہے تو ایسا آدمی علم سے آراستہ ہو، اور وہ حق جاننے کے باوجود و خواہش نفس کا پیرو ہوتا ہے تو اس کے ذمہ ہے کہ حق پر چلے اور خواہش ترک کر دے۔ پس واضح ہو گیا کہ تقدیر کو حجت بنانے والا بے علم اور خواہشِ نفس کا پیرو ہوتا ہے، اور بھلا اس سے بڑھ کر بے راہ کون ہوگا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر خواہش کا پیرو ہو۔

اب اس مقام پر جواب کی کوئی صورتیں ہیں :

صفحہ 3 از 10