فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام…

فصل:....تقدیر کے بارے میں اہل سنت کے عقیدہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 10

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اس بات کی دعوت دی کہ وہ اللہ کے اس حق کو ادا کریں جو بندوں پر واجب ہے اور وہ اللہ کے امر کو بجا لائیں تو ان لوگوں نے بھی تقدیر کو آڑ بنایا اور اللہ کے حق کے ترک پر اور اس کے امر کی مخالفت پر تقدیر کو حجت بنایا اور جو بات پسند نہ تھی اسے تقدیر کی آڑ میں قبول نہ کیا۔

صحیحین میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا:

’’اے معاذ! کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ اس کا بندوں پر یہ حق ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔اور کیا تو جانتا ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ بندوں کا اس پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔‘‘[صحیح البخاری: ۸؍۱۰۵۔ کتاب الرقاق، باب من جاہد نفسہ فی طاعۃ اللّٰہ۔]

تقدیر کو حجت و جاہل لوگ پکڑا کرتے تھے جن کے پاس اس بات کا کوئی علم نہ ہوا کرتا تھا کہ کرنا کیا ہے اور کیا ترک کرنا ہے۔ وہ صرف ظن کے پیروکار تھے۔ اٹکل کے تیر چلاتے تھے۔ وہ تقدیر کو صرف اللہ کے حق کے ترک میں اور اس کی نافرمانی پر جسارت میں حجرت بناتے تھے، ناکہ اپنے حق کے ترک میں اور دوسرے کا ظلم سہنے میں ، اور نہ اپنے امر کی مخالفت میں ۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ نام نہاد درویش، صوفیاء، عوام، مجاہد اور فقہاء وغیرہ ظن کی پیروی اور خواہش نفس کی اتباع کے وقت تقدیر کی طرف دوڑتے تھے۔ اگر ان کے پاس علم و ہدایت ہوتی تو کبھی بھی تقدیر کو حجت نہ بناتے۔ ہاں علم وہدایت نہ ہونے کے وقت کے وقت وہ اسی تقدیر پر اعتماد کرتے ہیں ۔

یہ بڑی بزرگ اور اہم اصل ہے جو بھی اس پر توجہ دے گا وہ جان لے گا کہ اکثر لوگوں کی ضلالت و غوایت کا منشا یہی ہے۔ اسی لیے ہم کتاب و سنت اور امر و نہی کے پیروکار مشائخ کو کثرت کے ساتھ علم و شرع کی اتباع کرنے کی وصیت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ کیونکہ انہیں متعدد اشیاء میں اِرادات اور ان کی محبت عارض ہوتی ہے، اور وہ اپنی خواہشات کو اللہ کا دین سمجھ کر، ان کی پیروی کرنے میں لگ رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس سوائے ظن، ذوق اور وجد کے اور کچھ نہیں ہوتا جس کا مرجع نفس کی محبت و ارادت ہوتا ہے۔ چنانچہ کبھی تو وہ تقدیر کو حجت بناتے ہیں اور کبھی ظن اور اٹکل کو۔ لیکن درحقیقت وہ خواہش نفس کے پیروکار ہوتے ہیں ۔ اگر وہ علم کی پیروی کریں جو شارع کی شریعت ہے تو وہ ظن اور خواہشاتِ نفس کے دام تزویر سے باہر آ جائیں ، اور اپنے رب کے حکم کے پیروکار بن جائیں ، جو سراسر ہدایت ہے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰی﴾ (طٰہ: ۱۲۳) 

’’پھر اگر کبھی واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کے پیچھے چلا تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔‘‘

رب تعالیٰ نے سورۂ انعام، سورۂ نحل اور سورۂ زخرف وغیرہ میں مشرکین کی طرف سے اس معنی کو ذکر کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

﴿وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنَاہُمْ مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِِنْ ہُمْ اِِلَّا یَخْرُصُونَ﴾ (الزخرف: ۲۰)

’’اور انھوں نے کہا اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ، وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں ۔‘‘

رب تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس بارے ان کے پاس کوئی علم نہیں ، وہ صرف اٹکل کرتے ہیں ، اور سورۂ انعام میں ارشاد ہے:

﴿قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ﴾ (الانعام: ۱۳۹) 

’’کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے۔‘‘

یعنی رسولوں کو بھیجنے اور کتابوں کو اتارنے کے ذریعے۔

اور فرمایا:

﴿لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ (النساء: ۱۶۵) 

’’تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہ جائے۔‘‘پھر رب تعالیٰ نے یہ فرما کر قدر کو ثابت کیا ہے:

﴿فَلَوْشَآئَ لَہَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَo﴾ (الانعام: ۱۳۹) 

’’سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔‘‘

رب تعالیٰ نے حجت شرعیہ کو ثابت کیا اور مشیئت قدریہ کو بیان کیا، اور یہ دونوں حق ہیں ، ارشادربانی ہے:

﴿وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَآئَ اللّٰہُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ نَّحْنُ وَ لَآ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَہَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴾ (النحل: ۳۵) 

’’اور جن لوگوں نے شریک بنائے انھوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اس کے سوا کسی بھی چیز کی عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بغیر کسی بھی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے تو رسولوں کے ذمے صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا اور کیا ہے؟‘‘

رب تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ یہ کلام دراصل پیغمبروں کی لائی تعلیمات کی تکذیب ہے۔ جو ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں ، اور اگر یہ کلام محبت ہوتا تو ہر سچے کو جھٹلانے اور ہر ظلم کو سراہنے کی قوی دلیل ہوتا۔ بنی آدم کی فطرت میں یہ بات ہے کہ یہ کلام صحیح دلیل نہیں ۔ بلکہ اسے وہ دلیل بناتا ہے جو علم سے تہی دامن اور ظن کا پیروکار ہو۔ جیسے ان لوگوں نے کیا جنہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ بلکہ اللہ نے رسولوں کو بھیج کر اور کتابیں اتار کر حجت تمام کر دی ہے۔ جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’اللہ سے بڑھ کر کسی کو یہ محبوب نہیں کہ اس کے حضور عذر پیش کیا جائے۔ (یعنی اللہ کو بندہ کی اس کی جناب میں عذر خود ہی بے حد محبوب ہے) اور اسی لیے اس نے اپنی تعریف بیان کی ہے، اور اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں ۔ اسی وجہ سے اس نے بے حیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ ظاہری بے حیائیوں کو بھی اور باطنی بے حیائیوں کو بھی۔‘‘ [صحیح البخاری: ۶؍ ۵۷۔ کتاب التفسیر سورۃ الانعام: باب: ﴿ولا تقربوا الفواحش﴾ عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مع اختلاف الالفاظ۔]

صفحہ 2 از 10